Daily Bbc Pakistan: Deliver Latest news breaking news urdu news current news,top headlines in urdu from Pakistan, world, sports, Business, Cricket, Politics and Weather,
پیر، 26 مئی، 2025
*میرا پردیس کا سفر**سعودی عرب سے دو مہینے کی چھٹی BBC PK News
کا آج آخری دن تھا اور بچوں کے ساتھ آخری ناشتہ بھی، گھر کی دہلیز پار کی تو پھر دوسال بعد ہی لوٹوں گا ۔**یہ سوچ کر آج آلو کے پراٹھے کا ذائقہ بھی سعودی عرب کے سوکھے خبز کی طرح لگ رہا تھا، روز کی طرح آج سب کے چہرے کِھلے ہوئے نہیں تھے بلکہ مُرجھائے ہوئے تھے ۔**آج گھر میں چہل پہل نہیں تھی ۔ سب اداس تھے سوائے چھوٹے بیٹے کے جو ہاتھ میں غبارہ لئے کھیل رہا تھا۔ جس کو ابھی یہ نہیں معلوم کہ ہجر کیا ہے ، پردیس کیا ہوتا ہے ، اپنوں سے بچھڑنے کا غم کیا ہوتا ہے۔ وہ ان تمام باتوں سے ناآشنا ہاتھ میں غبارہ لئے مجھ سے اس بات کی ضد کئے جا رہا تھا کہ میں بھی جہاز پر بیٹھوں گا ۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا۔**میں اس کے معصوم سوالوں پر نادم ، اپنی مجبوریوں پر ماتم کناں، دسترخوان پر بیٹھا اسے روٹی کے ٹکڑوں سے بہلا رہا تھا، کھلونوں میں الجھا رہا تھا، جیب میں پڑے چند روپے دے کر خوش کر رہا تھا (چھٹی کے آخری دنوں میں جیب میں چند روپے ہی ہوتے ہیں ۔ )**لیکن آج وہ بھی اپنی ضد پر اسی طرح اڑا تھا جیسے میری مجبوری مجھے سعودی لے جانے پر اڑی تھی۔**دل میں سوچ رہا تھا کاش میں اس کو اپنے ساتھ لے جا سکتا، کاش میں ہردیس جاتا ہی نہیں، اپنے بچوں کے ساتھ ہی رہتا لیکن ہرخواہش کی تکمیل اور ہر خواب کی تعبیر کہاں …. میرے ساتھ جڑے نصیب اور ذمہ داریوں کے بیچ جذبات کی گنجائش کہاں ہے … اللہ کے فیصلے پر سر تسلیم خم اپنے جذبات کو ناشتے کے ہر نوالے کے ساتھ اتار رہا تھا ۔**اور ابھی ناشتے کی پلیٹ میں آخری لقمہ بچا ہی تھا کہ باہر کار ہارن بجاتے ہوئے مجھے لے جانے کے لئے آ پہنچی۔ کار کی آواز میں اس قدر سوز اور ہارن میں ہجرت کی ایسی وحشت تھی کی آخری لقمہ حلق سے نہ اتر سکا ، بیگ اٹھانے کے لئے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا کونے میں کھڑی بیٹی نے سوال کیا۔۔۔**"ابو پھر کب آئیں گے؟؟”**اس کا یہ سوال دل کو چھلنی کر گیا، میرا ضبط ٹوٹتا تو پاس میں کھڑی ماں، بہن، بیوی کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب اُمڈ پڑتا، اپنے آنسووں کو پی کر، غموں کو چھپا کر بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے زبان سے صرف اتنا کہہ کر باہر نکل گیا کہ جلد ہی واپس آؤں گا۔۔۔۔ بیٹی کو خوش رکھنے کے لئے میری زبان سے نکلا ہوا یہ ایک ایسا سفید جھوٹ تھا جس کو صرف میرا دل ہی جانتا تھا ۔**اماں میرے سامنے تو نہیں روتیں لیکن میرے جانے کے بعد یہ کہہ کر رو پڑتیں کہ میرا بیٹا ہر بار یہ کہہ کر سعودی عرب واپس چلا جاتا ہے کہ یہ آخری سفر ہے لیکن ہر سفر پر ضرورت اپنا منہ کھولے، ہاتھ پھیلائے، سینہ تانے ایسے کھڑی ہوتی ہے کہ مجبور ہوکر پھر وہ اسی اداس سفر پر واپس لوٹ جاتا ہے ۔**سعودی عرب کی کمائی سے گھر کی تنگی ختم ہوئی تو چھت کا سلیب باقی تھا، سر پر چھت ہوئی تو جوان بہن کا نکاح باقی تھا، بہن کا گھر بسا تو بھائی کی تعلیم باقی تھی۔ بھائی پیروں پر کھڑا ہوا تو باپ کا علاج باقی تھا ۔ پرانی ذمہ داریوں کی تکمیل کے بعد تھوڑی سی مہلت ملی تو ماں کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھایا کہ اماں اب یہ آخری سفر ہوگا ۔**دوسال بعد جب لوٹا تو ایک نئی ذمہ داری کو بالغ ہوتے دیکھ کر قَسم توڑ دی کہ اماں اب بیٹی بڑی ہورہی ہے ۔ اس کے نکاح کے لئے پھر پردیس جانا ہوگا ۔ اپنی اس بے بسی اور قربانی پر کلیجہ پھٹ گیا کہ اس بار حلوے کی جگہ صرف اپنی دوائیں لے کر واپس آیا۔**اچار کی جگہ صرف سیرپ لے کر گیا، یہ کہتے ہوئے کہ اماں شوگر، بلڈ پریشر اتنا زیادہ ہے کہ اب حلوے کی نہیں، دوا کی ضرورت ہے۔ میرے بیٹے کی اس تیس سالہ جدو جہد کے باوجود بھی نہ اس گھر کی ضروریات پوری ہو سکیں اور نہ ہی میرے بیٹے کی آخری سفر کی حسرت……سعودی عرب جانے کے بعد گھر کی پوری کیفیت بیگم ہمیشہ مجھے لکھ بھیجتیں ۔**اس لئے مجھے پتا تھا کہ اماں اس بار بھی ہمیشہ کی طرح روئی ہوں گی، بچے اداس ہوئے ہوں گے۔ گاؤں ، گھر ، بیوی ، بچے ، اماں ، ابا کی انھیں تمام باتوں کو یاد کرتے ہوئے پتہ نہیں کب میں ایئر پورٹ پہنچ گیا ۔ پتہ ہی نہیں چلا۔**ایئرپورٹ پہنچ کر سامان کو لیگیج میں ڈالنے کے بعد کسٹم آفیسر کے سامنے پاسپورٹ لیکر کھڑا ہوا ۔ اس نے اپنے چشمے کے اوپر سے مجھ پر ایک تحقیقی نظر ڈالتے ہوئے پاسپورٹ پر اس شدت سے مہر لگائی جیسے کسی جج نے ایک لمبی سنوائی کے بعد سزا سنانے ہوئے اپنی قلم توڑ دی ہو اور اس آخری مرحلے اور فیصلے کے بعد واپسی کے سارے راستے بند ہو گئے ہوں۔