Daily Bbc Pakistan: Deliver Latest news breaking news urdu news current news,top headlines in urdu from Pakistan, world, sports, Business, Cricket, Politics and Weather,
جمعرات، 22 مئی، 2025
*15ہزارکے پاکستانی ڈرونز پر 15 لاکھ کا میزائل؟ کانگریس لیڈر نے مودی حکومت سے وضاحت مانگ لی*BBC PK News Islamabad Report
15 ہزار کے پاکستانی ڈرونز پر 15 لاکھ کے میزائل؟ کانگریس لیڈر نے مودی حکومت سے وضاحت مانگ لی۔بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس کے سینئر رہنما وجے واڈیٹیوار نے حکومت سےسوالات کی بھرمارکردی ہے۔کانگریس لیڈرکا کہنا تھا کہ آپریشن سندور میں ہونے والے نقصانات اور خرچ پر وضاحت دی جائے۔ وجے واڈیٹیوار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے 15 ہزار روپےکے 5,000 چینی ساختہ ڈرونز بھیجے جنہیں مار گرانے کے لیے بھارت نے 15 لاکھ روپے کے میزائل استعمال کیے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کو بتانا چاہیےکہ آیا پاکستان کی جانب سےکوئی رافیل طیارہ گرایا گیا؟ اور ہمارےکتنے فوجی زخمی یامارےگئے؟ اور امریکا کے کہنے پر جنگ بندی کیوں کی گئی؟ عوام اصل حقیقت جانناچاہتے ہیں۔
18+جب جنس بولتی ہے: وہ فرق جو ہم سمجھ نہیں پاتے! بلال شوکت آزادرات کے سناٹے میں ایک بیوی نے شوہر سے پوچھا: "BBC PK News Article MIAN KHUDABUX ABBASI
تمہیں ہمیشہ جلدی کیوں ہوتی ہے؟" شوہر نے حیرانی سے کہا: "جلدی؟ میں تو سمجھا تم بھی خوش ہو۔"یہ جملہ سن کر وہ عورت مسکرا دی۔ نہیں، وہ خوش نہیں تھی۔ وہ صرف سمجھوتہ کر رہی تھی, ہر اُس رات کی طرح، جب وہ جسم سے تو پاس ہوتی ہے مگر روح سے کہیں دور۔یہ کہانی صرف ایک عورت کی نہیں، یہ ہر اُس بیوی کی کہانی ہے جس کا شوہر جنسی میلاپ کو صرف دخول اور انزال تک سمجھتا ہے، قربت کو نہیں۔ اور ہر اُس مرد کی کہانی بھی ہے، جو سوچتا ہے کہ وہ صرف اپنی خواہش پوری کر رہا ہے، جب کہ دراصل وہ اپنی بیوی کے جذبات کو روند رہا ہوتا ہے۔مرد اور عورت، دونوں کے جسم میں وہی خون، وہی ہارمونس، وہی نیند، وہی تھکن، مگر جنسیات کے معاملے میں دونوں زمین و آسمان کا فرق رکھتے ہیں۔ یہ فرق فقط حیاتیاتی نہیں، بلکہ نفسیاتی اور جذباتی بھی ہے۔مرد کا جسم جنسی ہیجان پر جلدی ردعمل دیتا ہے۔ وہ تیزی سے بھڑکنے والی آگ کی طرح ہے، جو جلتی بھی تیزی سے ہے اور بجھتی بھی اتنی ہی جلدی ہے۔ اس کے برعکس عورت ایک جلتا ہوا دیپ ہے، جسے روشنی تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے، مگر پھر اس کا نور مسلسل پھیلتا رہتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق مردوں کی جنسی خواہش 18 سے 30 سال کی عمر میں عروج پر ہوتی ہے۔ جبکہ خواتین کی خواہش 30 کے بعد مزید جِلا پاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی کم یا زیادہ ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کی فطری ضرورتوں کی ‘رفتار’ مختلف ہے۔ اسی لیے شادی کا ابتدائی دور مرد کے لیے جنت، اور درمیانی دور عورت کے لیے اہم تر بن جاتا ہے۔جنسی میلاپ یا رومانس؟مرد کی ترجیح جنسی میلاپ، عورت کی ترجیح رومانس, یہ سادہ مگر گہری سچائی ہے۔ مرد کو آرام اور انتہائے لذت کم سے کم دو منٹ میں مل جاتا ہے (لیکن جنسی میلاپ کی تعلیم سے مزین مرد کا دورانیہ آدھے گھنٹے تک بھی ہوسکتا ہے, بغیر کسی ایفروڈائزک کے)، جبکہ عورت کو مطمئن ہونے میں تیس سے پچاس منٹ لگ سکتے ہیں۔ عورت کو foreplay یعنی ذہنی و جذباتی قربت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے جسم کو اس لمحے کے لیے آمادہ کر سکے۔اب اگر مرد صرف اپنے سکون کو مدِنظر رکھے، اور عورت کے جذبات و جسمانی ردعمل کو نظرانداز کرے تو یہ ازدواجی زندگی کا سب سے بڑا ظلم بن جاتا ہے۔ یہ وہ ظلم ہے جو عدالت میں نہیں دکھائی دیتا، مگر بیوی کے چہرے پر خاموشی سے لکھا ہوتا ہے۔ہمارے ہاں لڑکی کو جنسی میلاپ کے بارے میں جاننے کی اجازت نہیں۔ اُسے یہی سکھایا جاتا ہے کہ جنسی میلاپ مرد کی ضرورت ہے، اور بیوی کا فرض۔ اسے کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ جنسی میلاپ دونوں کی ضرورت ہے، اور دونوں کا حق۔ نتیجہ؟ عورت مباشرت میں لکڑی کی طرح جامد ہو جاتی ہے۔ وہ نہ اپنی خواہش کا اظہار کرتی ہے، نہ خوشی۔ وہ صرف "فرض" نبھاتی ہے، محبت نہیں۔یہی وجہ ہے کہ مرد کبھی کبھی اس عورت کی طرف مائل ہو جاتا ہے جو خود کو خوش دکھاتی ہے، اپنی لذت کا اظہار کرتی ہے، اور جنسی تعلق میں بھرپور ساتھ دیتی ہے۔ یہاں عورت کو سوچنا ہو گا: کیا خاموشی وفا ہے؟ کیا بےحسی عزت ہے؟ کیا جنسی تعلق میں اظہار، فحاشی ہے؟نہیں۔ مرد محبت اُس عورت سے کرتا ہے جو اس کی بانہوں میں خود کو کھو دینے کو محبت سمجھے، نہ کہ صرف ایک "ذمہ داری"۔گھریلو جھگڑوں کی جڑ: نامکمل مباشرت؟جب ایک مرد اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے اور وہ ہر بار انکار کر دیتی ہے، تو وہ یہ انکار صرف جسم کا نہیں، محبت کا سمجھتا ہے۔ جب ایک عورت ہر بار مباشرت میں pleasure سے خالی ہو، تو وہ سمجھتی ہے کہ شوہر صرف اپنی تسکین چاہتا ہے، اُس کی نہیں۔ایسے میں دل میں شک، ذہن میں بےچینی اور رشتے میں دوری پیدا ہو جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے گھروں میں محبت کم اور برداشت اور سمجھوتے زیادہ چل رہے ہیں۔ شوہروں کے چہرے اُترے ہوئے، بیویاں چڑچڑی، اور رشتے خالی… خالی جسموں کی طرح۔جنسی میلاپ صحت کے لیے مضر؟ یا دوا؟یہ بھی ایک بڑا مغالطہ ہے۔ جدید طب مانتی ہے کہ شادی شدہ زندگی میں باقاعدہ اور خوشگوار جنسی میلاپ انسان کے دل، دماغ اور نفسیات کے لیے مفید ہے۔ خاص طور پر عورتوں میں یہ دل کی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔ اور مردوں میں testosterone کا لیول برقرار رکھتا ہے جو ان کی توانائی، خوداعتمادی، اور یہاں تک کہ موڈ کو بھی بہتر کرتا ہے۔