جمعرات، 26 مارچ، 2026

The waiting hours are over, PSL 11 starts today

*انتظار کی گھڑیاں ختم، پی ایس ایل 11 کا آج سے آغاز*
لاہور: پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔

پی ایس ایل کے افتتاحی میچ میں دفاعی چیمپیئن لاہور قلندرز اور لیگ میں شامل ہونے والی نئی ٹیم حیدر آباد کنگز مین مد مقابل ہوں گی۔

کرکٹ کے دیوانے اپنے پسندیدہ ایونٹ کو دیکھنے کے لیے بےتاب ہیں لیکن اس بار میچز بس ٹیلی ویژن اور لائیو اسٹریمنگ پر ہی دیکھے جاسکیں گے۔

خطے میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی بحران سے بچنے کےلیے حکومتی فیصلے کے باعث گراؤنڈ میں شائقین موجود نہیں ہوں گے۔

پاکستان سپر لیگ 11 کے میچز پاکستان کے اسپورٹس چینل جیو سوپر اور ڈیجیٹل ایپ مائیکو سے براہ راست نشر کیے جائیں گے۔

Ministry of Religious Affairs releases Hajj flight schedule Islamabad: The Ministry of Religious Affairs has released the Hajj flight schedule.

*وزارتِ مذہبی امور نے حج پروازوں کا شیڈول جاری کردیا*
اسلام آباد: وزارتِ مذہبی امور نے حج پروازوں کا شیڈول جاری کردیا۔

 پاکستان سے حج پروازوں کا آغاز 18 اپریل سے ہوگا اور آخری پرواز 21 مئی کو اڑان بھرے گی۔

 عازمینِ حج پاک حج موبائل ایپ کے ذریعے اپنی پرواز کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں جب کہ حج پروازوں کی معلومات وزارت کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔

 وزارتِ مذہبی امور کے مطابق عازمینِ حج آئندہ اعلانات کے لیے پاک حج 2026 موبائل ایپ دیکھتے رہیں۔

Dhaka: 18 people killed as passenger bus falls into river

*ڈھاکا: مسافر بس دریا میں گرنے سے 18 افراد جاں بحق*

ڈھاکا: مسافر بس دریائے پدما میں گرنے سے 18افراد جاں بحق ہوگئے۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بس کو حادثہ بدھ کی شام کو پیش آیا جس میں اب تک 18 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔

مقامی ریسکیو کا کہنا ہےکہ بدھ کی شام 5 بجے کے قریب مسافروں سے بھری بس اس وقت بے قابو ہوگئی جب اسے ایک فیری میں سوار کیا جارہا تھا، اس دوران بس تقریباً 30 فٹ گہرے پانی میں ڈوب گئی، بس میں 50 مسافر سوار تھے جن میں سے بعض افراد کو ریسکیو کرلیا گیا جب کہ 18 افراد جاں بحق ہوگئے۔

حکام کے مطابق حادثے میں مرنے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں جب کہ ریسکیو کیے گئے افراد کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، حادثے کے بعد کچھ مسافر لاپتا ہیں جن کی لاش کے لیے غوطہ خوروں کی مدد لی گئی ہے۔

حکام کے مطابق علاقے میں طوفانی ہواؤں اور بارش کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔

China's major shipping company resumes bookings for some Gulf countries

*چین کی بڑی شپنگ کمپنی نے بعض خلیجی ممالک کیلئے بکنگ دوبارہ شروع کردی*

چین کی بڑی شپنگ کمپنی نے تین ہفتوں کی بندش کے بعد کچھ خلیجی ممالک سے شپمنٹس کی نئی بکنگ دوبارہ شروع کر دی۔

کمپنی کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور عراق کے لیے جنرل کارگو کنٹینروں کی نئی بکنگ فوری شروع کر دی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث نئی بکنگ کے انتظامات اور سامان میں بوقت ضرورت تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

 خیال رہے کہ چینی شپنگ کمپنی نے جنگ کی وجہ سے خلیجی ممالک سے شپمنٹس کی بکنگ روک دی تھی۔

