اتوار، 30 نومبر، 2025

*Pakhtunkhwa government decides to investigate alleged rigging in Haripur by-election*

*💥پختونخوا حکومت کا ہری پور ضمنی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کی انکوائری کا فیصلہ*

*🌼وزیر اعلیٰ نے ہری پور ضمنی الیکشن کی انکوائری کا حکم دیا ہے، کلاس فور سے لیکر ڈی سی تک انکوائری ہو گی، کوئی ملوث پایا گیا تو سخت سزا دیں گے: معاون خصوصی کے پی حکومت*

ہفتہ، 29 نومبر، 2025

There is a famous incident where a Bhangi was given the opportunity to appear in the court of a king and a strange thing happened.


دربار میں داخل ہوتے ہی وہ دھڑام سے فرش پر گرا اور بےہوش ہوگیا۔
اسے ہوش میں لانے کی سر توڑ کوشش کی گئی مگر بے سود...

آخر ایک دانا درباری نے ایک گندگی سے آلودہ جوتا لانے کا مشورہ دیا،

جوتا لایا گیا تو دانا نے کہا،
"اس بھنگی کو یہ جوتا سونگھایا جائے۔"

بظاہر اس بے سر و پا دکھائی دینے والےحکم پر بادل نخواستہ عمل درآمد کیا گیا تو یہ دیکھ کر درباریوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بھنگی عالم بے ہوشی کو خیر باد کہہ کر عالم ہوش میں آگیا۔

یعنی جو کام شاہی حکیم کی اعلی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ قیمتی دوائیں نہ کر سکیں، غلاظت سے بھرا جوتا وہ کمال دکھا گیا!

سب لوگ دانا درباری سے ہوچھنے لگے،
"یہ کیا ماجرا ہے..؟"

تب اس نے جو حکمت بتائی وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھ دی گئی،
اس نے کہا،
"اس بھنگی کی عمر گندگی اور غلاظت کی رفاقت میں بسر ہوئی اور اب یکا یک اسے شاہی دربار کی نفیس خوشبوؤں میں دھکیل دیا گیا جس کی اس کو عادت نہیں تھی۔
چونکہ اس کی طبیعت میں اس نفاست کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ تھی تو یہ برداشت نہ کرسکا اور اپنے حواس کھو بیٹھا۔
اور جب اس کو اس کی طبیعت کے موافق ماحول دیا گیا تو فورا اس کو قبول کرتے ہوئے ہوش میں آگیا۔"

اس واقعے کو پڑھنے کے بعد مجھے کئی بھٹکتے سوالوں کے تسلی بخش جواب مل گئے...
آئیے آپ بھی سنیے اور سر دھنئیے...
ہم ٹی وی کے سامنے بیٹھ جائیں تو بلامبالغہ گھنٹوں کے گزر جانے کا احساس تک نہیں ہوتا جبکہ نماز شروع کردیں تو پانچ منٹ گزارنے محال ہو جاتے ہیں۔

ناول پڑھنا شروع کریں تو لگاتار بہت سا ٹائم اسے پڑھنے میں گزارنا بے حد سہل معلوم ہوتا ہے اور اگر تلاوت قرآن کی توفیق مل بھی جائے تو سر سے اتارنے کی کوشش ہوتی ہے..
محافل دینیہ میں شمولیت کا وقت نہیں ملتا جبکہ بازاروں میں وقت کے گزرنے کا پتہ نہیں چلتا..
ایک طرف درباری اور دوسری طرف بھنگی..
ہمارا شمار کس میں ہے ؟؟؟
#MIAN KHUDA BUKHSH ABBASI 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

جمعہ، 28 نومبر، 2025

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد یحییٰ خان کی گم نامی سقوطِ ڈھاکہ کے محض چار دن بعد 20 دسمبر 1971ء کو جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے صدارت اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات ذوالفقار علی بھٹو کے سپرد کر دیے

