جمعہ، 27 مارچ، 2026

District Rahim Yar Khan Tehsil Sadiqabad Sinawar Canal

146 والی سینہ واڈ نہر پر ٹیل کے کسان پیاسے… اور شروع کے زمیندار پورا نظام خرید کر بیٹھے ہیں!
146 والی سینہ واڈ نہر پر ظلم کی انتہا ہو چکی ہے۔
ٹیل کے غریب کسان اور زمیندار پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں،
مگر دوسری طرف شروع کے بااثر زمیندار رشوت دے کر پورا نظام خرید رہے ہیں!
الزام یہ ہے کہ:
شروع کے زمیندار رشوت دے کر میٹ کو خرید لیتے ہیں
میٹ اور بیلدار بک جاتے ہیں
پانی حق دار کو نہیں، پیسے والے کو دیا جاتا ہے
اور مال اوپر تک پہنچ رہا ہوتا ہے…
تبھی تو سوال اٹھتا ہے کہ SDO صاحب ایکشن لینے کو تیار کیوں نہیں؟
اگر سب کچھ صاف ہے
تو پھر ٹیل کے کسان پانی کو کیوں ترس رہے ہیں؟
اگر سسٹم ایماندار ہے
تو پھر “موگے کے پیسے دو، پھر پانی لگاؤ” کی آوازیں کیوں آ رہی ہیں؟
اگر محکمہ نہر بے قصور ہے
تو پھر شروع کے کھیت ہرے بھرے اور ٹیل کے کھیت سوکھے کیوں ہیں؟
یہ نہر نہیں… کرپشن کا کاروبار بنا دیا گیا ہے!
146 والی سینہ واڈ نہر پر اب
پانی نہیں چلتا… اثر و رسوخ چلتا ہے!
قانون نہیں چلتا… رشوت چلتی ہے!
حق نہیں ملتا… خرید و فروخت ہوتی ہے!
شروع کے زمیندار پیسہ پھینکتے ہیں…
میٹ بک جاتا ہے…
بیلدار بک جاتا ہے…
اور ٹیل کے کسان کے حصے کا پانی راستے میں ہی بیچ دیا جاتا ہے!
یہ صرف کرپشن نہیں…
یہ غریب کسان کے حق پر ڈاکہ ہے!
یہ فصلوں کا قتل ہے!
یہ رزق کی لوٹ مار ہے!
یہ سرکاری نہر کو ذاتی جاگیر بنانے کی سازش ہے!
کسان پانی مانگتا ہے… تو جواب ملتا ہے:
“موگے کے پیسے دو، پھر پانی لگاؤ!”
یہ جملہ ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ
146 والی سینہ واڈ نہر پر
پانی تقسیم نہیں ہو رہا… پانی بیچا جا رہا ہے!
ٹیل کے کسان پانی کو ترس رہے ہیں
فصلیں سوکھ رہی ہیں
کھیت پیاسے کھڑے ہیں
اور دوسری طرف
میٹ، بیلدار اور بااثر لوگ مل کر نہر کو منڈی بنا چکے ہیں!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Four-party meeting on regional situation, Foreign Ministers of Egypt and Turkey arrive in Pakistan

*خطے کی صورتحال پر 4 فریقی اجلاس، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ پاکستان پہنچ گئے* مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور ایران جنگ بند...