**ایک سزا یافتہ مجرم کی طرح ہاتھوں میں پاسپورٹ اٹھائے بوجھل قدموں سے ویٹنگ لاونج میں جا بیٹھا، ملک چھوڑنے سے پہلے آخری فون کرتے ہوئے بیگم اور اماں کو خدا حافظ کہتے ہوئے سیٹ بیلٹ باندھ لیا لیکن بیگم کا آنسووں میں بھیگا ہوا لہجہ اور اماں کی رندھی ہوئی آواز یہ ثابت کر گئی کہ ہجرت ۔۔۔ وقت کا دیا ہوا ایسا زخم ہے جو بھر بھی جائے تو اپنا نشان چھوڑ جاتا ہے ۔**اور پھر جہاز ٹیک آف کرگیا۔**کیونکہ ہجرت ہمیشہ وجود کی ہی ہوا کرتی ہے ۔ دل اور رشتے کبھی ہجرت نہیں کرتے ۔ یہ اپنی زمین ہی میں پیوست رہتے ہیں۔ بلکہ ہجرت کے بعد ماں ، باپ ، بیوی ، بچے گھر بار ، گاوں ، ملک سے محبت کا رشتہ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے ، اور اس قدر گہرا ہوتا ہے کہ گلی کا وہ پتھر بھی عزیز لگتا ہے جس سے کبھی چوٹ لگی ہوتی ہے۔**سعودی عرب پہنچتے ہی آنکھوں کی ساری رنگت، سارے نظارے، ساری ہریالی اس ملک کی زمین کی طرح صحرا میں بدل گئی، پھر سے وہی زندگی شروع ہوئی جسے چھوڑ کر گیا تھا ۔ عربیوں کی وہی تال۔ سرعۃ یلا یلا ،**وہی دال و کبسہ دو سال کا مقدر بن گیا، پورا ہفتہ تو کام میں گزر جاتا لیکن جمعہ کو کمرے کی تنہائی ڈسنے لگتی ۔**آج شام کو بچوں کی اس قدر یاد آئی، دل ایسا گھبرایا کہ روم سے باہر نکلا اور سمندر کے کنارے جا بیٹھا کہ شاید سمندر کی لہروں میں کھو کر کچھ غم کو ہلکا کر سکوں .. شام ڈھل چکی تھی ۔۔۔۔ اس اداس شام میں سمندر کے کنارے ریت پر بیٹھا سمندر کی لہروں کو ساحل پر سر پٹکتا دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا ۔**کہ یہ بھی میری طرح غم تنہائی کا ماتم اور ہجر کا شکوہ کر رہی ہیں ۔۔۔ یہ بھی پردیسی مسافرکی طرح سمندر میں میلوں کا سفر طے کرکے موجوں سے لڑتے ہوئے ساحل سے ٹکراکر اپنا وجود اسی طرح خاک میں ملا رہی ہیں ۔ جس طرح ایک پردیسی سات سمندر پار آکر مجبوریوں اور ضرورتوں سے لڑتے ہوئے اپنا وجود مٹی میں ملا دیتا ہے۔**ساحل پر سر ٹکراتی ان لہروں اور ہواؤں سے اٹھنے والی آواز میں ایسا سوز و غم تھا جیسے کوئی ماں اس درد سے کراہ رہی ہو جس کے بے گناہ بیٹے کو زعفرانی بھیڑ نے پِیٹ پِیٹ کر مار دیا ۔ سوچا تھا ساحل سمندر جاکر اس کی ٹھنڈی ہواؤں اور اس کی بل کھاتی لہروں سے لطف اندوز ہوکر غمِ تنہائی کو کچھ کم کر سکوں گا ۔**لیکن یہاں کی اداس شام اور سرپٹکتی لہروں نے میرے غم اور درد کی شدت کو اور بڑھا دیا ۔ گھبرا کر وہاں سے اٹھا ۔ اپنے روم پر واپس آیا، بیوی کو فون لگایا تو چھوٹا بیٹا ابو ۔۔۔ ابو کہہ کر رو رہا تھا ۔ گھر سے نکلتے وقت ایک جھوٹ بیٹی سے بولا تھا کہ جلد ہی آوں گا اور اب دوسرا جھوٹ بول کر بیٹے کو بہلا رہا ہوں کہ بازار سے آپ کے لئے کھلونا لینے آیا ہوں۔**اس معصوم نے میرے اس جھوٹ کو سچ سمجھ کر اپنا آنسو پوچھ لیا اور آج وہ ایک سال سے میری راہ تکتے ہوئے اپنے کھلونے کے انتظار میں بیٹھا ہے۔ گھر کے باہر رکنے والی ہر گاڑی کی طرف دوڑ کر آتا ہے اور پھر مایوس واپس لوٹ جاتا ہے۔**اور وہ باپ ہے کہ لوٹنے کو تیار نہیں، معصوم بیٹے کی مایوس آنکھوں کو سوچ کر دل خون کے آنسو روپڑتا ہے ، ہائے رے میری مجبوری کہ بیٹا جھوٹ کو سچ مان کر کھلونے کے انتظار میں دوسال گزار دیتا ہے اور باپ اپنی مجبوری ۔۔۔۔ اس بار جب گھر گیا تو سعودی عرب کی تپتی ریت اور بیماریوں نے اس قدر نچوڑ لیا تھا کہ آنے کی ہمت نہ کر سکا ۔**جو کسی سے نہیں ہارتا، وہ دکھ سے ہار جاتا ہے، مہنگی دوائی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور گھر کے بھاری اخراجات کے پیش نظر لوگوں نے علاقائی روایت کے مطابق مجھے بھی یہی مشورہ دیا کہ بیٹے کو سعودی عرب بھیج دو لیکن سعودی عرب سے نکلتے وقت میں اس روایتی کشتی کو اس خوف سےجلا کر آیا تھا ۔**کہ میرے بعد کہیں یہ کشتی میرے بچوں کے ہاتھ نہ لگ جائے ۔ اس لئے اب پردیس لوٹنے کا تو کوئی سوال نہیں تھا لیکن مجبوری اور ضرورت پھرکہیں میرا ایمان نہ توڑ دے، اس خوف سے پھرمیں نے اپنے عزم کو چٹانوں سی مضبوطی دی ۔ سعودی عرب جانے والے مشورے اور خیال کو اپنے دل و دماغ سے کھرچ کر نکال دیا ۔**بیماریوں اور پریشانیوں سے سمجھوتا کیا ، ضروریات کو کم کیا، ہر ممکن حد تک بچت کی، بیٹے کی تعلیم کو فوقیت دی، اس کو ہر چیز پر مقدم رکھا اور جب وہ میڈیکل کے بعد میڈیکل آفیسر بن کر گھر لوٹا تو سینہ فخر سے چوڑا ہوگیا ۔ میری ساری قربانیاں، پریشانیاں بیٹے کی کامیابی کے آگے چھوٹی ہوگئیں ۔**اس وقت اگر میں نے اپنی وقتی پریشانیوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے بیٹے کو سعودی عرب بھیج دیا ہوتا ۔**آج وہ بھی میری طرح کسی سمندر کے کنارے بیٹھ کر اپنی مجبوری اور تنہائی کا شکوۃ کرتا، بیوی، بچوں کی محبت و قربت سے دور شب تنہائی کاٹتا اور پھر آخیر عمر میں گھر بیٹھ کر اپنی قسمت کا رونا روتا ، یہ باعزت تعلیم یافتہ اور پرسکون زندگی اس کا مقدر نہ بن پاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔**لکھاری: نامعلوم*
اتوار، 25 مئی، 2025