، یوں ایک فوجی حکمران کا اقتدار خاموشی سے اپنے انجام کو پہنچا۔ نئے حکمران نے ملک کی سیاسی، عسکری اور انتظامی خرابیوں کا بڑا حصہ یحییٰ خان کی پالیسیوں اور فیصلوں پر ڈال کر نہ صرف انہیں اقتدار کے ایوانوں سے بے دخل کیا بلکہ اخلاقی و سیاسی طور پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ بھٹو صاحب نے عوامی غصے کے طوفان اور سیاسی دباؤ کے پیشِ نظر جنرل یحییٰ خان کی نقل و حرکت محدود کر کے انہیں نظربند کرنے کا فیصلہ کیا اور جنوری 1972ء میں باضابطہ طور پر گھر میں قید کروا دیا۔ راولپنڈی کے آرمی ہاؤس/ہارلے اسٹریٹ کے اس گھر تک صرف چند سرکاری اہلکار، سکیورٹی اسٹاف اور منتخب افسران کو رسائی حاصل تھی، عام شہری تو درکنار، صحافی بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے، یوں ایک سابق صدر اور فوجی حکمران اچانک عوامی منظرنامے سے غائب ہو گیا۔ اُس کے بعد برسوں تک نہ یحییٰ خان کا کوئی باقاعدہ بیان منظرِ عام پر آیا، نہ کسی اخبار کو انٹرویو ملا، نہ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر ان کی آواز سنائی دی۔ قومی سانحے کے بعد قوم جاننا چاہتی تھی کہ اقتدار کی راہداریوں میں کیا ہوا، فیصلے کیسے ہوئے، مگر جس شخص کے دستخطوں سے تاریخ کا دھارا بدل گیا، وہ اختیارات چھن جانے کے بعد مکمل خاموشی اوڑھ کر اپنے ہی سائے سے باتیں کرتا رہ گیا۔ جولائی 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا لگا کر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت برطرف کی تو اسی سیاسی طوفان کے درمیاں یحییٰ خان کی نظر بندی ختم ہوئی اور انہیں رہائی مل گئی۔ نئی فوجی حکومت کو امید تھی کہ شاید وہ ماضی کے راز افشا کریں گے، سقوطِ ڈھاکہ، جنگِ 1971ء اور اندرونی سازشوں پر روشنی ڈالیں گے، مگر یحییٰ خان نے بیان بازی سے مکمل گریز کیا اور حمود الرحمن کمیشن کو دی گئی اپنی گواہی ہی کو حرفِ آخر قرار دیا۔ آزادی ملنے کے باوجود وہ عملی طور پر گوشہ نشین ہی رہے، نہ سیاسی بحث میں شریک ہوئے، نہ کسی نئی مہم جوئی کا حصہ بنے، حالانکہ ان کے خلامقدمات کی بازگشت، الزامات اور تنقید کا سلسلہ جاری رہا۔ وہ اپنی بقیہ زندگی راولپنڈی کی ہارلے اسٹریٹ کے ایک نسبتاً مختصر سے گھر میں گمنامی اور سکوت کے ساتھ گزارتے رہے، جہاں سے کبھی کبھار بیماری کے علاج کے لیے باہر آنا جانا ہی ان کی ’سرکاری خبر‘ بن جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک زمانہ تھا جب انہی یحییٰ خان کے گرد طاقت کے متلاشی سیاست دانوں، درباریوں اور خوشامدیوں کے ہجوم ہوتے تھے، محفلیں گرم رہتی تھیں، فیصلوں کی بازگشت دارالحکومت سے مشرقی پاکستان تک سنی جاتی تھی۔ لیکن سقوطِ ڈھاکہ کے بعد وہی شخص تنہائی، ندامت، بیماری اور خاموشی کے حصار میں ایسا قید ہوا کہ تاریخ کی عدالت تو انہیں کٹہرے میں کھڑی کرتی رہی، مگر خود ملزم نے اپنا دفاع عوام کے سامنے پیش کرنا گوارا نہ کیا۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ جس جنرل کے دور میں مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا، اس کی آخری رسومات بھی قومی سطح پر معمولی خبر بن کر رہ گئیں؛ 1980ء میں محض 63 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے تو نہ کوئی بڑے اجتماع کی گونج تھی، نہ کسی بڑے اعتراف یا تلافی کا اعلان۔ یوں ایک فوجی حکمران کی کہانی اقتدار کے ہنگاموں سے شروع ہو کر گمنامی اور سکوت میں ختم ہوئی، اور آج بھی سقوطِ ڈھاکہ کے ملبے تلے دبے سوال جواب کے منتظر ہیں کہ اصل ذمہ دار کون تھا، فیصلہ کہاں غلط ہوا اور کس موڑ پر تاریخ کا رُخ بدل گیا۔  

