، وہ تھیٹر کے چند پڑھے لکھے اداکاروں میں سے ایک رہے، انہوں نے پنجاب تھیٹر پر مجروں کے خلاف باقاعدہ بھرپور مہم چلائی اور اس گند کو بڑی حد تک صاف کیا۔ سہیل احمد کے اپنے سٹیج ڈرامے ہمیشہ صاف ستھرے اور گندی جگت سے پاک رہے ہیں۔ سہیل احمد کے بہت سے سٹیج ڈرامے ویڈیو پر دیکھے، کبھی انہیں ولگر جگت کرتے نہیں دیکھا۔ معقول اور شائستہ آدمی ہیں۔ ایک بڑے ادبی گھرانے سے تعلق ہے۔ پنجابی کے نامور شاعر ، دانشور ڈاکٹر فقیر محمد فقیر ان کے نانا تھے، سہیل احمد نے ہمیشہ اس ادبی، علمی لیگیسی کو ساتھ چلانے اور نبھانے کی کوشش کی۔ وہ دنیا اخبار میں کالم بھی لکھتے رہے ہیں۔
ان کے ایک کلپ کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے جیسے خدانخواستہ وہ دشمن امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ہوں ۔ ان کا کلپ بہت واضح ہے ، سہیل احمد حسینی لشکر کے ایک سپاہی ہیں، ان کی گفتگو میں موازنہ واضح ہے ۔ کہنا شائد وہ یہ چاہتے تھے کہ یزید بھی مشہور یا فیمس کردار ہے ، جبکہ امام شہید تو خیر ہیں ہی تاریخ کے عظیم کرداروں میں سے ایک، مسلم تاریخ کا جگمگاتا، لہلہاتا استعارہ، عزم وہمت، جرات وشجاعت اور عظمت کردار کا بے مثل نمونہ ۔ سہیل احمد نے یزید کے لئے غلطی سے فیمس کی جگہ پاپولر کا لفظ برت دیا۔
سہیل احمد کا اگلا فقرہ بڑا واضح ہے کہ آپ نے طے کرنا ہے کہ حسینی قافلے میں جانا ہے یا یزیدی قافلے میں۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کا کوئی بھی مخالف یا کوئی ناصبی ہرگز یہ موازنہ نہیں کرتا اور نہ ایسی بات کرتا ہے۔ ان احمق ناصبیوں کو بھی یہ علم ہے کہ اگر یہ بات کی جائے تو ہر کوئی حسینی لشکر، حسینی قافلے میں جائے گا۔ یہ موازنہ کرنے والا اور یہ بات کہنے والا ازخود خود کو حسینی لشکر یا حسینی قافلے کا سپاہی، فالور قرار دے رہا ہوتا ہے۔ یہی بات یقین کے ساتھ سہیل احمد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے۔
سوشل میڈیا اس قدر ٹاکسک ہوچکا ہے کہ لوگ مومن کی ایک بنیادی خوبی یعنی حسن ظن رکھنے سے عاری ہوچکے ہیں۔ کوئی بدبخت اٹھ کر کسی بھی اجلے ، دھلے دھلائے فیس بکی/غیر فیس بکی شخصیت پر تہمت دھر دے تو بہت سے اندھادھند بغیر سوچے سمجھے، بغیر غور کئے اس پر یقین لے آتے ہیں۔ یہ غلط ہے۔ یہ بدگمانی ہے، اس سے منع کیا گیا ہے۔
بہرحال سہیل احمد کا بیان، ان کا مدعا واضح ہے۔ انہیں امام حسین رضی اللہ عنہ کا مخالف قرار دینے والا غلط فہمی کا شکار ہے، وہ غلط ، ناجائز اور غیر منطقی بات کر رہا ہے۔
سہیل احمد سیاسی طور پر شائد ن لیگ کے حامی ہیں۔ اتفاق سے چند دن قبل ان کا ایک پوڈ کاسٹ وائرل ہوا، جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ عمران خان کرکٹ کے ہیرو تھے، مگر سیاسی ہیرو نہیں۔ یہ پوڈکاسٹ شائد ہمارے صحافی دوست طاہر سرور میر نے کیا تھا۔
سہیل احمد کی یہ رائے ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ ہر کسی کے نزدیک عمران خان سیاسی ہیرو نہیں ہوسکتا۔ یہ تو ذاتی پسند ناپسند کا معاملہ ہے۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سہیل احمد سے ایک بہت معمولی سی، لفظی لغزش ہوئی، بلکہ یہ لغزش بھی نہیں، ایک لفظ کا تھوڑا کم تر انتخاب ہے ،تو اس لغزش کی بنیاد پر اس پر چڑھ دوڑیں، اسے دشمن اہلبیت قرار دے دیں ۔ کچھ تو خوف خدا کرنا چاہیے ۔ اس بنا پر سہیل احمد کے خلاف کمپین چلانا غلط اور نامناسب ہے۔ تحریک انصاف کے دوستوں کو اس حوالے سے زیادتی نہیں کرنی چاہیے، کسی اور جماعت کا کوئی ہے تو اسے بھی کچھ شرم، کچھ حیا کرنی چاہیے ۔
سہیل احمد پر تنقید کے اور بھی پہلو نکل سکتےہیں، وہاں اپنا غصہ نکالیں، مگر ہر موقع پر مذہب کو یوں استعمال کرنا اور کردار کشی کے لئے مذہبی کمپین چلانا نہایت افسوس ناک بلکہ شرمناک ہے۔
(عامر ِخاکوانی، اکتیس مارچ 2026)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں