منگل، 29 اپریل، 2025

*سونا پھر مہنگا ہوگیا*کراچی: ملک میں آج سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا۔آل پاکستان جیمز BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج سونے کی فی تولہ قیمت میں 2100 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 3 لاکھ 49 ہزار 200 روپے ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت بھی 1800 روپے اضافے سے 2 لاکھ 99 ہزار 382 روپے ہے۔دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 21 ڈالر اضافے سے 3310 ڈالر فی اونس ہے۔

*بھارت: کرکٹ میچ کے دوران پاکستان زندہ بادکا نعرہ لگانے پر نوجوان کو ہجوم نے تشدد کرکے مار ڈالا*BBC PK News Islamabad Report M

بھارتی ریاست کرناٹکا کے شہر منگلورو میں ایک کرکٹ میچ کے دوران مبینہ طور پر پاکستان زندہ بادکا نعرہ لگانے والے نوجوان کو ہجوم نے تشدد کرکے جان سے مار دیا۔بھارتی میڈیا کےمطابق منگلورو میں کرکٹ ٹورنامنٹ جاری تھا جس میں 10 ٹیمیں شریک تھیں، اس دوران ایک شخص کو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے پر ہجوم نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔متاثرہ شخص کو اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ واقعے کے بعد پولیس نے 10 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

*سات ماہ کی حاملہ گوجرانوالہ کی ماریہ کو انڈیا چھوڑنے کا حکم: ’بچے کے منتظر تھے لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے‘**گرپریت سنگھ چاولہ، بی بی سی*BBC PK News Gujranwala