انجنیئر اوم پرکاش ڈسٹرکٹ بیورو چیف عمرکوٹ۔۔*درویش جاکھرانی بلوچ – آسٹریلیا تک کا سفر*انیس صدی کے آخری عشروں میں جب برصغیر اور بلوچستان کے باسی روزگار، تجارت اور نئی دنیا کی تلاش میں دور دراز خطّوں کا سفر کرتے تھے، انہی مسافروں میں بیجا درویش جاکھرانی بلوچ کا نام بھی آتا ہے۔


بیجا درویش کا تعلق جاکھرانی بلوچ قبیلے کے ایک معزز خاندان سے تھا۔ کم عمری ہی سے انہیں دیہی زندگی، مالداری، گھوڑوں اور اونٹوں سے خاص لگاؤ تھا۔ انہی مہارتوں نے انہیں ایک ایسے سفر کی طرف دھکیل دیا جو آخرکار انہیں دنیا کے سب سے دور دراز براعظم آسٹریلیا تک لے گیا۔
اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے سفر کی دعوت
اس زمانے میں آسٹریلیا کے اندرونی علاقوں (Outback) کو آباد کرنے اور ریل لائنیں بچھانے کے لیے ماہر اونٹ بان اور مالداروں کی ضرورت تھی۔
برطانوی ٹھیکیداروں نے بلوچستان، سندھ اور موجودہ افغانستان کے علاقوں سے بلوچ، پشتون اور پاکستانی اونٹ بانوں کو بھرتی کرنا شروع کیا۔
اسی مہم میں بیجا درویش جاکھرانی بلوچ نے بھی شمولیت اختیار کی۔
سمندر پار کا لمبا سفر
کراچی یا بمبئی کی بندرگاہ سے بیجا درویش نے ایک لمبے بحری سفر کا آغاز کیا۔
سفر 30 سے 40 دن کا ہوتا تھا، جس میں:
سخت سمندری طوفان
محدود خوراک
اور دوری کا غم

جیسے مراحل شامل تھے۔
لیکن بیجا درویش اپنے قبیلے کی روایت کے مطابق بہادر، ثابت قدم اور مقصد کے پکے تھے۔
آسٹریلیا میں بلوچوں کا کردار
آسٹریلیا پہنچ کر بیجا درویش کو "کیمیل مین" یعنی اونٹ بان کہا جاتا تھا۔
انہوں نے:
ریلوے لائنیں بچھانے
صحرائی علاقوں میں سامان پہنچانے
دور دراز بستیوں تک راشن سپلائی کرنے
اور Outback کو آباد کرنے میں
اہم کردار ادا کیا۔
بلوچ اونٹ بانوں کو وہاں کے لوگ Afghan Cameleers کہتے تھے، حالانکہ وہ بڑی تعداد میں بلوچ تھے۔
بیجا درویش کی پہچان
بیجا درویش جاکھرانی اپنی راست گوئی، درویش مزاجی اور محنت کی وجہ سے وہاں کے لوگوں میں ایک معزز شخصیت بن گئے۔
ان کی وجہ سے کئی مزید بلوچ خاندان آسٹریلیا پہنچے۔
یہ بلوچ آج بھی آسٹریلیا کی تاریخ میں "Cameleer Community" کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
درویش نے پہلی مسجد وہا بنائی جو مری نام سے جمع مسجد 
مشھور ہے 
وہا ایک دریاں بھتا ہے 
اسے بھی مری دریاں کھا جاتا ہے 
۔اور آج آسٹریلیا میں کثیر تعداد میں بلوچ آباد ہیں سلیمانی لیحجہ اور مکرانی لیحجہ میں بات کرتے 
اور اپنے علاقے کو اور قومیت کو بلوچ قوم سے ظاھر کرتے ہیں 
بشکریہ ،میر حسن بلوچ
۔






#بلو

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف سندھ چکوال کے دور افتادہ گاؤں ملہال مغلاں میں جب یہ بچہ پیدا ہوا تو دو تین سال میں ہی اس کے والدین دنیا سے کوچ کر گئے ۔