البتہ یہ تب ہی فائدہ مند ہے، جب جنسی میلاپ دونوں کی رضامندی، جذبات، اور آرام سے جُڑا ہو, نہ کہ زبردستی، تھکن یا "فرض" سمجھ کر کیا جائے۔ازدواجی راز، صرف ازدواجی زندگی تک رہنے چاہییں:نئی نویلی دلہنوں کا اپنی سہیلیوں سے جنسی میلاپ کی تفصیلات شیئر کرنا ایک انتہائی ناپسندیدہ اور شرعی طور پر ممنوع عمل ہے۔ یہ بات مردوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ جنسی میلاپ ایک راز ہے، ایک مان، ایک اعتماد۔ اگر یہ کسی تیسرے شخص کو بتایا جائے تو یہ اُس رشتے کی حرمت کو پامال کر دیتا ہے۔ اور اگر شوہر کو علم ہو جائے، تو وہ اعتبار کی بنیاد کھو بیٹھتا ہے۔جنسی میلاپ محبت کا اظہار ہے، جسم کی زبان ہے، اور روح کی قربت ہے۔ اگر مرد صرف دخول اور انزال کو ہی مقصد بنائے، اور عورت فقط خاموشی کو وفا سمجھے، تو رشتہ کمزور ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر دونوں ایک دوسرے کے جذبات، خواہشات اور ضرورتوں کو سمجھیں، تو یہی جنسی میلاپ، محبت کا بلند ترین مقام بن جاتا ہے۔میرا علم, مشاہدہ اور تجربہ یہی کہتا ہے کہ: "جنس صرف شہوت نہیں، محبت کی دعا ہے۔ یہ تبھی قبول ہوتی ہے، جب دونوں سچ بولیں, زبان سے نہیں، جسم سے، دل سے۔"
#عورت_مرد_اور_نفس_کے_درمیان_کھنچی_لکیر!دنیا کے ہر شہر، ہر گلی، ہر زاویے میں اگر کوئی چیز مرد کی آنکھ کو کھینچتی ہے، تو وہ عورت ہے۔ BBC PK News Article MIAN KHUDABUX ABBASI
حسن کا خمیر ہو یا نزاکت کا مظہر، عورت ایک تماشہ نہیں، ایک تخلیق ہے, وہ تخلیق جسے ربِ کائنات نے خود اپنی کاریگری کا شاہکار کہا۔ مگر تماش بینی کے بازار میں اس شاہکار کی بولی لگنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ آدم کی نسل پھر کسی حوا کی وارث کی بے لباسی سے خود کو بے قابو کر چکی ہے۔اب سوال یہ نہیں کہ مرد عورت کو دیکھتا ہے، سوال یہ ہے کہ عورت خود کو دکھاتی کیوں ہے؟یہ جو ہمارے سوشل میڈیا کے پردوں میں چھپی "دیسی مغربیت" ہے، یہ جو دوپٹوں کی بے وزنی اور لہجوں کی مٹھاس سے سجی بات چیت ہے، یہ جو "سمائل پاس" کرنے کی بے فکری اور "سجی سجائی پروفائل پک" کا منہ بولتا اشتہار ہے, یہ سب وہ خاموش دعوتیں ہیں جنہیں مرد کبھی بھی رد نہیں کرتا۔ اس لیے نہیں کہ وہ خراب ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ مرد ہے۔ ہوس اس کی فطرت نہیں، مگر نسائی فتنہ اس کی کمزوری ہے۔تم ایک مرد کو چائے کے ڈھابے پر بٹھاؤ، پاس سے ایک عورت گزرے، چاہے ساٹھ برس کی ہو یا سولہ کی، مرد کی نگاہ اسے اسکین کرتی ہے۔ کہیں لاشعوری طور پر، کہیں پورے ادراک سے۔اب چاہے وہ نقاب میں ہو یا نک سک سے تیار، مرد کی نظر اُس کی موجودگی سے ایک خوشی سی محسوس کرتی ہے۔ یہ کوئی فلسفہ نہیں، یہ تجربہ ہے۔ مشاہدہ ہے۔ انسانی جبلت کا وہ زاویہ ہے جسے ہم لاکھ الفاظ میں ملفوف کریں، مگر کبھی ختم نہیں کر سکتے۔مگر بات وہیں آکر رکتی ہے جہاں مرد کا نفس عورت کی نسوانیت کو ایک "پیکج" سمجھنے لگتا ہے۔ فری ٹرائل، یا ڈسکاؤنٹ پر دستیاب۔ عورت کی موجودگی مرد کو خوشی دیتی ہے, یہ بات درست۔ لیکن اگر وہ عورت خود اس خوشی کی "بخشش" بن کر مرد کے نفس کو مزید کھلونے فراہم کرے، تو پھر شکایت کیسی؟ نہ اُس مرد کو جو تمہیں آنکھوں میں بسائے بیٹھا ہے، اور نہ تمہیں، جو اپنی آنکھوں سے کسی کو بسنے دیتی ہو۔اب ایک عورت کہے کہ "ہم کیا کریں؟" تو عرض ہے، "وہی کرو جو اللہ نے تم سے کہا ہے"۔اپنی زینت کو چھپاؤ۔ لہجوں میں سختی لاو۔ لبوں سے بے ضرر سمائل بھی ختم کر دو, اگر سامنے والا مرد تمہارے نام کا ولی نہیں۔ یہ زبان، یہ جسم، یہ آنکھیں، یہ خدوخال, یہ سب صدقہ نہیں، جو راہ چلتے کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو بھی مل جائے۔ یہ سب امانت ہیں، جو صرف اُس کے لیے ہیں جو تمہیں عزت دے، نان نفقہ دے، نام دے، وراثت دے۔ایک مرد تب تک تمہارا کچھ نہیں جب تک وہ قاضی کے سامنے تمہارے نام کا اعلان نہ کرے۔ تب تک وہ تمہارا بھائی ہے، اور اگر بھائی بھی نہ ہو، تو بھی غیر محرم ہے, مکمل غیر محرم۔ اس غیر محرم کو اگر تمہارے چہرے کی ہنسی کا ذائقہ ملے، تمہارے لہجے کی مٹھاس کی عادت پڑے، تو پھر کل جب وہ تمہاری عزت کا تماشا بنائے، تو اس میں حیرت نہیں، صرف تمہاری "سستی" کا عکس ہوتا ہے۔عورت، اپنے لہجے کو لوچدار بنانے سے پہلے ایک بار ضرور سوچے کہ جس کے سامنے زبان رس گھول رہی ہے، کیا وہ اس رس کا اہل بھی ہے؟ جس کو وہ "ریپلائی" کر رہی ہے، کیا وہ کل کو نکاح نامے میں اُس کا "والی" بن سکے گا؟ اگر نہیں, تو لہجہ زہر بناؤ، تاکہ اُس کی نیت مرتی رہے۔ یہ نرم زبان، یہ ہنستی آنکھیں، یہ بے ساختہ سلام، یہ سب وہ چھوٹے چھوٹے روزمرہ کے "حرام لمحات" ہوتے ہیں جو بعد میں پوری زندگی کو برباد کر دیتے ہیں۔دوسری طرف مرد کے لیے بھی ایک بات واضح ہے, اللہ نے تمہیں عورت کے ہر روپ سے لُطف اندوز ہونے کی اجازت دی ہے، لیکن صرف اُس کے جو تمہاری بیوی ہو۔ باقی ہر عورت تمہارے نفس کی آزمائش ہے، نہ کہ دل بہلانے کا ذریعہ۔مگر تم تو ہر عورت کو تفریح سمجھ بیٹھے ہو۔ بازار میں، موبائل میں، سوشل میڈیا میں, نظروں کا زنا تمہاری فطرت نہیں، تمہاری لاپرواہی ہے۔ کیونکہ تم جانتے ہو، ایک لمحے کی لذت کا انجام جہنم کا شعلہ بھی ہو سکتا ہے۔لہٰذا عورت بھی باوقار بنے اور مرد بھی باخوف۔ عورت سمائل پاس کرنا بند کرے، مرد کمنٹ کرنا بند کرے۔ عورت اپنی زینت چھپائے، مرد نگاہیں جھکائے۔ عورت بات کرے تو لہجہ فولادی ہو، مرد بات کرے تو نگاہ درویشانہ ہو۔تب جا کر وہ معاشرہ ممکن ہے جہاں عورت "زینت" بنے گی, "تماشہ" نہیں، اور مرد "محافظ" بنے گا, "شکاری" نہیں۔فیصلہ عورت کا بھی ہے اور مرد کا بھی۔ چاہو تو نفس کی منڈی بن جاؤ، یا غیرت و حیاء کا وہ قلعہ بن جاؤ جسے نہ نظر چھو سکے نہ نیت ڈگمگا سکے۔اب توپیں باندھنے کی ضرورت نہیں۔ بس آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر پوچھو, تم اپنے رب کو خوش کر رہی ہو یا دنیا کے مردوں کو؟ اور اے مرد, تم عورت کو چاہ رہے ہو یا صرف اس کا جسم؟یہی سوال تمہاری خوداحتسابی اور اخروی نجات کا پہلا دروازہ ہے۔
*ایک دل چسپ کہانی*ایک آدمی کی بیوی چالیس سال کی BBC PK News Article MIAN KHUDABUX ABBASI
عمر میں انتقال کر گئی۔ جب اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے دوسری شادی کا مشورہ دیا تو اس نے جواب دیا کہ اس کی بیوی کا سب سے بڑا تحفہ ایک بیٹے کا ہونا ہے، اور وہ اس کے ساتھ اپنی زندگی گزارے گا۔بیٹے کی تربیتجب بیٹا بڑا ہوا، تو اس نے اپنے تمام کاروبار کی ذمہ داریاں بیٹے کو سونپ دیں۔ وہ اکثر اپنے دفتر میں یا دوست کے دفتر میں وقت گزارنے لگا۔تنہائی کا احساسبیٹے کی شادی کے بعد، وہ آدمی زیادہ تنہا محسوس کرنے لگا۔ اس نے اپنے گھر کا مکمل کنٹرول اپنی بہو کے حوالے کر دیا۔ایک دن کا واقعہبیٹے کی شادی کے ایک سال بعد، وہ دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا جب بیٹا بھی دفتر سے آیا۔ ہاتھ دھو کر کھانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ بیٹے نے سنا کہ والد نے کھانے کے بعد دہی مانگی، تو بیوی نے جواب دیا کہ آج گھر میں دہی نہیں ہے۔کھانا کھانے کے بعد، والد باہر چہل قدمی کے لیے نکل گیا۔ کچھ دیر بعد، بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گیا۔ کھانے کے برتن میں دہی موجود تھا، مگر بیٹے نے بغیر کسی ردعمل کے کھانا کھایا اور پھر دفتر چلا گیا۔حیرت انگیز خبرکچھ دنوں بعد، بیٹے نے اپنے والد سے کہا، "آج آپ کو عدالت جانا ہے اور آپ کی شادی ہو رہی ہے!" والد نے حیرت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا، "بیٹا! مجھے اب شادی کی ضرورت نہیں، اور میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں اور اب تمہیں بھی ماں کی ضرورت نہیں، تو پھر میری دوبارہ شادی کیوں؟"حقیقت کا انکشافلڑکے نے جواب دیا، "بابا، میں اپنی ماں کو آپ کے لیے نہیں لا رہا، نہ ہی ایک ساس کو اپنی بیوی کے لیے لا رہا ہوں! میں صرف آپ کے لیے دہی کا انتظام کر رہا ہوں! کل سے میں آپ کی بہو کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہوں گا اور آپ کے دفتر میں ایک ملازم کی حیثیت سے کام کروں گا تاکہ آپ کی بہو دہی کی قیمت جان سکیے۔"والدین کی اہمیتیہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ والدین ہمارے لیے اے ٹی ایم کارڈز ہو سکتے ہیں، لیکن وہ ہماری مرضی پر نہیں بلکہ ہم ان کی مرضی پر چلتے ہیں۔ دنیا کے تمام والدین کو زندہ باد! ہر گھر میں ایسے مثالی طرز عمل اپنائے جانے چاہئے...