ماہرین کے مطابق چینی شپنگ کمپنی کا مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تجارتی عمل کا دوبارہ شروع کرنا خطے کی صورتحال میں بہتری کا اشارہ ہے۔

White House spokesman: Iran will launch more severe attacks if it does not admit defeat

*ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو مزید سخت حملے کریں گے، ترجمان وائٹ ہاؤس*
ترجمان وائٹ ہاؤس نےکہا ہےکہ ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو ٹرمپ انہیں مزید نقصان پہنچانےکے لیے تیار ہیں۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ آپریشن ایپک فیوری میں 9000 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے 90 فیصد میزائل اور ڈرونز کو مار گرایا گیا، ایران کے 140 سے زائد بحری جہاز تباہ کیےگئے، دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار کسی نیوی کو اس حد تک تباہ کیا گیا۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ایران نے شکست نہیں مانی تو مزید سخت حملے کریں گے، صدر ٹرمپ دھمکیاں نہیں لگاتے، ایران کو غلط اندازے نہیں لگانے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مرتبہ غلط اندازے لگانے پر ایران کی لیڈرشپ، نیوی، ایئر فورس سب ختم کردیا تھا، اب جنگ اس لیے ہوگی کہ ایران سمجھنے سے انکاری ہے، ایران جنگ ختم ہونے پر فیول کی قیمتیں کم ہوجائیں گی ۔

ترجمان وائٹ ہاؤس سے جے ڈی وینس کے دورہ پاکستان اور ایرانی حکام سے ملاقات کی خبروں پر سوال کیا گیا جس پر ان کا کہنا تھا کہ صورتحال ابھی غیر مستحکم ہے ، جب تک وائٹ ہاؤس باضابطہ اعلان نہ کرے کسی ملاقات کو حتمی نہ سمجھا جائے، ایران سے کون مذاکرات کر رہا ہے اس بارے میں نہیں بتاسکتی، ایران سے متعلق بات چیت میں جے ڈی وینس شامل رہے ہیں۔

کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری ہے، صدر ٹرمپ فوجی کارروائی سے قبل سفارت کاری کو پہلا آپشن سمجھتے ہیں، صدر ٹرمپ طاقت کے استعمال سے نہیں ڈرتے مگر سفارت کاری کو پہلا آپشن سمجھتے ہیں، اگر ضرورت پڑی تو ایران کو "20 گنا زیادہ" شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایران سے متعلق تمام آپشنز بدستور میز پر موجود ہیں۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات 14 اور 15 مئی کو ہوگی، چینی صدر کے اس سال دورہ واشنگٹن کی تاریخ کا جلد اعلان ہوگا۔

News DetailsThursday 6 Shawwal 1447 AH**26 March 2026


شہباز شریف کا سعودی ولی عہد اور امیر قطر سے رابطہ، خلیج میں امن کوششوں پر اعتماد میں لیا
جنگ بندی کی امریکی تجاویز پر ایران کا غور، 5 جوابی مطالبات پیش کردیئے

تہران میں رہائشی علاقوں پر بمباری، اسرائیلی شہر دیمونا اور حیفا نشانہ

پینٹاگون کا مشرق وسطیٰ میں بڑی امریکی فوجی پیش قدمی کا آغاز

قومی سطح کا تھریٹ انٹیلی جنس انضمام اور شیئرنگ سسٹم قائم

امریکا میں تاریخی فیصلہ، سوشل میڈیا لت کیس میں میٹا اور گوگل ذمہ دار قرار

1000 ارب کے ترقیاتی بجٹ میں بھی 100 ارب روپے کی کمی

ایران پر تیل پابندیوں میں نرمی، ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا

پی ایس ایل 11 ”جیو سوپر“ HD سے براہِ راست

خلیج کی جنگ، مشرق وسطیٰ میں غذائی اشیا کی فراہمی کا نظام درہم برہم

پاکستان کی ثالثی، چین کا مکمل حمایت، آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی پر زور

اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات میں وسیع دائرہ کار کی توقع ہے، سربراہ IAEA