میں کام پر تھا جب مجھے فون آیا۔۔۔ گھر گیا تو سب رو رہے تھے۔ پولیس اہلکار گھر پر آئے اور کہہ رہے تھے کہ ماریہ کو فوری طور پر اپنے ملک پاکستان واپس جانا پڑے گا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔‘گورداسپور کے سونو یہ بتاتے ہوئے جذباتی نظر آئے۔پہلگام میں ہونے والے حملہ ناصرف دونوں ممالک میں سیاسی اور معاشی سطح پر بلکہ سماجی اور خاندانی مسائل کا سبب بھی بن رہا ہے اور اس کے نتائج انڈیا میں شادی کرنے والی پاکستانی لڑکیاں بھی محسوس کر رہی ہیں۔اسی طرح کا ایک کیس گورداسپور کے گاؤں ستھیالی میں سامنے آیا جہاں کے سونو مسیح نامی نوجوان نے تقریباً ایک سال قبل 8 جولائی 2024 کو پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں رہنے والی اپنے ہی مذہب کی لڑکی ماریہ سے شادی کی تھی۔نوجوان سونو مسیح کی بیوی ماریہ سات ماہ کی حاملہ ہیں۔ سونو کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے ماریہ کو فوراً انڈیا چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔سونو کا کہنا ہے کہ ’ہم خاندانی اور ذہنی طور پر بہت الجھن میں پھنسے ہیں۔ میں پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ شادی شدہ لڑکیوں کو اس حکم سے مستثنیٰ رکھا جائے۔‘سونو مسیح کا کہنا ہے کہ چھ سال کے طویل انتظار کے بعد ان کی شادی ہوئی اور اب وہ گھر میں نئے بچے کی خوشی کے منتظر تھے لیکن اب لگتا ہے سب کچھ بدل گیا ہے۔دونوں کی ملاقات کیسے ہوئی؟سونو ایک پینٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماریہ سے ان کا رابطہ تقریباً چھ سال قبل سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا تھاط۔ان کی دوستی دھیرے دھیرے محبت میں بدل گئی اور پھر وہ کرتار پور میں ملے۔سونو کا کہنا ہے کہ ’اس کے بعد جب ہم نے ماریہ کو شادی کے لیے انڈیا بلانے کا فیصلہ کیا تو ابتدائی چند سالوں تک کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، آخر کار گذشتہ سال جولائی میں ماریہ کو ویزا مل گیا اور وہ انڈیا پہنچ گئیں۔‘’اس وقت پاکستان اور انڈیا میں رہنے والے ہمارے دونوں خاندانوں کے درمیان خوشی کا ماحول تھا۔ ہم نے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد 8 جولائی کو مذہبی رسومات کے ساتھ شادی کی۔‘سونو اور ماریہ کی شادی کو تقریباً 10 ماہ ہونے کو ہیں اور ان کی اہلیہ بھی حاملہ ہیں۔سونو کے مطابق پولیس افسران حال ہی میں ان کے گھر آئے اور ماریہ کو واپس پاکستان جانے کو کہا ہے کیونکہ ان کے پاس طویل مدتی ویزا (ایل ٹی وی) نہیں ہے۔سونو کا کہنا ہے کہ انھوں نے شادی کے بعد گذشتہ جولائی میں ایل ٹی وی کے لیے درخواست دی تھی اور اتنے مہینوں کے بعد بھی ان کی ویزا فائل زیر غور ہے۔ماریہ کی واپسی کی خبر سن کر پورا خاندان صدمے میں ہے۔ سونو کا کہنا ہے کہ وہ گھر کے واحد کمانے والے ہیں۔ ان کے والد بھی نہیں ہیں اور گھر میں صرف ایک ماں اور بہن ان کے ساتھ رہتی ہیں۔’میں یہاں اپنے خاندان اور شوہر کے ساتھ خوش ہوں‘ماریہ کا تعلق پاکستان کے شہر گوجرانوالہ سے ہے۔وہ کہتی ہیں ’پولیس والے مجھے واپس جانے کا کہہ رہے ہیں جو کہ میرے لیے بہت مشکل ہے۔۔۔ ہم سب بہت پریشان ہیں۔‘ماریہ کے مطابق انھیں کہا گیا ہے کہ ’آپ کے پاس 24 گھنٹے ہیں، انڈیا چھوڑ کر اپنے ملک پاکستان واپس چلی جائیں۔‘ماریہ کہتی ہیں ’میں نے پوری رات ہسپتال میں گزاری کیونکہ میں ذہنی تناؤ سے بیمار ہوگئی۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ’میں یہاں رہنا چاہتی ہوں، میں واپس نہیں جانا چاہتی۔ میں یہاں اپنے خاندان اور شوہر کے ساتھ خوش ہوں۔‘ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان کے خاندان کے افراد بھی پریشان ہیں۔دوسری جانب سونو کی ماں یمنا کا کہنا ہے کہ وہ ماریہ کو واپس نہیں بھیجنا چاہتیں۔ وہ بہت اچھی طرح سے ان کے خاندان کا حصہ بن گئی ہیں۔وہ کہتی ہیں ’میں اپنی بہو اور بیٹے کے ساتھ رہتی ہوں۔ میرے شوہر بھی نہیں ہیں اور اگر سونو چلا گیا تو کون ہمارا ساتھ دے گا؟ ہم نہیں چاہتے کہ بہو ہمارا گھر چھوڑے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ماریہ خبر ملنے کے بعد بہت پریشان ہیں اور ان کے دل کی دھڑکن بھی بڑھ گئی تھی۔وہ پوچھتی ہیں کہ ’لڑکیوں کا کیا قصور ہے؟ ہمارے پاس تمام کاغذات اور ثبوت موجود ہیں اور ویزے کے لیے درخواست بھی دی ہوئی ہے۔ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ ماریہ کو ویزا دیا جائے اور انھیں ہمارے گھر ہی رہنے دیا جائے کیونکہ ہمارے گھر نئی زندگی آنے والی ہے۔‘ادھر گورداسپور ضلع کے ایس ایس پی آدتیہ نے بی بی سی سے اس معاملے پر فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈین حکومت کی طرف سے دی گئی چھوٹ ان لوگوں کے لیے ہے جن کے پاس ایل ٹی وی ویزا ہے، وہ رہ سکتے ہیں اور یہ وزارت کا فیصلہ ہے اس لیے وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘تاہم ماریہ کے اہل خانہ عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹا رہے ہیں۔