رپورٹ : انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف بی بی سی پاکستان نیوز کراچی : BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت اسٹیوٹا کا اہم اجلاساجلاس میں چیئرمین اسٹیوٹا جنید بلند، ڈی جی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، ایم ڈی اسٹیوٹا اور متعلقہ افسران شریک۔نوجوانوں کے لیے مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کورسز فوری شروع کیے جائیں، چیف سیکریٹری سندھ کی ایم ڈی اسٹیوٹا کو ہدایت۔تفصیلات: کراچی : چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (اسٹیوٹا) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں چیئرمین اسٹیوٹا جنید بلند ، ڈائریکٹر جنرل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ، مینیجنگ ڈائریکٹر اسٹیوٹا طارق منظور چانڈیو اور دیگر متعلقہ اعلیٰ افسران شریک۔ اجلاس میں نوجوانوں کے لئے ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز میں مصنوعی ذھانت اور آٹی کورسز فوری شروع کیئے جائیں۔ چیف سیکرٹری سید آصف حیدر شاہ کی مینیجنگ ڈائریکٹر اسٹیوٹا طارق منظور چانڈیو کو ھدایت ۔اجلاس میں اسٹیوٹا کو جدید اور مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق کورسز متعارف کرانے کی ہدایت۔اسٹیوٹا سے فارغ التحصیل صرف 35 فیصد طلبہ کو ملازمت ملتی ہے، چیف سیکریٹری سندھ۔اسٹیوٹا سے تربیت حاصل کرنے والے گریجویٹس کی 100 فیصد ملازمت یقینی بنائی جائے۔ چیف سیکریٹری سندھ کی ہدایتاسٹیوٹا کو فعال بنانے کے لیے کے 30 فیصد ادارے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائے جائیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ۔اسٹیوٹا صنعتوں کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگرامز شروع کرے۔ آصف حیدر شاہ۔سندھ بھر میں 6 ڈویژنز سے 30 ماڈل ادارے قائم کیے جائیں گے، اجلاس میں فیصلہماڈل اداروں میں جدید نصاب، تربیت یافتہ عملہ اور عالمی معیار کی اسناد فراہم ہوں گی، اجلاس میں فیصلہ۔اسٹیوٹا کے تحت کراچی میں 56، حیدرآباد میں 65 ادارے کام کر رہے ہیں، اجلاس میں آگاہی۔سکھر میں 31، لاڑکانہ میں 46، میرپور خاص میں 18 اور شہید بے نظیرآباد میں 43 ادارے موجود، اجلاس میں آگاہی۔اسٹیوٹا کے اداروں کی بہتری کے لیے نجی شعبے کا تعاون ناگزیر ہے: آصف حیدر شاہ۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ہر معاہدے میں روزگار کا ہدف شامل کیا جائے: چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ۔ماڈل اداروں کا مقصد نوجوانوں کو مقامی و عالمی مارکیٹ کے لیے تیار کرنا ہے: جنید بلند۔اسٹیوٹا کو تدریسی عملے کی کمی، پرانے نصاب اور انفراسٹرکچر جیسے مسائل حل کیے جائیں گے: چیف سیکریٹری سندھ.
رپورٹ: انجنیئر اوم پرکاش ڈسٹرکٹ بیورو چیف & ھیرالال مالھی ، تحصیل رپورٹر ، بی بی سی پاکستان نیوز عمرکوٹ ۔ BBC PK News Umer Kot Hira Lal Report