حقیقت پر مبنی کہانی آپ کے پیشِ نظر کرنے جا رہی ہوں۔ BBC Pakistan news stories writer Iram Batool Sukkur
اس کہانی سے سبق حاصل کریں اور والدین کی خدمت اپنی اولین ترجیح رکھے۔گاؤں کے ایک پُرانے مگر صاف ستھرے گھر میں بانو بی بی اور حاجی بشیر احمد رہتے تھے۔ دونوں کی عمریں اسی کے قریب ہو چکی تھیں۔ چہرے پر جھریاں، ہاتھوں میں کپکپاہٹ، مگر دل اب بھی وہی تھا—والدین والا، قربانی دینے والا۔کبھی یہ گھر قہقہوں سے گونجتا تھا۔ صبح کا سورج بیداری کی آوازیں لے کر آتا تھا، اور شام کو بچوں کی باتوں اور کھیلوں سے ہر کونا روشن ہو جاتا تھا۔ بانو بی بی آٹھ بچوں کی ماں تھیں—پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں۔ ہر بچے کی پرورش انہوں نے ماں کی ممتا اور باپ کی محنت سے کی۔ حاجی صاحب کسان تھے، محنت مزدوری کر کے بچوں کو پڑھایا، بڑا کیا، اور سب کی شادیاں دھوم دھام سے کیں۔سب بچے اب شادی شدہ اور اپنے اپنے گھروں میں خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ کسی کا بزنس چل رہا تھا، کوئی سرکاری نوکری پر تھا، کوئی دبئی میں، کوئی اسلام آباد میں، اور بیٹیاں بھی بڑے گھروں میں بیاہی گئی تھیں۔مگر…اب وہ گھر جہاں کبھی خوشبو تھی، ویران ہو چکا تھا۔ دیواروں پر جمی گرد اور چھت سے ٹپکتا پانی، گویا وقت کے تھپیڑوں کی گواہی دے رہے تھے۔بانو بی بی اب گاؤں کی کچھ خواتین کے گھروں میں صفائی، برتن دھونا، اور روٹی پکانے کا کام کرتی تھیں۔ ان کی کمزور کمر اور لرزتے ہاتھ اکثر ان کی راہ میں رکاوٹ بنتے، مگر مجبوری تھی۔ دو وقت کی روٹی اور دوائیوں کا خرچ، اب وہ خود اٹھاتی تھیں۔حاجی صاحب مسجد میں صفائی کرتے، اذان دیتے، اور کبھی کوئی صدقہ خیرات مل جاتا تو شکر ادا کرتے۔ ان کی آنکھیں اب بھی راستہ تکتی تھیں کہ شاید کوئی بیٹا یا بیٹی آئے اور کہے:"ابا، چلیں ہمارے ساتھ، ہم آپ کو آرام دیں گے۔"مگر یہ صرف ایک خواب تھا۔ایک دن بانو بی بی نے چولہے پر ہاتھ جلا لیا۔ ہاتھ جل گیا، چھالے بن گئے۔ انہوں نے ایک بیٹی کو فون کیا۔"بیٹا، ذرا دو دن کے لیے آ جاؤ، ہاتھ جل گیا ہے، گھر کا کام نہیں ہو پا رہا۔""امی، بچے اسکول جا رہے ہیں، میاں کی میٹنگ ہے، میں کیسے آؤں؟ کسی اور کو بلا لیں کام کے لیے۔"بانو بی بی نے خاموشی سے فون رکھ دیا۔ایک دن محلے کی ایک عورت، نجمہ، بانو بی بی کے پاس آئی۔ وہ بولی:"باجی، تمہارے آٹھ آٹھ بچے ہیں۔ اور تم لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہو؟ کیا فائدہ ایسی اولاد کا؟"بانو بی بی کے آنسو پلکوں سے ٹپک گئے، مگر انہوں نے صرف اتنا کہا:"بس نصیب کی بات ہے بہن۔ اللہ ہدایت دے میرے بچوں کو۔"ایک رات حاجی صاحب کو شدید بخار ہو گیا۔ بانو بی بی دوائی لینے گئیں، مگر دوا کی قیمت زیادہ تھی۔ انہوں نے اپنے کان کی بالیاں بیچ دیں۔حاجی صاحب نے کمزور آواز میں کہا:"ہم نے بچوں کو اس لیے پڑھایا تھا کہ وہ ہمیں سہارا دیں، نہ کہ ہم بوجھ بن جائیں۔"بانو بی بی نے ہاتھ تھاما اور کہا:"اللہ سب جانتا ہے، بس ہمیں اپنی آخرت سنوارنی ہے۔"کچھ ہفتے گزر گئے۔ حاجی صاحب کی طبیعت مزید خراب ہوتی گئی۔ بانو بی بی دن میں کام کرتیں، رات کو شوہر کی تیمارداری۔ اُن کے پاس اب دوا کے پیسے نہ بچے تھے، نہ کھانے کے۔ایک دن انہوں نے سب بچوں کے مشترکہ واٹس ایپ گروپ پر پیغام بھیجا:"بیٹو، ابا کی طبیعت بہت خراب ہے۔ اگر کسی کے پاس وقت ہو تو آ جائے۔ دوا کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر نے اسپتال لے جانے کا کہا ہے۔"چوبیس گھنٹے گزر گئے۔کوئی جواب نہ آیا۔صرف ایک بیٹے نے میسج کیا:"امی، میں مصروف ہوں۔ اگلے ہفتے دیکھتا ہوں۔"اور ایک بیٹی نے صرف "اللہ شفا دے" لکھا۔وہ ماں جس نے راتوں کو جاگ جاگ کر بچوں کو دودھ پلایا تھا، جو خود بھوکی رہ کر انہیں کھانا کھلاتی تھی، آج وہی ماں ایک ٹھنڈے الفاظ پر قناعت کر رہی تھی۔گاؤں کے کچھ بزرگ اور نوجوان حیران ہوتے تھے۔"حاجی صاحب کے بچے کہاں ہیں؟ کیا وہ اکیلے ہیں؟""اتنے پڑھے لکھے بچے ہیں، سب شادی شدہ… مگر والدین تنہا؟"ایک دن گاؤں کے امام صاحب نے جمعہ کے خطبے میں یہ کہانی عوام کے سامنے رکھی، مگر نام نہ لیا۔ صرف اتنا کہا:"جن کے والدین زندہ ہیں، وہ جنت کے دروازے کھلے رکھیں۔ اُن کے ساتھ حسن سلوک کریں، ورنہ دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان پائیں گے۔"کچھ لوگ متاثر ہوئے، کچھ نے سچ پہچان لیا، لیکن جن کو پہچاننا تھا، اُن کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ایک دن کا واقعہ ہے۔ بانو بی بی بازار میں تھیں۔ کام کے بعد کچھ سبزی لینے گئیں تو اچانک ان کا چھوٹا پوتا نظر آیا، جسے وہ برسوں سے نہیں ملی تھیں۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ آیا تھا۔ بچہ پہچان نہ سکا، مگر بانو بی بی نے خوشی سے پکارا:"ارے، میرا شہزادہ! ادھر آؤ نانی کے پاس!"بچہ ڈر گیا، ماں فوراً بولی:"بچے کو ہاتھ مت لگائیے، وہ بیمار ہو جائے گا۔ اور پلیز راستہ چھوڑ دیں۔"