یوں یہ بچپن سے ہی ظالم دنیا کی ٹھوکروں میں آ گیا ۔
ہماری سوسائٹی میں ایک یتیم بچے کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے یہ سب اس نے جھیلا ۔
بمشکل میٹرک اور ایف ایس سی کیا اور پاکستان آرمی میں کمیشن اپلائی کیا جس میں یہ کامیاب ہو گیا ۔ کاکول سے گریجویشن کے بعد اسے آٹھ سندھ رجمنٹ میں بھیجا گیا جہاں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا 
اس نوجوان لیفٹیننٹ سے ضروری دستاویزات مکمل کرواتے ہوئے پوچھا گیا کہ اپنے وارث کا نام لکھواوو تو یہ نوجوان سوچنے لگا ۔۔۔ نا ماں نا باپ نا بہن نا بھائی اور نہ ہی کوئی اور قریبی رشتہ 
اس نے کچھ سوچ کر وارث کے خانے میں آٹھ سندھ رجمنٹ کا نام لکھا 
یہ محنتی اور تحمل مزاج نوجوان ترقی کے مدارج طے کرتا گیا یہاں تک کہ ایک دن پاکستان کی تمام افواج کا چیف بن گیا 
ہم جنرل ساحر شمشاد مرزا کی بات کر رہے ہیں 
جسے اس کے دوست فوج کا معمار کہ کر پکارتے تھے ۔ اس جنرل نے ماڈرن وارفیئر اور سٹریٹجک پلاننگ میں پاکستان فوج کو بلند مقام پر لا کھڑا کیا ہے ۔ جنرل ساحر شمشاد فوج میں اپنے پر سکون رویے اور مظبوط اعصاب کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا ۔
جنرل ساحر کی یہ ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جہاں ایک یتیم و یسیر بچہ اپنی محنت اور قابلیت سے اس میں سے اونچے مقام پر فائز ہو سکتا ہے 
ویلڈن جنرل ساحر شمشاد مرزا فرزند پاکستان.
منقول

*احسان و محسن*ايک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسي شہر ميں ايک بہت ہي غريب لڑکا رہتا تھا۔ لڑکا غريب ضرور تھا مگر انتہائي باہمت تھا۔ وہ اپني روز مرّہ زندگي کے اخراجات کو پورا کرنے کے ليۓ مزدوري کيا کرتا تھا۔ اُن دنوں وہ گلي محلوں ميں چھوٹي موٹي چيزيں بيچ کر اپنے کھانے پينے اور پڑھائي کا خرچہ نکالتا تھا۔ ايک دن وہ ايک محلے سے گزر رہا تھا کہ اسے شديد بھوک کا احساس ہوا۔



اس نے پیسے ديکھنے کے ليۓ اپني جيب ميں ہاتھ ڈالا مگر اسے اس وقت شديد مايوسي ہوئي جب اسے يہ معلوم ہوا کہ جيب ميں تو صرف ايک ہي سکہ باقي رہ گيا ہے اور اس ايک سکے سے تو کھانے پينے کي کوئي بھي چيز نہيں خريدي جا سکتي ۔ اس نے فيصلہ کيا کہ کسي قريبي گھر سے غذا مانگ لي جاۓ۔ اتفاقي طور پر اس نے ايک گھر کا دروازہ کھٹکھٹايا 

۔ ايک جوان مگر با ادب لڑکي نے دروازہ کھولا ۔ لڑکے نے جب اس لڑکي کو ديکھا تو اپنے حواس کھو بيٹھا اور کھانے کے لئے کچھ مانگنے کي بجاۓ صرف پاني کا ايک گلاس ہي طلب کيا - لڑکي سمجھ گئي ۔ کہ يہ لڑکا بہت بھوکا ہے اس لئے اس نے دودھ کا ايک گلاس لا کر لڑکے کو دے ديا ۔ لڑکے نے بڑے سکون کے ساتھ دودھ پيا۔ اور لڑکي کي طرف متوجہ ہوا۔ اور کہنے لگا کہ اس دودھ کے کتنے پيسے دوں ؟

لڑکي نے جواب ديا کہ کچھ دينے کي ضرورت نہيں ہے۔ ہماري والدہ نے ہميں يہ سکھايا ہے کہ نيکي کرکے اس کا صلہ مت مانگو - لڑکے نے اس لڑکي کا بڑے مؤدبانہ انداز ميں شکريہ ادا کيا اور وہاں سے رخصت ہوگيا- یہ بات آئی اور گئی۔