انٹرنیشنل شوگر مارکیٹ میں تیزی ریٹ 429 ڈالر ٹن تک جا پہنچا

پاکستان مشرق وسطی فلائٹ آپریشن مسلسل متاثر، 55 پروازیں منسوخ

ایران امریکا جنگ، پاکستان کا لیڈنگ سفارتی کردار بھارتی خارجہ پالیسی کیلئے بڑا دھچکا

پاکستان کا عالمی سطح پر بڑھتا قد، بھارتی وزیر خارجہ مغلظات بکنے لگے

امریکا ایران سخت موقف پر قائم، معاہدے کا فوری امکان کم ، ماہرین

عازمین حج کیلئے اہم خبر؛ حج پروازوں کا شیڈول جاری، ویزوں کا اجرا مکمل

صدر ٹرمپ اپنے ہی فیصلوں کے منفی اثرات کی زد میں

ایل سیز بندش، توانائی قیمتوں میں اضافہ، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ پیداوار میں کمی کا سبب

بحیرہ احمر میں اربوں ڈالر کے اخراجات اور فوجی مداخلت کے باوجود کوششیں ناکام

ایران پر حملوں سے ڈالرزمیں تیل خریداری نظام کی بنیادیں ہل گئیں

بھارت میں مودی کی فارن پالیسی پر انگلیاں اٹھنے لگیں

بھارت پروپیگنڈا فلموں میں مصروف، پاکستان امریکا ایران ثالثی کردار میں، کانگریس

ایران نے ہمیشہ اپنی خود مختاری پر زور دیا ہے، ماہرین

افغان بوئنگ طیارہ کابل میں لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار

ہرمز میں ٹینکرز کا 5 کروڑ 58لاکھ روپے کے ’تہران ٹول بوتھ‘ کے ذریعے متبادل راستہ

امریکہ نے عراقچی اور قالیباف کو نشانہ نہ بنانے کا عارضی استثنیٰ دے دیا

یورپ اور عالمی برادری کا ایران جنگ کے اثرات پر تشویش کا اظہار

امریکی عوام کی اکثریت نے ایران پر حملے کو حد سے تجاوز قرار دیدیا

اسرائیلی بمباری کے سائے میں مذاکرات ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا، حزب اللّٰہ

پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن کی ملک بھر کے اسٹیشنز بند کرنے کی دھمکی

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، دفتر خارجہ

ٹرمپ 14 اور 15 مئی کو چین کا دورہ کرینگے، صدر شی کیساتھ اہم ملاقات متوقع

گل پلازہ کی اراضی KMC کے پاس بطور ٹرسٹ ہے یا میونسپل ملکیت؟ جوڈیشل کمیشن

برطانوی پارلیمنٹ میں راحت فتح اور ان کے بیٹے شاہ زمان کو خراج تحسین

نوجوانوں میں شدت پسندی 3 برس میں بڑھ گئی، آن لائن گیمنگ اور متعلقہ پلیٹ فارمز کا استعمال تشویشناک

نئی قسم کا "ٹائم کرسٹل" تیار، نیوٹن کے ’’قانون حرکت‘‘ کی خلاف ورزی

کفایت شعاری اقدامات، اسپیکر نے بلٹ پروف گاڑی گراؤنڈ کردی

نورین بانو لہڑی قومی کمیشن وقارِ نسواں کی قائم مقام چیئرپرسن تعینات

پی ٹی اے کی فائیو جی اسپیکٹرم فیس ادائیگی کی شرائط سامنے آگئیں

پاور ٹرانسمیشن آلات کیلئے مقامی مینوفیکچررز کو 12.67 ارب روپے کے ٹھیکے ملے

28ویں ترمیم کی اب ماضی سے زیادہ ضرورت ہے، ایم کیو ایم

جنوبی افریقہ کی پاکستانی فیملی کے حق میں سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

پی آئی اے کا 6 سال بعد لندن کیلئے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان

ڈاکٹر امجد سراج میمن دوسری چار سالہ مدت کے لیے وائس چانسلر مقرر

20 ملین روپے فراڈ میں ملوث مرکزی ملزم گرفتار

کریم آباد انڈرپاس اپریل کے تیسرے ہفتے میں ٹریفک کیلئے کھول دیا جائے گا

وصال فخر سلطان آئی جی ریلوے پولیس تعینات

پاکستان ایکس سروس مین کی اسرائیل کے ایماء پر ایران پر امریکی حملے کی مذمت

ممکن ہو تو عوام گھروں سے کام کریں، شرجیل میمن

ٹرمپ دستاویزات کیس، تازہ ریکارڈز سے کاروباری مفادات کے ٹکراؤ پر خدشات

امریکا، میٹا پر بچوں کو خطرے میں ڈالنے پر 105 ارب روپے جرمانہ

گولڈ مارکیٹ: سونا فی تولہ 15200 روپے مہنگا

امریکا میں بھارتی نژاد جج منی لانڈرنگ میں مجرم قرار، 10 سال قید کا سامنا

پاک، چین مشترکہ بحری مشق

محکمہ اسکول ایجوکیشن میں تبادلوں اور تقرریوں پر پابندی عائد

کراچی ایئرپورٹ پر ایئر سیال کے طیارے کی ہنگامی لینڈنگ

این سی سی آئی اے کے گریڈ 16 سے اوپر کے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے کیس سماعت ملتوی

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں آسیہ اندرابی کو عمرقید کی سزا مسترد کردی

ٹرمپ ہی فیصلے کر رہے ہیں، نیتن یاہو کا ان پر کوئی اثر نہیں، امریکی سفیر

مجرم یا مطلوب ملزم کو ہرگز پاسپورٹ جاری نہ کیا جائے، وزیرداخلہ

بھارت، غیر ظاہر شدہ اثاثوں پر 512 ارب روپے ٹیکس و جرمانے کا تعین

جنگ طوالت کے خدشات، 88000 پروازیں منسوخ ہوچکیں

بدھ، 25 مارچ، 2026

Written by Arif Anees Malik's Nixon Moment of Pakistan

تحریر: عارف انیس ملک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دا نکسن مومنٹ آف پاکستان
واشنگٹن پوسٹ۔ پچیس مارچ دو ہزار چھبیس۔ آج صبح۔ سرخی: "پاکستان کی امریکہ ایران مذاکرات کی ثالثی کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔" ایران نے پاکستان کی "نیک نیتی" کی تعریف کی۔ پاکستانی تجزیہ نگار نے "بالواسطہ مذاکرات میں تیز اور اہم پیش رفت" کی تصدیق کی۔ وال سٹریٹ جرنل نے ابھی انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کے چیف کو رپورٹ کیا ہے کہ مذاکرات اگلے دو دن میں اسلام آباد میں شروع ہوں گے. 

رائٹرز نے اپنی خصوصی رپورٹ میں کہا۔ "اگر مذاکرات ہوئے تو یہ پاکستان کی عالمی اہمیت کو اس سطح تک لے جائے گا جو انیس سو اکہتر میں نکسن کے خفیہ چین دورے کی ثالثی کے بعد نہیں دیکھی گئی۔"

رکو۔ یہ جملہ دوبارہ پڑھو۔ نکسن کا چین دورہ۔ انیس سو اکہتر۔ وہ لمحہ جب پاکستان نے دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان پل بنایا اور سرد جنگ کا رخ بدل دیا۔ آج رائٹرز اسی موازنے پر بات کر رہا ہے۔ مشہور بھارتی اخبار دا ہندو نے آج اسی پر خصوصی مصرع باندھا ہے کہ نکسن، چین کی ملاقات کرانے کے بعد پاکستان دولخت ہوگیا. 