عمرکوٹ: ایس ایس پی عمرکوٹ عزیر احمد کے احکامات پر منشیات و گٹکا ماوا کے خلاف کارواٸیاں . . . CIA عمرکوٹ کی بین الاضلاعی گٹکا سیلر و پیڈلر کے خلاف بڑی کارواٸ ایک کار سمیت 55000 گٹکا / ماوا برآمد 210 گرام چرس برآمد۔تفصیلات:01). عمرکوٹ CIA پولیس کی بڑی کارواٸ، پولیس تھانہ سامارو:انچارج سی آٸ اے عمرکوٹ خلیل کمہار نے سامارو بچہ بند روڈ پر انفارمیشن بیسڈ کارواٸ کرتے ہوٸے بین الاضلاعی گٹکا سپلاٸیر و پیڈلر راجہ خان مری کو 55000 گٹکا/ماوا سے بھری کار سمیت گرفتار کر لیا۔ گٹکا اور کار برآمد۔ پولیس تھانہ سامارو پر کراٸم نمبر 37/2025 دفعہ 4. 5. 8 گٹکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔02). عمرکوٹ CIA کی کارواٸ، پولیس تھانہ کھوکھراپار :اغوا اور ہیومن ٹریفکنگ ایکٹ کے مقدمے میں مطلوب ملزم یار محمد بھٹو گرفتار کراٸم نمبر 08/2025 دفعہ 365. B اور ہیومن ٹریفکنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج۔ 03). پولیس تھانہ ٹالہی: چوری کے مقدمے میں مطلوب ملزم دوست محمد گشکوری اور جموں گشکوری گرفتار مزید تفتیش جاری ہے۔ کراٸم نمبر 09/2025 دفعہ 379 34 تعزیرات پاکستان۔ 04). پولیس تھانہ کنری: نارکوٹیکس ایکٹ کے تحت ملزم بےتاب مکرانی گرفتار، 210 گرام چرس برآمد، کراٸم نمبر 83/2025 دفعہ 9. 1 3A نارکوٹیکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج
منگل، 20 مئی، 2025
یہ 1992 کی ایک گرم اور حبس زده دوپہر کی بات هے _بائیک پر جہلم شہر سے سرائے عالمگیر کی طرف آ رہا تها BBC PK News Article
ریلوے پل کے پاس پہنچا تو دیکها ایک جوان لڑکی پل کے نیچے سے اپنے کپڑے سنبهالتی , چینختی چلاتی بهاگ کر اُوپر سڑک پر آ رہی تهی _ پیچهے چھ سات مشٹنڈے جو اُسکو پکڑ کر دوباره پل کے نیچے لیجانا چاہتے تهے _ ہر طرف ہو کا عالم _ سڑک بالکل ویران _میں نے بائک روکی _ وه لڑکی میرے پیچهے آ کر چهپ گئی اور بولی _ بهائی , مجهے ان لوگوں سے بچا لو _ یہ میری عزت لوٹنا چاہتے ہیں _میں اُن دنوں میدان کا کهلاڑی اور اپنی جسمانی فٹنس کیلئے مکمل پر اعتماد تها ایک سیکنڈ میں ہی فیصلہ کر لیا کہ جو بهی ہو _ مر جاؤنگا پر اس لڑکی نے پناه مانگی ہے , اس کی حفاظت کرونگا _ان لوگوں پر شیطان سوار تها میں نے بہتیری منت کی کہ لڑکی کو چهوڑ دو پر اُنہوں نے میری ایک نا سنی _ مجهے دهکا دیا اور لڑکی کو اٹها لے جانے کی کوشش کرنے لگے _میں نے ایک کو پکڑا اور اُٹها کر سڑک پر دے مارا _جبکہ دوسروں نے مجهے پکڑ کر گرا دیا اور میری دهنائی شروع کر دی _تقریبا آدها منٹ یہ سین چلا هو گا _ تب تک سڑک پر چند راه گیر آ گئے اور یوں میری اور اُس لڑکی کی جان چهوٹی _میرے ہونٹ پهٹ گئے _مکوں کی بارش سے مونہہ سوج گیا _چیچی اُنگلی چبا لی گئی اور شاید کسی کے پاس بلیڈ بهی تها _ بائیں هاتھ کا انگوٹها کافی سارا کٹ گیا _آج بهی نشان ہے _چھ , سات لوگوں نے مل کر مارا تها _خون نہیں رک رہا تها _ قمیض تار تار ہو چکی تهی _ سڑک پر ہی بیٹھ گیا _ اس بہن نے میری قمیض مزید پهاڑ کر پٹی بنائی اور میرے انگوٹهے پر باندھ دی _ میں نے اس سے پوچها کہ بہن آپ بچ گئی ہو , بولی _جی بهائی _اللہ پاک نے میری حفاظت کی _ اُس کے اس جواب پر ناقابل بیان تسلی ہوئی _بہتا خون , پیٹ میں لگے ٹهڈے اور چبائی انگلی بهی لذت دینے لگ گئی _میں نے لڑکی کو کہا کہ آپ جاؤ _ وه بولی کہ بهائی یہ لوگ میرے پیچهے آ جائیں گے _ آپ مجهے دریا پار کروا دو _ میں نے اُسے پل پار کروا دیا _ بائک سے اترتے هوئے وه بولی کہ بهائی میں فقیرنی ہوں _ لوگوں کا اندر بهی پڑھ لیتی ہوں _آپ یقینا اسوقت کسی مصیبت میں ہیں _میری آپ کو دعا ہے _ آپ کے گهر پہنچنے تک وه مصیبت ختم هو چکی ہو گی اور باقی کی زندگی بهی اللہ کی رحمت آپ کے ساتھ رہے گی _وه مزید بولی کہ یہ جنہوں نے میری عزت پر هاتھ ڈالا اور آپ کا خون بہایا _ ان کا حشر بهی آپ صرف آج رات تک دیکھ لیں گے _تب میں بطور جونیئر افسر ایک ایگزیکٹو پوسٹ کا چارج ہولڈر لیکن کسی انتظامی مسلئے کی وجہ سے شدید پریشان تها _بہت حیرانگی ہوئی کہ اس لڑکی نے میرے دل کی بات کیسے جان لی _ وه کون تهی _ ؟