بانو بی بی کا دل ٹوٹ کر بکھر گیا۔ انہوں نے نظریں جھکا لیں اور بغیر کچھ کہے واپس پلٹ گئیں۔چند دن بعد حاجی صاحب کو دل کا دورہ پڑا۔ بانو بی بی نے دو پڑوسی خواتین کی مدد سے انہیں اسپتال پہنچایا۔ مگر حالت نازک تھی۔ڈاکٹر نے کہا:"اگر اولاد ہے تو بُلا لیجیے، وقت کم ہے۔"بانو بی بی نے پھر ایک آخری بار بچوں کو کال کی۔"بیٹا، تمہارے ابا آخری وقت پر ہیں، آ جاؤ۔"کسی نے فون بند کر دیا، کسی نے کہا: "میں کام پر ہوں"، اور کسی نے جواب دینا بھی مناسب نہ سمجھا۔حاجی صاحب نے آہستہ سے کہا:"بانو، کیا بچے آئیں گے؟"انہوں نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا:"نہیں، اب ہمیں اللہ سے ہی امید رکھنی ہے۔"اسی رات حاجی صاحب نے دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ اُن کے کفن دفن کا انتظام بھی محلے والوں نے کیا۔اولاد صرف تصویریں دیکھ کر افسوس کے "ایموجی" بھیجتی رہی۔حاجی صاحب کی وفات کے بعد بانو بی بی بالکل ٹوٹ گئیں۔ وہ پہلے ہی کمزور تھیں، اب اندر سے بھی بکھر چکی تھیں۔ اُن کا جسم جیسے صرف ایک خالی سا خول رہ گیا تھا۔انہوں نے ایک دن فیصلہ کیا کہ اب وہ گاؤں چھوڑ دیں گی۔ مگر جانے سے پہلے انہوں نے ایک طویل خط لکھا، آٹھوں بچوں کے نام۔ خط وہی پرانے صندوق میں رکھا، جہاں ان کی شادی کی چوڑیاں، حاجی صاحب کا رومال، اور بچوں کے بچپن کی تصویریں تھیں۔خط کچھ یوں تھا:"میرے پیارے بیٹو اور بیٹیو،> ہم نے تمہیں محبت سے پالا، خود فاقے کیے مگر تمہیں بھوکا نہ سونے دیا۔ ہم نے سردی میں تمہیں کمبل دیا، اور خود رات جاگے۔ تم نے تعلیم حاصل کی، نوکریاں کیں، شادیاں کیں، اللہ نے تمہیں نوازا، یہ سب دیکھ کر دل خوش ہوتا تھا۔مگر جب ہمیں تمہاری ضرورت پڑی، تم دور ہوتے گئے۔ تم نے پوچھا بھی نہیں کہ ہم زندہ ہیں یا نہیں، کھاتے ہیں یا نہیں، بیمار ہیں یا صحت مند۔حاجی صاحب چلے گئے، تم اُن کے جنازے میں بھی نہ آئے۔ شاید تم سمجھتے ہو کہ ہم ضعیف ہیں، بےکار ہیں۔ مگر یاد رکھنا، جو والدین کے ساتھ کرتا ہے، اس کی اولاد بھی وہی کرتی ہے۔> میں جا رہی ہوں، کہیں دور، جہاں تمہاری یاد بھی نہ آئے۔ اب تم آزاد ہو، اور ہم بھی۔ مگر دل میں دعا ہے کہ تمہیں وہ وقت نہ دیکھنا پڑے جو ہم نے دیکھا۔تمہاری ماں،بانو بی بییہ خط پڑوسن زبیدہ بی بی کے حوالے کر دیا، کہ اگر کبھی کوئی بچہ آیا تو دے دینا۔کچھ ماہ بعد ایک ایسا وقت آیا کہ اولاد کو بھی دن دکھائی دینے لگے۔* بڑا بیٹا جِسے دبئی میں بزنس کا گھمنڈ تھا، مالی بحران میں آگیا۔ کروڑوں کا نقصان ہوا، اور واپس گاؤں آ گیا۔* دوسرا بیٹا جو اسلام آباد میں انجینئر تھا، اُس کا بیٹا نشے میں ملوث ہو گیا، اور جیل جا پہنچا۔* تیسرا بیٹا جو دین دار بننے کا دعویٰ کرتا تھا، اُس کی بیوی عدالت لے گئی، اور خلع لے لیا۔* چوتھے بیٹے کو دل کا دورہ پڑا، اور تنہا اسپتال میں پڑا رہا، کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔* پانچویں بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوا، اور اُس کا پاؤں کٹ گیا۔بیٹیاں بھی سکھی نہ رہیں، شوہروں سے جھگڑے، سسرال کی ذلت، اور بچوں کی نافرمانیاں ان کا مقدر بن گئیں۔ایک ایک کر کے سب کو احساس ہوا کہ شاید یہ والدین کی بددعا کا اثر ہے۔ اُن سب نے ایک دن گاؤں کا رُخ کیا، ماں کو منانے۔جب وہ سب گاؤں پہنچے تو ان کے بچپن کا گھر خالی تھا۔ در و دیوار خاموش تھے، اور صحن میں اداسی کا بسیرا تھا۔انہوں نے محلے والوں سے پوچھا۔ زبیدہ بی بی نے ان کے سامنے ماں کا خط رکھا۔ سب نے وہ خط پڑھا، اور بے اختیار رو دیے۔ دل شرمندگی سے بھر گئے۔"ہم بہت گناہگار ہیں… ہم نے والدین کو رُلایا… اللہ ہمیں معاف کرے۔"سب بچوں نے عہد کیا کہ وہ اپنی زندگی والدین کی تعلیمات پر گزاریں گے۔ انہوں نے گاؤں میں ایک بزرگوں کا مرکز قائم کیا، اور اس کا نام رکھا:دارالفلاح: حاجی بشیر و بانو یادگاروہاں روزانہ قرآن خوانی ہوتی، بزرگوں کی خدمت کی جاتی، اور ہر مہینے والدین کی یاد میں صدقہ و خیرات ہوتا۔یہ سب کرنے سے ان کے دل کو کچھ سکون ملا، لیکن بانو بی بی واپس نہ آئیں۔کوئی نہیں جانتا وہ کہاں گئیں، کہاں دفن ہوئیں۔ لیکن ان کی دعائیں اور بددعائیں، دونوں زندہ تھیں۔*اختتامیہ: سبق*یہ کہانی ان سب کے لیے ہے جو اپنے والدین کو بڑھاپے میں بوجھ سمجھتے ہیں۔ یاد رکھو، والدین کا سایہ جنت کی چھاؤں ہے۔ جو اسے کھو دیتا ہے، وہ دنیا میں بھی دربدر ہوتا ہے اور آخرت میں بھی۔
*کراچی میں پانی اور بجلی کی بندش کیخلاف مختلف علاقوں میں شہریوں کا احتجاج*BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report