کئی سالوں کے بعد وہ لڑکي بيمار ہو گئي۔ اس علاقے کے ڈاکٹروں نے اس کي بيماري کا علاج کرنے سے معذرت کر لي اور اسے علاج کے ليۓ شہر بھيج ديا تاکہ شايد شہر کے ماہر ڈاکٹر اس کي بيماري کا علاج کرنے ميں کامياب ہوجائيں۔
اس لڑکي کا معائنہ کرنے کےلئے ایک بڑے اور مشہور ڈاکٹر کو بلايا گيا۔

 جب ڈاکٹر کو معلوم ہوا کہ مريض فلاں شہر سے آيا ہے تو اس پر ايک عجيب سي کيفيت طاري ہوگئي ۔ تيزي کے ساتھ اس نے ڈاکٹروں والا مخصوص لباس پہنا اور اس مريض کے کمرے کي طرف گيا۔ جيسے ہي وہ کمرے ميں داخل ہوا اس نے پہلي ہي نظر ميں لڑکي کو پہچان ليا۔

ڈاکٹر نے اپنے عملے کو فوري حکم ديا کہ اس مريض کے معالجے کے ليۓ فوري طور پر تمام ضروري اقدامات کيے جائيں۔ اس عورت کي ہر طرح سے ديکھ بھال کي گئي اور اس کا بڑي محنت اور دقت کے ساتھ علاج کيا گيا۔

آج اس مريضہ کا ہسپتال ميں آخري دن تھا۔ ہسپتال کا بل ادا کرنے کے ليۓ وہ عورت بےحد پريشان تھي اور يہ سوچ رہي تھي کہ شايد ساري عمر اس ہسپتال کا بل ادا نہيں کر پاۓ گي۔ ڈاکٹر نے بل اپنے پاس منگوايا اور اس کاغذ کے کنارے پر ايک جملہ لکھا اور اسے ايک پيکٹ ميں بند کرکے عورت کو ارسال کر ديا ۔

عورت کے ہاتھ ميں جب يہ لفافہ پہنچا تو اس نے پريشاني کے عالم ميں اس لفافے کو کھولا ۔ وہ يہ ديکھ کر بہت حيران ہوئي کہ بل پر رقم کے بجاۓ چند کلمات درج ہيں ۔ عورت نےغور سے ان کلمات کو پڑھا ۔ بل پر درج تھا ۔۔۔

“اس بل کي ادائيگي پہلے ہي دودھ کے ايک گلاس کي صورت ميں ہو چکي ہے”۔

• سبق:- جب کبھی کسی پر احسان کیا جائے تو اس احسان کے عیوض کسی بھی چیز کی تمنا کئے بغیر کیا جائے تبھی اک چھوٹے سے احسان کے بدلے اللّٰه تعالٰی بے شمار عطا کرتا ہے جیسا کہ مندرجہ بالا واقعہ میں عطا ہوا۔

● نوٹ :- عمدہ قسم کے سبق آموز واقعات وحکایات کیلئے آج ہی ہمارا چینل لائک شیئر اور فالو کر لیں۔۔۔
 
جزاک اللہ خیرا کثیرا

اتوار، 23 نومبر، 2025

*💥Farmers in Rahim Yar Khan set their crops on fire over non-increase in sugarcane prices*Report by Mian Khudabakhsh Abbasi Rahim Yar Khan


رحیم یارخان میں کاشتکاروں نے گنے کے نرخوں میں اضافہ نہ ہونے پر فصل کو آگ لگا دی۔

کاشتکاروں کی جانب سے گنے کو آگ لگانے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ڈیزل اور کھاد مہنگی ہونے پراخرجات پورے نہیں ہو رہے۔

کسانوں نے مطالبہ کیا کہ گنےکی فی من قیمت 600 روپےکردی جائے۔

NEWS HEADLINES BBC PAKISTAN NEWS DIGITAL URDU ENGLISH

*خبروں کی تفصیل* *منگل 24 ذیقعدہ 1447ھ* *12 مئی 2026ء* ٹرمپ، جنگ بندی ختم کرنے کی دھمکی، سیز فائر وینٹی لیٹر پر ہے، امریکی صدر، معاہدہ کیلئے...