*پاکستانی تجزیہ کاروں اور صحافیوں پر بھارتی چینلز پر پابندی عائد*اسلام آباد: پہلگام واقعے کے بعد پڑوسی ممالک کے درمیان BBC PK News Islamabad Report

 کشیدہ حالات کے تناظر میں پاکستانی تجزیہ کاروں اور صحافیوں پر بھارتی چینلز پر پابندی لگ گئی۔کے آر ٹی ایی نیوز کے مطابق بھارتی وزیر اعظم آفس کی جانب سے بھارتی میڈیا کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔مودی نے بھارتی میڈیا کو پاکستانی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کو شو میں مدعو کرنے سے روک دیا جبکہ پاکستانی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو شو میں مدعو کرنے کی ہدایات کی گئی ہے۔گزشتہ روز احمد حسن عربی نے ارباب گوسوامی کے شو میں تلخ حقائق بیان کیے، احمد حسن عربی کا جرأت مندانہ بیان بھارت سے ہضم نہ ہو سکا۔اس صورتحال میں بھارتی میڈیا سے جڑے تلخ حقائق سے پردہ اٹھ گیا۔*

*آئی ایس آئی، آئی بی نے ارشد چائے والا کے افغان شہری ہونے کی رپورٹ پیش کردی*لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سماعت غیر معینہ مدت ۔*BBC PK News Lahore Report M Azam

تک ملتوی کر دی جس کے باعث ارشد خان چائے والا کی شہریت سے متعلق معاملہ لٹک گیا جب کہ دوران سماعت آئی ایس آئی اور آئی بی نے ارشد چائے والا کے افغان شہری ہونے کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس جواد حسن نے سماعت کی، دوران سماعت نادرا نمائندہ نے ارشد خان بابت مزید رپورٹ پیش کرنے کی مہلت مانگی جو منظور ہوگئی۔ارشد چائے والا کے وکیل نے بھی مزید جواب کیلئے التوا کی درخواست کی جو منظور کر لی گئی، ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد تنولی سرکار کی طرف سے پیش ہوئے۔عدالتی حکم پر آئی ایس آئی اور آئی بی نے ارشد کے افغان شہری ہونے کی رپورٹ پیش کردی، رپورٹ کے مطابق ارشد چائے والا کا پہلے نام زر خان ولد باز محمد خان ہے۔پٹیشنر کے مطابق ارشد خان چائے والا 1999 کو اسلام آباد علاقہ شاہ اللہ دتہ میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسکول شاہ اللہ دتہ میں ہی حاصل کی، والد باز خان 1984 کا پاکستانی پاسپورٹ بنا، 1989 میں سعودی عرب مزدوری کے لیے گیا۔پٹیشن میں کہا گیا کہ ارشد خان 17 سال عمر سے اتوار بازار اسلام آباد چائے اسٹال لگاتا ہے، ارشد کا 2017 میں نادرا شناختی کارڈ اور 2016 میں پاسپورٹ بنا، نادرا ۔پاسپورٹ آفس نے تمام ڈاکومنٹس چیک کر کے آئی ڈی کارڈ اور پاسپودٹ بنایا۔پٹیشن میں کہا گیا کہ آئی ڈی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے کا فیصلہ غیر قانونی ہے، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے سے سائل کا چائے کا بزنس تباہ ہوگیا، ارشد چائے والا عالمی مشہوری سے سوشل میڈیا سے پاکستان کو بھاری زر مبادلہ بھی ملا۔پٹیشن میں مزید کہا گیا کہ ارشد خان چائے والا نا کبھی افغانستان گیا نا افغان شناختی کارڈ پاسپورٹ ہے، غریب فیملی کا فرد ہے، 1978 سے قبل کی پراپرٹی رجسٹری مانگی جارہی ہے