کراچی میں شدید گرمی اور حبس کے موسم میں پانی اور بجلی کی بندش کے خلاف شہریوں کے احتجاج کا سلسلہ زور پکڑنے لگا۔نارتھ ناظم آباد سخی حسن ، کورنگی چکرا گوٹھ اور چنیسر گوٹھ کے مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے گھنٹوں تک سڑکیں بند رکھیں۔کالا پل کورنگی روڈ پر بجلی بندش کے خلاف چینسر گوٹھ کے مکینوں نے احتجاج کیا اور کورنگی روڈ کی دونوں سڑکوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔کورنگی چکرا گوٹھ کے مکینوں نے بھی کورنگی روڈ پر احتجاج کیا ، مشتعل شہریوں نے سڑک بند کر کے نعرے لگائے۔دوسری جانب نارتھ ناظم آباد سخی حسن ہائیڈرنٹ پر علاقہ مکینوں نے پانی کی عدم فراہمی پر احتجاج کیا اور اطراف کی سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کردیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ علاقے میں پانی نہیں اور واٹر ہائیڈرنٹس سے ٹینکروں کو مسلسل پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ادھر جماعت اسلامی ضلع ائیرپورٹ کے تحت لوڈشیڈنگ کے خلاف ملیر میں کے الیکٹرک کے دفتر کے سامنے چھٹے روز بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ ماؤں بہنوں کو عید کی تیاری کرنا تھی لیکن کے الیکٹرک کے ظلم کے خلاف دھرنا دیے بیٹھی ہیں، ملیر اور شاہ فیصل میں 18 گھنٹےکی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔منعم ظفر کا کہنا تھا کہ بل پورے بھیجے جاتے ہیں لیکن بجلی نہیں دی جاتی، 20 لاکھ سے 38 لاکھ صارفین ہوگئے ہیں لیکن کے الیکٹرک نے بجلی کی جنریشن میں کمی کردی ہے۔
👈 طلاق پہ لکھی گئی ایک داستانِ غم👉* BBC Pakistan news stories writer Iram Batool
🥺شادی تو بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی۔۔۔لیکن نصیبوں نے برباد کردیا تھا ۔۔مہک کی شادی اپنے کزن طاہر سے ہوئی تھی۔۔۔۔شادی کے بعد کچھ مہینے تو سکون سے گزرے تھے ۔۔۔ساس نند سب پوچھنے لگے۔۔۔۔۔8۔۔ماہ ہو گئے ہیں ۔۔کوئی اللہ کی رحمت۔۔۔۔۔۔مہک کوئی جواب نہ دیتی۔۔۔۔۔وقت گزرنے لگا۔۔۔۔5 سال گزر گئے لیکن مہک ماں نہ بن سکی۔۔۔۔۔پھوپھو ساس نند یہاں تک کے طاہر بھی طعنے دینے لگا ۔۔۔۔پھوپھو تو بار بار کہتی۔۔۔۔یہ منحوس ہے۔۔۔۔بس اس سے جان چھڑوا لینی ہے۔۔۔۔بانجھ پن کا طعنہ وہ الفاظ کتنا درد دیتے ہیں یہ صرف ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے۔۔۔۔مہک ہر شام طنز سہتے ہوئے سوتی یر صبح سخت لہجے اس کے منتظر ہوتے۔۔۔۔بہت دعا مانگی اے میرے اللہ مجھے معاف فرما ۔۔۔مجھ پہ رحم۔فرما۔۔۔۔۔میں اب تھک گئی ہوں باتیں سن سن کر ۔۔مجھے اپنی رحمت سے نواز دے۔۔۔۔۔ساس کبھی کسی حکیم کے پاس تو کبھی کسی ڈاکٹر کے پاس لیکر جاتی مہک کو ۔۔۔۔۔مہک کا ہر ٹیسٹ کلیئر ہوتا۔۔۔۔جب طاہر سے کہتے اپنا ٹیسٹ کروانے کو تو وہ انکار کر دیتا۔۔۔۔7 سال گزر گئے تھے ۔۔۔۔لیکن اولاد نہ ہوئی۔۔۔۔پھر ایک دن ۔۔۔مہک کھانا بنا رہی تھی۔۔۔طاہر گھر آیا ۔۔۔ساتھ ایک لڑکی تھی ۔۔ماں نے پوچھا ۔۔طاہر بیٹا یہ کون ہے۔۔۔۔طاہر مسکرا کر بولا۔۔۔۔اماں یہ تیری بہو ہے.۔۔ہم نے کورٹ میرج کی ہے۔۔۔۔ماں پہلے کچھ پریشان سی ہوئی پھر۔۔۔۔مہک کی طرف دیکھ کر بولی اس منحوس کا کیا کرنا ہے۔۔۔۔طاہر مہک کی طرف دیکھ کر 3 بار طلاق کا کہا۔۔۔پھر دوسری بیوی کا ہاتھ تھام کر کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔ساس نند سب بہت خوش تھے۔۔۔۔مہک کی تو دنیا آخر گئی تھی۔۔۔۔۔لیکن اب کیا کر سکتی تھی وہ زندگی بھر رونے کے سوا۔۔۔۔۔وہ انجام جانتی تھئ۔۔۔۔۔۔۔جب عورت کو طلاق ہو جائے تو یہ معاشرہ اس کے ساتھ کیا کرتا ہے۔۔۔۔طلاق والی لڑکی کو صرف گوشت کا ٹکڑا سمجھا جاتا یے۔ ۔۔۔10 سال پہلے وہ کب جانتی تھی ۔۔۔۔یوں آنے والا وقت اس پہ قہر برسائے گا۔۔۔۔۔۔وہ کب جانتی تھی اس کے دامن پہ طلاق کا دھبہ لگ جائے گا۔۔۔۔۔ساس گالی دے کر بولی ۔۔۔منحوس نکل جا اب ہمارے گھر سے۔۔۔۔۔بنا کچھ کہے لبوں کو سی لیا۔۔۔۔کیا شکوہ کرتی اب ۔۔۔کیا شکایت کرتی ۔۔۔جب زخم ہی اپنوں نے دیئے تھے۔۔۔۔۔کمرے میں گئی اہنا موبائل لیا۔۔۔۔۔الماری میں کپڑے پڑے ہوئے تھے۔۔۔۔کچھ ضرورت کا سامان تھا۔۔۔۔۔طاہر کہتا تھا نئی موٹر بائیک لینی یے ۔۔۔۔مہک نے پیسے جمع کرتے کرتے 5 سال میں 70 ہزار روپے جمع کر لیئے تھے اپنے خرچ میں سے۔۔۔۔۔جاتے ہوئے طاہر کی طرف مسکرا کر دیکھنے لگی ۔۔۔۔پاگل ہوں تو کسی کو دکھ نہیں نہ دیتے ۔۔۔۔۔میں بدعا نہیں دوں گی ۔۔۔بس میرے نصیبوں کا سفر ہی ایسا ہے۔۔۔خوش رہو تم دونوں .۔۔..اور ہاں ۔۔یہ لو 70 ہزار روپے ۔۔۔۔کہتے تھے نا بائیک لینی یے .۔میری طرف سے تم کو شادی کا گفٹ ہے۔۔۔طاہر مہک کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔۔غم کا ایک بھی آنسو نہ تھا ۔۔۔۔۔نہ جانے کیسے اتنا صبر کیئے ہوئے تھی ۔۔۔یوں لگ رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔۔مہک نے پھوپھو کے سامنے سر جھکایا.۔۔۔پھوپھو جان چلو مانا میں منحوس ہی سہی لیکن آپ میری پھوپھو بھی تو ہیں نا۔۔۔مجھے پیار تو دے دیں الوداع کرتے ہوئے۔۔۔۔پھوپھو نے منہ موڑ لیا.....۔مسکرانے لگی۔۔۔۔ہائے کیسے اتنی نفرت کر لیتے ہیں آپ لوگ.۔۔۔۔جیسے ہی گھر سے قدم۔باہر رکھا.۔۔۔ضبط ٹوٹ گیا۔۔۔۔۔آنکھوں سے آنسو کا طوفان بہنے لگا۔۔۔سرخ آنکھیں برباد زندگی۔۔۔۔تڑپتا دل بے بسی کی انتہا.۔۔۔۔