جمعہ، 6 جون، 2025

کراچی (پریس ریلیز)دنیا بھر میں عید کی خوشیاں، بلوچستان میں لوگ اپنے پیاروں کی عقوبت خانوں سے واپسی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ سمی بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما سمی دین بلوچ نے کہا کہ ‏پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسلمان عید کو عقیدت، احترام اور مذہبی جذبے سے منا رہے ہیں، BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

مگر بلوچستان میں لوگ اس دن بھی گھر کے آنگن میں بیٹھے اپنے پیاروں کی عقوبت خانوں سے واپس لوٹ آنے کی آس لگائے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی اپنے شوہر، کوئی اپنے بھائی، کوئی اپنے بیٹے تو کوئی بیٹی اپنے والد کے زندان سے زندہ سلامت واپس آنے کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ اس بار تو ایک بہن بھی اپنے بھائی کے ساتھ جبری گمشدگی کا نشانہ بنائی گئی ہے، جو تاحال لاپتہ ہے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت 3 MPO کے تحت پابند سلاسل ہے۔ ہر سو ایک کرب کا عالم ہے، ہر دوسرا گھر اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ماتم کناں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ “میں، سمی دین بلوچ، گزشتہ 16 سال سے اپنے والد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کر رہی ہوں۔ شاید بھول چکی ہوں کہ عیدیں اور عید کی خوشیاں کیا ہوتی ہیں۔”سمی دین بلوچ نے کہا کہ بلوچستان جل رہا ہے۔ مسخ شدہ لاشیں اور جعلی انکاؤنٹر کا سلسلہ 2014 کے بعد دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے جبری گمشدگی کو اب کالے قانون کے تحت قانونی بنانے کا بل بھی پاس کر دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جن وارداتوں نے بلوچستان کو اس نہج تک پہنچایا ہے، ان زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں کرید کر تازہ زخم دیے جا رہے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...