اب خون سے لتهڑا , سوجے مونہہ اور پهٹے کپڑوں کے ساتھ میں اپنے محلے تو جا نا سکتا تها _ شام تک چهپ چهپا کر سرائے عالمگیر نہر کنارے بیٹها رہا اور اندهیرا ہونے پر گهر کی راه لی _گهر پہنچا نئی نئی شادی ہوئی تهی بیگم میری حالت دیکھ کر ایک بار تو بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئی _ اُن کو ساری بات بتائی تو اُنکی تسلی ہوئی اور بولیں کہ آپ نے اچها کیا _ ساتھ هی مجهے ایک سرکاری خط نکال کر دیا کہ یہ آپ کا کلرک دے کر گیا تها _خط پڑها تو مجهے فقیرنی یاد آئی _میرا وه انتظامی مسلئہ میرے حق میں حل ہو چکا تها _اس فقیرنی کی دعا اللہ کی بارگاه میں قبول ہو چکی تهی _رات بیگم صاحبہ نے دودھ میں دیسی گهی , انڈا اور هلدی ڈال کر پلائی اور مجهے تهپک کر سلا دیا _رهائش دریا کے کنار ے پر تهی _ پچهلی رات بجلی بند هوئی تو آنکھ کهلی _بیگم صاحبہ نے بتایا کہ دریا والی سائیڈ پر کافی شور ہے _صحن میں گیا تو دیکها کہ نالی کا پانی الٹی سائیڈ چل کر باہر سے میرے گهر آ رها تها _پتا چلا کہ بہت زوروں کا سیلاب چل رها ہے _ تقریبا بیس فٹ پانی ایک دم ہی چڑها اور ہر چیز بہا کر لے گیا _شہر جا کر دیکها تو مین بازار جہلم کی چهتوں پر سے پانی جا رہا تها _اچانک ہی دماغ میں اس فقیرنی کی بات گهوم گئی کہ _ ان کا حشر بهی آپ صرف آج رات تک دیکھ لیں گے _اُسی ریلوے پل کی طرف گیا جہاں اس مظلوم کو چهڑوایا تها _ ریپ اٹیمپٹ کرنے والے لوگوں کا پتا کیا کہ وه کون تهے اور اب کدہر ہیں _ پتہ چلا کہ وه سبهی لوگ تانگه بان تهے _ پل کے ساتھ نشیب میں گهوڑے تانگے باندهتے تهے اور وہیں ٹینٹوں میں ان کی رهائش تهی _ رات پانی آیا اور ان کے گهوڑے تانگے , بال بچہ اور وه خود _کل ملا کر تیره , چوده افراد بہا کر لے گیا _اس فقیرنی کی بد دعا بهی فورا ہی اللہ پاک کی بارگاه میں پہنچ کر اثر دکها چکی تهی _ان دو واقعات کے بعد وه ,, فقیرنی ,, میں نے بہت ڈهونڈی _ بہت گلیاں محلے پهرے _ اپنے تمام تر وسائل کو استعمال کیا _ پر وه نہیں ملی....#SachchiKahani #RealStory #JuratKiDastaan #InsaniyatZindaHai #JehlumBridge #SarayeAlamgir #PakistaniHero #CartoonStory #DuaKaAsar #FakirniKiDua #AuratKiIzzat #RomanchakWaqia #EmotionalStory #DesiStory #storyincartoon
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
*💫News Details**Sunday 19 Shaban Al-Mu'azzam 1447 AH* *February 8, 2026💫*
سانحہ اسلام آباد، بھارتی فنڈنگ اور سرپرستی، ہر قسم کی دہشت گردی فنڈنگ انڈیا سے، پہلے 5 سو اب 15 سو ڈالر دیئے جاتے ہیں، وزیر داخلہ ...
-
عمرکوٹ: ضمنی انتخابات این اے 213 عمرکوٹ کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی امیدوار میڈم صبا یوسف تالپور 161934 ووٹ حاصل کر کے بھاری ...
-
بلوچستان کے ضلع زیارت سے 2 ماہ پہلے اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) محمد افضل اور اس کے بیٹے کو اغوا کاروں نے قتل کردیا۔لیوی...
-
پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ، ٹرمپ کی دعوت قبول، مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ، تعمیر نو ہوسکے گی، دفتر خارجہ ارکان پارل...