ہزار شکوے ۔۔۔۔شکایت لبوں پہ۔۔۔۔۔۔کس سے کہتی کس کو سناتی کیا گزری اس پہ.۔۔۔۔۔رکشہ میں بیٹھی ۔۔۔۔۔امی ابو کے گھر آ گئی۔۔۔۔مسکرا رہی تھی۔۔۔۔۔امی سے ملی۔۔۔بھابھی بھائی ابا سب گھر تھے۔۔۔سب سے مسکراتے ہوئے ملی۔۔۔۔۔۔امی نے پوچھا ۔۔مہک خیر تو ہے ۔۔۔آج اس وقت اور اکیلی ہی آئی ہو طاہر کہاں ہے۔۔مسجد سے اذان کی آواز سنائی دینے لگی ظہر کا وقت ہو گیا تھا۔۔۔بنا کچھ بولے۔۔۔وضو کیا ۔۔نماز ادا کی۔۔۔۔نماز کے بعد امی سے کہنے لگی امی بھوک بہت لگی ہے کھانا ہی دت دیں ..امی کچھ نہ سمجھ پا رہی تھی۔۔۔مہک کو کھانا دیا۔۔۔۔کھانا کھا کر۔۔۔کہنے لگی امی سو جاوں کچھ دیر۔۔۔ماں نے غصے سے پوچھا میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔۔مجھے سچی بات بتا مہک کیا ہوا ہت۔۔۔۔طاہر نے کچھ کہا ہے کیا.۔۔۔۔مہک چپ رہی ۔۔۔نہیں امی کسی نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔بس آپ سے ملنے آئی ہوں ۔۔کہو تو چلی جاوں یہاں سے..۔۔ماں نے سینے سے لگایا۔۔۔۔مہک تیری آنکھیں بتا رہی ہیں کچھ تو بات ہے۔۔۔۔میں ماں کے سینے لگی ہوئی ۔۔۔۔۔مسکرانے لگی ۔۔۔۔آواز کانپنے لگی۔۔۔۔امی طاہر نے مجھے طلاق دے دی یے ۔۔۔بانجھ کہہ کر۔۔۔۔ماں کو یقین نہ ہو رہا تھا ۔۔یہ کیا کہہ رہی ہو میری بچی۔۔مہک بولی امی بس ہو گئی طلاق۔۔۔۔اب کوئی تماشہ نہ کرنا کوئی بھی۔۔۔بس جو ہونا تھا ہو گیا۔۔۔۔۔مجھے پہ ایک قیامت کا آنا ضروری تھا جو آ کر گزر گئی۔۔۔۔اب پلیز اس سے پوچھنا لڑنا جھگڑنا ۔۔۔۔۔امی چھوڑیں بس ۔۔۔میں کسی سے کوئی شکایت نہیں کرتی۔۔۔۔ماں تڑپنے لگی ۔۔۔مہک کیا ہو گیا میری بچی تم کو۔۔۔۔۔ہم۔ان لوگوں کو گریبان سے پکڑیں گے۔ حق مہر کی بات کریں گے ۔مہک مسکرانے لگی۔۔۔امی میری زندگی کو روگ لگ گئے آپ حق مہر کی بات کر رہی ہین۔۔۔کیا ہو گا اس سے۔۔۔۔کوئی فرق پڑے گا کیا۔۔۔۔چار لوگ اکھٹے ہوں گے میرا تماشہ لگے گا پولیس کورٹ کچہری۔۔۔۔۔گالم گلوچ ۔۔۔۔وہ لوگ بھی مجھے دیکھیں گے جن کو میری خبر تک نہیں ۔۔۔۔۔امی اس نے چھوڑ دیا میں خوش ہوں ۔۔۔۔۔بس اب پلیز اس بارے کوئی بات نہ کرے ۔۔۔۔مہک کمرے میں جا کر آنکھیں بند کر کے لیے گئی۔۔۔۔۔خیال آنے لگا۔۔۔۔کیسے طاہر کی خدمت کی ۔۔۔۔اس کے پاوں دباتی رہی۔۔۔اس کو کھانا بنا کر دیا۔۔۔کپڑے دھونا۔۔نہ سردی دیکھی نہ گرمی۔۔۔۔۔اس گھر کو گھر بنانے میں مصروف رہی۔۔۔کبھی بھوک بھی کاٹی ۔۔۔افلاس کے دن بھی دیکھے۔۔۔۔میں ہر ممکن کوشش کرتی رہی ۔۔۔میرا گھر آباد رہے۔۔۔۔نہ جانے کتنے طعنے سنے۔۔۔نہ جانے کتنے سخت لہجے برداشت کیئے۔۔۔۔۔۔بلاخر۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔طلاق ۔۔۔۔یہ کیا ہے سب۔۔۔۔باپ نے کہا ہماری بچی ہماری مرضی سے ہی شادی کرے گی۔۔۔۔نہ پسند پوچھی نہ دل کا حال بیاں کرنے دیا ۔۔۔خود فیصلہ کیا اور مجھے خاموشی سے وداع کر دیا۔۔۔۔۔جس سے نکاح ہوا۔۔۔اس نے میری نہ کوئی قربانی دیکھی نہ میرا رات رات بھر جاگنا دیکھا ۔۔۔۔نہ میری چاہت کو سمجھا ۔۔۔۔بس مطلب کی نہ رہی تو چھوڑ دیا۔۔۔۔یم۔بیٹیاں کیا ہیں آخر ۔۔۔۔۔کبھی جہیز کے نام پہ ماری جاتی ہیں تو کبھی بے اولادی کے۔۔۔۔۔۔اتنے میں اذان ہونے لگی۔۔۔۔ساری رات سوچ میں گزر گئی۔۔۔۔آنکھ سے ایک آنسو ۔۔۔۔۔گال کو چھوتے ہوئے تکیہ کو بھگو گیا۔۔۔۔۔بلکل خاموش ہو چکی تھی۔۔۔۔کہنے کو ایم ۔اے پڑھی تھی۔۔۔۔لیکن بیٹیوں کی تعلیم کسی جاہل مرد کے نکاح میں آنے سے ختم ہو جاتی ہے۔۔۔۔کیوں کے معاشرہ کہتا ہے۔۔۔مرد اگر گالی بھی دے تو خاموش رہو ۔۔مرد تھپڑ بھی مار دے تو خاموش رہو۔۔اور اگر مرد طلاق بھی دے تو بھی مجرم بن کر دامن پہ داغ لیئے خاموش رہو۔۔۔۔۔وقت گزرنے لگا۔۔۔۔مہک کی زندگی اندھیرے میں ڈوب چکی تھی۔۔۔نہ کوئی خواہش تھی باقی نہ کوئی چاہت۔۔۔یوں کہہ لیں صرف سانسوں کا سفر جاری تھا۔۔اور موت کا انتظار ۔۔۔۔اب رنگین دنیا سے ڈرنے لگی تھی ۔۔۔اب کئی کئی گھنٹے وہ تنہا بیٹھی نہ جانے کس سوچ میں گم رہتی ۔۔۔۔یاداشت کمزور ہو گئی۔۔۔رات کو کیا کھایا تھا صبح تک بھول جاتی۔۔۔۔کبھی کوئی چیز کہیں رکھ دی تو بھول گئی۔۔۔۔جسے خود کی خبر نہ رہے وہ زندہ لاش ہوتا ہے۔۔۔۔اور پھر کتنی آسانی سے کوئی کسی کو چھوڑ جاتا ہے۔۔۔مہک طلاق کے بعد ایک پتھر سی بن گئی تھی۔۔بھابھی لوگ اتنی طنز طعنے دیتی تھیں ۔۔۔۔لیکن خاموش بلکل خاموش رہتی۔۔۔۔کیا فرق پڑتا ہے اب کوئی کچھ بھی کہے۔۔جیسے جینے کی تمنا ختم ہو گئی تھی۔۔۔۔۔بابا نے سوچا ہماری کہانی کب ختم۔ہو جائے خدا جانے۔۔۔مہک کی دوبارہ شادی کر دیتے ہیں ۔۔۔لیکن مہک اب کی بار مر تو سکتی تھی لیکن شادی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔اسے اب ایک نفرت سی تھی اس رشتے سے۔۔۔۔۔اسے لگتا تھا سب مرد گھٹیا اور فریبی مطلبی ہیں ۔۔۔۔بس اپنے مطلب تک ساتھ رہتے ہیں مطلب ختم راستے جدا کر لیتے ہیں ۔۔پھر نہ وفائیں کام آتی ہیں نا خدا کے واسطے ۔۔۔بس ۔۔چھوڑ دیا جاتا ہے۔۔راکھ بنا کر اڑا دیا جاتا ہے ہر رشتہ۔۔۔۔ایک رشتہ آیا۔۔۔لڑکا بیرون ملک جاب کرتا تھا۔۔۔