اب حقائق جوڑو۔

پچیس دن ہو گئے۔ اٹھائیس فروری کو ٹرمپ نے اسے بہتر گھنٹے کی گیم سمجھ کر شروع کیا تھا۔ خامنہ ای مارو، قیادت ختم کرو، نظام بدلو، گھر جاؤ۔ اورنج تباہی غلط نکلا۔ چالیس سے زائد اعلیٰ عہدیدار مارے مگر ایران ڈگمگایا نہیں۔ پانچ سو سے زائد بیلسٹک میزائل اور دو ہزار ڈرون داغے۔ آبنائے ہرمز بند کر دی۔ خلیجی ممالک پر حملے کیے۔ امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ تیرہ امریکی فوجی مارے گئے۔ دو ارب ڈالر یومیہ جنگی لاگت۔ پٹرول کی قیمتیں تیئس دن مسلسل بڑھیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے کہا یہ ستر کی دہائی کے دونوں تیل بحرانوں سے بدتر ہے۔ ٹرمپ کا خود اعتراف: "ہم نے سوچا نہیں تھا کہ ایران دوسرے ممالک پر حملہ کرے گا۔"

تیس مارچ کو پانچ دن کی مہلت ختم ہوتی ہے۔ اس سے پہلے یا تو جنگ بندی ہو گی یا ٹرمپ ایرانی بجلی گھر تباہ کرے گا۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ بجلی گھروں پر حملے کی صورت میں پوری خلیج کے توانائی اور پانی کے ڈھانچے تباہ کیے جائیں گے اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی جائیں گی۔ خلیج میں پانی صاف کرنے کے پلانٹ تباہ ہوئے تو کروڑوں لوگوں کو پینے کا پانی نہیں ملے گا۔ تیل کی سپلائی مکمل بند ہو گی۔ عالمی معیشت تباہ ہو گی۔ یہ تیسری عالمی جنگ کا دروازہ ہے۔

اس دروازے کو بند کرنے والوں میں سب سے آگے کون ہے؟ اسلام آباد۔

سی این این نے پانچ ذرائع سے تصدیق کی: "پاکستانی ایک تجویز پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستانی انٹیلی جنس چیف لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک وٹکاف اور کشنر سے رابطے میں ہیں۔ اسلام آباد میں اس ہفتے ملاقات کی تجویز ہے جس میں نائب صدر جے ڈی وینس شرکت کر سکتے ہیں۔" رائٹرز کے مطابق گزشتہ مہینے میں شہباز شریف اور وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے ہم منصبوں سے تیس سے زائد گفتگو کیں۔ ان میں نصف درجن ایرانی عہدیداروں سے تھیں۔ پانچ عہدیداروں نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان نے جنگ شروع ہونے سے اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان کم از کم نصف درجن پیغامات پہنچائے ہیں۔

وینس کو آگے رکھنے کی وجہ صاف ہے۔ ٹرمپ خود میز پر نہیں بیٹھ سکتا کیونکہ وہ ایک فریق ہے۔ وٹکاف اور کشنر بالواسطہ بات کر رہے ہیں مگر روبرو ملاقات کے لیے سینئر سیاسی شخصیت چاہیے۔ وینس وہ چہرہ ہے جو ٹرمپ کی طرف سے معاہدے پر مہر لگا سکتا ہے بغیر ٹرمپ کی ساکھ داؤ پر لگائے۔

اب امن کے سات ممکنہ منظرنامے دیکھو۔ یہ میرا اندازہ ہے، ذرائع کے اشاروں پر مبنی۔

پہلا: آبنائے ہرمز پر عبوری اتفاق۔ تجارتی جہازوں کی محدود آمدورفت۔ ایران "غیر متحارب" ممالک کے جہازوں کو پہلے سے گزرنے دے رہا ہے۔ چینی، ترک، ہندوستانی جہاز گزرے ہیں۔ یہ جزوی کھلاؤ مکمل کھلاؤ میں بدل سکتا ہے۔ ٹرمپ نے "مشترکہ انتظام" کا ذکر کیا ہے۔

دوسرا: توانائی ڈھانچے پر باہمی بندش۔ ایران بجلی گھروں پر حملہ نہیں کرتا، امریکہ بھی نہیں کرتا۔ یہ پہلا اعتماد سازی قدم ہو سکتا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل نے بتایا کہ مصری خفیہ اداروں نے پاسداران انقلاب سے پانچ دن کی اعتماد سازی لڑائی بندی کی تجویز دی ہے۔