*پہلگام واقعہ؛ مودی سرکار نے ناردرن کمانڈر کو برطرف کردیا*مودی سرکار نے پہلگام ناکام فالس فلیگ آپریشن کا سارا ملبہ بھارتی فوج کے ناردرن کمانڈ کے سربراہ پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دیدیا۔پہلگام کال فلیگ آپریشن کی ناکامی پر بوکھلاہٹ کی شکار مودی سرکار نے بھارتی فوج کے ناردرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایم وی ایس کمار کی چھٹی کردی۔لیفٹیننٹ جنرل ایم وی ایس کمار کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل پراتک شرما کو انڈین آرمی کی ناردرن کمانڈ کا چارج دیدیا گیا۔بھارتی حکومت نے انٹیلیجنس اور سیکیورٹی ناکامی کا سارا ملبہ لیفٹیننٹ جنرل کمار پر ڈال دیا۔مقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ فوج، پیراملٹری ٹروپس، پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیز کے ہوتے ہوئے پہلگام حملہ روکنے میں ناکام رہے۔ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ایم وی ایس کمار نے پہلگام آپریشن کے بعد فوری طور پر پاکستان کے خلاف مہم جوئی سے انکار کر دیا تھا۔لیفٹیننٹ جنرل ایم وی ایس کمار کی طرف سے انکار پر مودی سرکار کا منصوبہ خاک میں مل گیا۔ BBC PK News Islamabad Report

*پہلگام واقعہ؛ مودی سرکار نے ناردرن کمانڈر کو برطرف کردیا*

مودی سرکار نے پہلگام ناکام فالس فلیگ آپریشن کا سارا ملبہ بھارتی فوج کے ناردرن کمانڈ کے سربراہ پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دیدیا۔

پہلگام کال فلیگ آپریشن کی ناکامی پر بوکھلاہٹ کی شکار مودی سرکار نے بھارتی فوج کے ناردرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایم وی ایس کمار کی چھٹی کردی۔

لیفٹیننٹ جنرل ایم وی ایس کمار کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل پراتک شرما کو انڈین آرمی کی ناردرن کمانڈ کا چارج دیدیا گیا۔


بھارتی حکومت نے انٹیلیجنس اور سیکیورٹی ناکامی کا سارا ملبہ لیفٹیننٹ جنرل کمار پر ڈال دیا۔

مقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ فوج، پیراملٹری ٹروپس، پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیز کے ہوتے ہوئے پہلگام حملہ روکنے میں ناکام رہے۔

ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ایم وی ایس کمار نے پہلگام آپریشن کے بعد فوری طور پر پاکستان کے خلاف مہم جوئی سے انکار کر دیا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل ایم وی ایس کمار کی طرف سے انکار پر مودی سرکار کا منصوبہ خاک میں مل گیا۔


*مقبوضہ کشمیرکی قابض انتظامیہ نے 48 سیاحتی مقامات کو بند کردیا*سری نگر: مقبوضہ کشمیرکی قابض انتظامیہ نے 48 BBC PK News Kashmir Report

سیاحتی مقامات کو بند کردیا۔جیو نیوز کے مطابق مقبوضہ کشمیرکی قابض انتظامیہ نے مقبوضہ جموں کشمیر کے 87 میں سے 48 پبلک پارکس بند کر دیے ہیں۔بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید سیاحتی مقامات بند کرکے فہرست میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔دوسری جانب بھارت کی مختلف ریاستوں میں مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ، ملازمین اور تاجروں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے متعدد کشمیری بھارت چھوڑ کرسری نگر جانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔بھارتی ریاستوں مہاراشٹرا، ہریانہ اور ہماچل میں 2 ہزار کشمیری گھروں اور دفاتر میں محصور ہیں۔جیو نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے کشمیری طلبہ نے بتایا کہ بھارت میں محصور کشمیری محفوظ راستے سے سری نگرجانے کیلئے کوشاں ہیں، ہم 5 دن سے گھر نہیں جاسکے۔

NEWS HEADLINES BBC PAKISTAN NEWS DIGITAL URDU ENGLISH

 *خبروں کی تفصیل* *بدھ 25 ذیقعدہ1447ھ* *13 مئی 2026ء* ایران، ہرمُز کی حدود بڑھا دی، حملہ ہوا تو یورینیم افزودگی 90 فیصد کردینگے، تہران، یقین...