عمر کافی تھی۔۔۔امیر تھا۔۔۔پہلے بھی دو شادیاں کر چکا تھا۔۔۔مہک نے انکار کر دیا۔۔۔کوئی 5 بچوں کا باپ تو کوئی 3 بار شادی شدہ ۔۔کبھی کوئی شرابی تو کبھی کوئی بڈھا۔۔۔۔اس طرح کے رشتے آنے لگے۔۔۔۔اور ستم یہ بھی ہے کے.۔فارس کی قلم لکھے بھی تو کیسے۔۔۔۔لڑکی بلا کی خوبصورت ہو۔۔۔لڑکی جتنی بھی پاک صاف با حیا ہو۔۔لڑکی کتنی بھی پڑھی لکھی ہو۔۔۔۔بس طلاق کا داغ لگ جائے تو میرے معاشرے میں جیسے وہ ایک طوائف سی بن جاتی ہے۔۔۔لوگ ایک نفرت کہ نگاہ سے دیکھتے ہیں اسے۔۔۔جیسے اس نے کوئی گناہ کر دیا ہو۔۔۔شرابی کے رشتہ آئے گا کہیں گے شرابی کو ہی دے دو۔۔طلاق ہوئی ہے کون لے گا اسے۔۔۔واہ کیا معاشرہ ہے۔۔۔مطلب طلاق ہونے پہ لڑکی طوائف بن جاتی ہے ۔۔اللہ تباہ و برباد کرے ایسے معاشرے کو۔جس میں عورت پہ طلاق کا دھبہ لگا کر چوروں ڈکیٹوں شرابی زانی مردوں کی ملکیت سمجھی جاتی ہے۔۔۔۔خیر مہک کے لیئے کچھ ایسے ہی رشتے آنے لگے ہر بار انکار کر دیتی ۔۔۔بابا نے بہت سمجھایا۔۔۔بیٹی ہماری بات مان لو ۔۔زندگی کا سفر تنہا نہیں گزارا جاتا ۔۔۔کل کوخدا جانے کیا سے کیا ہو جائے۔۔۔۔لیکن مہک انکار کرتی رہی ۔۔۔۔۔ایک دن شادی کی وجہ سے امی ابو بھائی کے ساتھ بہت جھگڑا ہوا مہک کا۔۔۔بھائی کہنے لگا۔۔لڑکا پولیس میں ہے امیر بھی ہر اچھا ہے۔۔۔اس سے کیا اعتراض ہے تم۔کو۔۔۔مہک کی بس ضد تھی شادی ہی نہیں کرنی ۔۔۔۔ جب سب سو گئے۔۔تو نیند کی گولیاں کھا لیں ۔۔۔پھر جب حالت بگڑنے لگی تو رونے لگی اونچی آواز میں ۔۔۔۔بابا نے آواز سنی کمرے میں آئے مہک کی حالت غیر ہو چکی تھی۔۔۔جلدی سے ہسپتال لے گئے۔۔۔رات کے بارہ بج رہے تھے ۔۔ڈاکٹرز نے معدہ واش کیا۔۔۔۔علاج شروع کیا۔۔۔۔ماں مہک کے سر پی ہاتھ پھیر کر بولی میری بچی کیوں خود کو اذیت دے رہی ہو۔۔۔وہاں ایک لڑکا وقاص جو نرس تھا وہاں پہ ڈرپ انجیکشن وغیرہ لگا رہا تھا مہک کو۔۔ڈاکٹر نے وقاص سے کہا اس مریض کو جو جو میں نے میڈیسن لکھ کر دی ہے تم۔نے خود ٹائم۔پہ کھلانی ہے۔۔وقاص نے ہاں میں سر ہلایا ٹھیک ہے سر ۔۔ڈاکٹر بولا اچھا میری ڈیوٹی کا ٹائم ختم ہو چکا ہے یہ نرس وقاص یہی ہے۔۔۔۔اس کو میں نے سب کچھ بتا دیا ہے آپ پریشان نہ ہوں خطرے والی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔2 بج رہے تھے بابا ہسپتال کے گارڈن میں بیٹھ گئے جا کر ۔۔۔ماں بھی پاس صوفے پہ لیٹی تو آنکھ لگ گئی ۔۔۔مہک نے آواز دی مجھے پانی دو۔۔۔۔وقاص جلدی سے آیا کیا چاہے آپ کو ۔۔۔مہک نے پانی کا کہا ۔۔۔وقاص پانی لیکر ایا۔۔خود سہارا دے کر اٹھایا۔مہک کو ۔۔پانی پلایا۔۔۔پھر پاس بیٹھ گیا۔۔۔مہک کی طرف دیکھ کر بولا۔۔میں نے آپ کے بابا کو روتے دیکھا ہے۔۔وہ آپ کے لیئے بہت پریشان ہیں ۔۔۔آپ بابا کی بات کیوں نہیں مان لیتی ۔۔۔ایم سوری میرا کوئی حق نہیں آپ سے کچھ کہنے کا بس ۔۔۔دل میں بات آئی کہہ دی۔مہک خاموش رہی۔۔۔وقاص پاس ہی بیٹھا تھا کے مہک وامٹنگ کرنے لگی۔۔وقاص نے اس کی والدہ کے ساتھ مل کر اسے سنبھالا۔۔۔۔۔۔وقاص نے بیڈ شیٹ چینج کی۔۔پھر ایک انجیکشن لگایا۔۔۔رات بھر مہک کے پاس میڈیسن وغیرہ دیتا رہا۔۔۔دوسرے دن جب ڈاکٹر آیا تو چیک اپ کیا ۔۔۔ڈاکٹر نے بتایا اب پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے آپ گھر جاسکتے ہیں ۔۔۔۔وقاص نے دل میں ایک خواب سجایا۔۔۔کتنی اچھی کتنی پیاری ہے مہک ۔۔۔اس کے بابا کہہ رہے ہیں ایک 5 بچوں کے باپ سے شادی کر لو۔۔صرف اسلیئے کے مہک کو طلاق ہوئی ہے ایک بار ۔۔۔میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی طلاق والی خاتون سے نکاح کیا تھا نا۔۔۔میں بھی مہک سے نکاح کر لوں گا۔۔۔۔نہ جانے کتنے درد دل۔میں لیئے جی رہی ہے ہر درد مٹا دوں گا۔۔۔۔وقاص گھر گیا امی سے بات کی ۔۔امی جان ایک لڑکی ہے بہت اچھی ہے پیاری تو اتنی نہیں ہے لیکن مجھے یقین ہے ہمارے گھر کو جنت بنا دے گی۔۔۔ماں نے پوچھا کون ہے وہ وقاص نے بتایا امی جان اسے ایک بار پہلے طلاق ہو چکی ہے۔۔ماں غصے میں بولی شاباش اب ہم۔کو شریکوں میں بدنام کرے گا طلاق والی لے آئے ہو۔۔۔۔وقاص مسکرا کر بولا امی جان ۔۔بدنام ہو یا عزت شادی تو اس سے ہی کروں گا۔۔۔جب وقاص کے بھائیوں اور بہنوں کو پتہ وہ لعنتیں دینے لگے۔۔بس طلاق والی ہی رہ گئی ہے اب کیا۔۔۔بہن اپنی نند کے لیئے کہنے لگی اور بھائی اپنی سالی کے رشتے کی بات کرنے لگا۔۔۔وقاص بس بضد تھا مہک سے ہی نکاح کرنا ہے۔۔۔۔ماں نے کہا ٹھیک ہے کر لو ۔۔لیکن تمہارے بھائی کہہ رہے ہیں شادی کے بعد بیوی کو لیکر کر الگ رہنا ۔۔وہ اتنی اچھی ہوتی تو اس کو طلاق کیوں ہوتی۔۔۔وقاص راضی ہو گیا ٹھیک ہے الگ رہوں گا۔۔۔دوسرے دن وقاص اس کی بہن ماں مہک کے گھر گئے۔۔رشتے کی بات کرنے ۔۔۔سلام دعا کے بعد بات چیت شروع ہوئی۔۔۔مہک کی ماں کہنے لگی۔۔۔ہم کیا کریں ہماری بیٹی نہیں مانتی۔۔۔وقاص پیار سے بولا آنٹی کیا میں ایک بار مہک سے بات کر لوں ۔۔ماں نے ہاں میں سر ہلایا بیٹا کر لو بات ۔۔آگے نصیب کا کھیل ۔۔۔