تیسرا: اسلام آباد میں بالواسطہ مذاکرات۔ ایرانی اور امریکی وفود الگ الگ کمروں میں۔ پاکستانی ثالث درمیان میں۔ عمان ماڈل۔ دو ہزار پندرہ کا ایٹمی معاہدہ اسی طرز پر ہوا تھا۔

چوتھا: ایٹمی پروگرام پر عبوری فارمولا۔ مکمل خاتمہ نہیں ہو گا۔ ایران اسے کبھی قبول نہیں کرے گا، خاص طور پر جنگ کے بعد۔ مگر "افزودگی کی حد بندی اور بین الاقوامی نگرانی" کا فارمولا ممکن ہے۔ ستائیس فروری کو عمانی وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ ایران اس پر تقریباً راضی تھا۔

پانچواں: خلیجی ممالک کی سلامتی کی ضمانت۔ ایران خلیجی ممالک پر حملے بند کرے۔ بدلے میں خلیجی ممالک اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اس ضمانت کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔

چھٹا: لبنان میں جنگ بندی۔ اسرائیل کے لیے سب سے مشکل نکتہ۔ نیتن یاہو جنوبی لبنان میں مستقل موجودگی چاہتا ہے۔ مگر امریکی دباؤ میں عبوری بندوبست ممکن ہے۔

ساتواں: پابندیوں میں تدریجی نرمی بمقابلہ ایرانی رعایتیں۔ طویل مذاکرات۔ مہینوں یا برسوں پر محیط۔ مگر بنیاد اسی ہفتے رکھی جا سکتی ہے۔

دستخط کہاں ہوں گے؟ اسلام آباد سب سے مضبوط امیدوار ہے۔ مسقط دوسرا۔ دوحہ تیسرا۔ مگر قطر پر خود ایرانی حملے ہوئے ہیں اس لیے غیرجانبداری مشکوک ہے۔ عمان روایتی ثالث ہے مگر اس بحران میں کم فعال رہا۔ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ایڈم وائنسٹائن نے رائٹرز کو بتایا: "خلیجی ممالک کے برعکس پاکستان میں امریکی فوجی اڈے نہیں ہیں اور وہ خود ایک فوجی طاقت ہے۔"

اب اصل بات۔ یہ پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

رائٹرز نے نکسن کے چین دورے سے موازنہ کیا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ اس سے بڑا ہے۔ انیس سو اکہتر میں پاکستان پیغام رساں تھا۔ آج پاکستان ثالث ہے، تجویز ساز ہے، میزبان ہے اور ضامن ہے۔

دیکھو کیا ہوا ہے ایک سال میں۔ مئی دو ہزار پچیس میں بھارت سے جنگ لڑی اور جنگ بندی کروائی۔ ٹرمپ نے عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس بلایا۔ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا جو نیٹو کی شق پانچ جیسا ہے۔ جنوری میں ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا۔ فروری میں ایران جنگ شروع ہوئی تو تین مارچ کو ایران کو سعودی عرب پر حملے سے خبردار کیا اور ایران نے سنجیدگی سے لیا۔ سات مارچ کو سعودی دفاعی معاہدہ فعال ہوا۔ نو مارچ کو بحریہ نے آپریشن محافظ البحر شروع کیا۔ بیس مارچ کو شیعہ علماء سے ملاقات کر کے اندرونی محاذ سنبھالا۔ بائیس مارچ کو ٹرمپ سے فون۔ تیئس کو ٹرمپ نے حملے ملتوی کیے۔ چوبیس کو شہباز شریف نے عوامی طور پر میزبانی کی پیشکش کی اور ٹرمپ نے ایک گھنٹے کے اندر اسکرین شاٹ شیئر کیا۔ پچیس کو واشنگٹن پوسٹ نے لکھا: "کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔"

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ پکا ہو گیا۔ میدان میں آزمایا گیا۔ ایران کو بھی بچا لیا کیونکہ اگر پاکستان نہ ہوتا تو خلیجی ممالک اجتماعی فوجی کارروائی کر چکے ہوتے۔ چین کے خصوصی ایلچی خلیجی دورے پر ہیں اور پاکستان کی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ روس نے جنگ کی مذمت کی ہے اور پاکستان سے افغان ثالثی بھی مانگی ہے۔ مصر اور ترکی کے ساتھ تکون بن چکی ہے جو عالمی جنوب کا نیا طاقت بلاک ہے۔ امارات، قطر، بحرین، کویت سب دیکھ رہے ہیں کہ جب ایرانی میزائل ان کے شہروں پر گر رہے تھے تو کون ان کی بات سن رہا تھا اور کون ان کے لیے کھڑا تھا۔

یار بات سیدھی ہے۔

پاکستان نے انیس سو اڑتانوے میں ایٹمی دھماکہ کیا تو دنیا نے کہا: "اب پاکستان کو سنجیدگی سے لو۔" آج اگر پاکستان اکیسویں صدی کی سب سے خطرناک جنگ رکوانے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ ایٹمی طاقت بننے سے بھی بڑی بات ہو گی۔ ایٹمی بم تباہ کرنے کی طاقت ہے۔ جنگ رکوانا بچانے کی طاقت ہے۔ تباہی کوئی بھی کر سکتا ہے۔ تعمیر بہت کم لوگ کر سکتے ہیں۔

اور اگر رب نے یہ کام اسی ٹوٹے پھوٹے، بدحال، قرض میں ڈوبے پاکستان سے کروایا تو سمجھ لو کہ اس کی خصوصی عنایت ہے۔ 

مگر ایک بات کان کھول کر سن لو۔

ابھی کچھ نہیں ہوا۔ ابھی صرف کھڑکی کھلی ہے۔ تیس مارچ کو مہلت ختم ہوتی ہے۔ پانچ دن ہیں۔ یا تو اس کھڑکی سے امن آئے گا یا آگ۔ اور اگر آگ آئی تو خاکم بدہن یہ آگ پاکستان کا جغرافیہ بدل دے گی۔ نو سو کلومیٹر ایرانی سرحد۔ خلیج میں لاکھوں مزدور۔ اندر فرقہ وارانہ تناؤ۔ باہر افغان جنگ۔ یہ آگ صرف ایران کی نہیں ہو گی۔

اس لیے یہ ثالثی خواہش نہیں، مجبوری ہے۔ ایشین مرر نے صحیح لکھا: "یہ سفارتی عزائم سے نہیں، ضرورت سے چل رہی ہے۔"

مگر ضرورت ہی تو ایجاد کی ماں ہے۔ اور آج پاکستان ایجاد کر رہا ہے۔ اپنے لیے۔ اس خطے کے لیے۔ اس دنیا کے لیے۔

واشنگٹن پوسٹ لکھ رہا ہے "کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔" رائٹرز لکھ رہا ہے "نکسن کے چین دورے کے بعد سب سے بڑا سفارتی لمحہ۔" ٹرمپ نے شہباز شریف کی پوسٹ ایک گھنٹے میں شیئر کی۔ ایران نے پاکستان کی نیک نیتی کی تعریف کی۔

اب دعا کرو۔ صرف دعا۔ کہ اگلے پانچ دن میں وہ ہو جو ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر نہیں ہوا تو جو ہوگا وہ خدانخواستہ ڈیڑھ سے دو ارب انسانوں کو نگل جائے گا۔ اور اس آگ میں سب سے پہلے وہ جلیں گے جو آگ کے سب سے قریب ہیں۔ اور آگ کے سب سے قریب پاکستان ہے۔

یہ پاکستان کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ اور سب سے بڑا موقع۔ دونوں ایک ساتھ۔ تاریخ میں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔

عارف انیس

News Headline Urdu Bbc Pakistan Digital News

*🛑 26 مارچ 2026 | بروز جمعرات | اہم خبروں کی جھلکیاں |* 🚨 (1) جنگ کا 27 واں روز؛ آبنائے ہرمز کو بند کرنے والے ایر_ان کے نیول چ...