مہک بہت غصے میں تھی جب وقاص کو سامنے دیکھا چپ ہو گئی۔۔۔کیسی ہیں آپ ۔۔مہک آہستہ سے بولی ٹھیک ہوں ۔۔آپ کہاں ۔۔۔وقاص بولا مہک آپ کی امی اور ابو سے آپ کو مانگنے آئے ہیں ۔۔۔مہک سخت لہجے میں بولی۔۔وقاص آپ کا یہ پاگل پن ہے ۔۔میں جانتی ہوں مجھے رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔۔وقاص مسکرانے لگا ہر مرد ایک سا نہیں ہوتا ۔۔بس اللہ کی خاطر مجھے ایک موقع دے دیں ۔۔۔بہت واسطے دیئے مہک کو ۔۔مہک آخر ہار گئی ٹھیک ہے۔۔۔سب بہت خوش تھے۔۔مہک وقاص کی ہمسفر بن گئی۔۔سب نے بہت برا بھلا کہا وقاص کو طلاق والی لے آیا ہے۔۔۔وقاص کو پرانا ایک کمرہ الگ سے دے دیا۔۔بھائی وقاص سے بات تک نہ کرتے تھے۔۔۔مہک کو بہت بری لڑکی سمجھتے تھے۔۔وقاص مہک سے کہنے لگا میری جان میں امیرازاہ تو نہیں ہوں لیکن وعدہ کرتا ہوں شہزادی بنا کر رکھوں گا آپ کو۔۔۔مہک محسوس کر رہی تھی وقاص اچھا انسان یے۔۔وقاص ناشتہ کے وقت مہک کے ساتھ مل کر ناشتہ تیار کرواتا پھر مل کر دونوں ناشتہ کرتے۔۔۔وقاص کی تنخواہ 15 ہزار تھی جس سے گزارہ بہت مشکل تھا۔۔۔کچا سا مکان تھا ۔۔بھائی سب الگ تھے انھوں کے اہنے گھر نئے بنا لیئے۔۔مہک ایک دن کہنے لگی۔۔وقاص یہ آئی فون کتنا مہنگا ہوتا ہے نا۔۔۔وقاص مسکرانے لگا میری جان آپ کی صرف ایک مسکراہٹ کی قیمت ہے آئی فون ۔۔۔مہک جینے لگی تھی وقاص چاہے غریب تھا لیکن ایک شہزادہ تھا۔۔سب مذاق اڑانے لگے۔۔بڑا آیا شادی کی تھی طلاق والی سے۔۔اب گھر نہیں بنا سکا۔۔۔وقاص خاموش رہا۔۔۔ایک دن مہک کی دوست نے بتایا سکول ٹیچرز کی جاب آئی ہے اپلائی کر لو۔۔۔مہک نے وقاص سے بات کی وقاص ہاتھ تھام کر بولا میری جان آپ کا جو دل کہتا ہے وہی کریں مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔مہک نے اپلائی کیا۔۔تعلیم اچھی تھی۔۔۔اللہ کا کرم ہوا۔۔17 گریڈ کی ٹیچر کی جاب مل گئی۔۔۔بہت خوش تھے دونوں بھائی کے گھر مٹھائی بیجھی۔بھائی منہ بنا کر بولا بے غیرت بیوی کی کمائی کھائے گا۔۔کہاں خوش ہوتے ہیں ہم۔کو رلانے والے۔۔دو سال بعد مہک سکول کی پرنسپل بن گئی۔۔اچھی خاصی تنخواہ پھر بہت سے بچے ٹیوشن بھی پڑھتے۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے حالات بدلنے لگے۔۔ڈبل منزل گھر بنا لیا۔۔وقاص نے اپنا میڈیکل اسٹور بنا لیا۔۔۔زندگی خوشیوں میں بدل گئی۔۔اللہ پاک نے رحمت کی بیٹا عطا کیا۔۔۔وقاص بہت خوش تھا۔۔ایک دن وقاص کے میڈیکل اسٹور پہ ایک شخص آیا سر سے خون بہہ رہا تھا کپڑے پھٹے ہوئے تھے ساتھ ایک لڑکا تھا ۔۔اس کے سر پہ مرہم پٹی کی پوچھا کیا ہوا ہےوہ شخص گالی دے کر بولا ڈاکٹر میری بیوی بڑی ظالم ہے میرا گھر زمین جائیداد اہنے نام کروا لی اب مجھے روز کتے کی طرح مارتی ہے۔۔وہ کوئی اور نہیں مہک کا پہلا شوہر طاہر تھاوقاص کا بھائی بھی سامنے ھی کھڑا تھا ۔۔۔وقاص پاس گیا۔۔کہنے لگا۔بھائی جان ۔۔یہ دیکھیں وہی مہک ہے نا جس کی وجہ سے آپ نے مجھے گالیاں دے کر گھر سے نکال کر کچے سے مکان میں بیجھ دیا۔۔۔آپ کہتے تھے یہ طلاق والی عورت ہےبھائی جان میں آپ پہ طنز نہیں کر رہا اللہ معاف کرے۔۔میں حقیقت بتا رہا ہوں ۔۔طلاق والی لڑکی کیوں اتنی بری ہے میرے معاشرے میں ۔۔کیوں طلاق والی لڑکی کو نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اسے غلط سمجھا جاتا ہے اسے غلط بولا جاتا ہے۔۔۔اور طلاق دینے والا مرد غلط ہو کر بھی پارسا رہتا ہے۔۔. بھائی میں تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں طلاق والی لڑکی کو اپنا ہمسفر بنایا۔۔۔ورنہ میں بھی آپ کی طرح سوچتا تو شاید میری مہک یا تو زندگی بھر طلاق کا بوجھ لیئے تڑپتی رہتی یا پھر کسی شرابی یا پانچ بچوں کے باپ کسی بوڑھے کی نوکرانی بن کر عمر گزار دیتی ۔۔آج الحمداللہ ہم دونوں بہت خوش ہیں ۔۔۔بھائی جان سوچ کو بدلیں صرف عورت کو گالی دینا بند کریں جانتے ہو بھائی طلاق کب ہوتی ہے جب ایک سمجھدار اور اچھی لڑکی کسی جاہل اور برے مرد کے ساتھ باندھ دی جائے یا سمجھدار اچھا مرد جاہل اور بری عورت کے ساتھ باندھ دیا جائےاور ہاں ۔۔۔ضروری نہیں طلاق والی لڑکی کوئی مجرم ہو۔۔اگر ایسا ہوتا تو میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی طلاق والی عورت سے نکاح نہ کرتے ۔۔۔خدارا جہالت کی دنیا سے نکل کر عورت کو عزت دینا سیکھیں*تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے پیاروں کے ساتھ اور اپنے مقامی گروپس میں شیئر کیجئے ہو سکتا ہے آپ کی تھوڑی سی محنت یا کوشش کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائے*
سامان منزل تک کیوں نہیں پہنچ رہا.؟چند دن پہلے ایک صاحب ملے، چہرے سے تھکے تھکے، بول چال میں بھی کچھ اُداسی سی تھی۔ بڑے ادب سے فرمانے لگے، "BBC PK News Stories
جاوید بھائی، پتا نہیں کیا ہو رہا ہے۔ روز تھکن رہتی ہے، ہڈیوں میں درد ہے، نیند بھی ٹھیک سے نہیں آتی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا وٹامن ڈی کی کمی ہے، میں نے گولیاں بھی شروع کر دیں، دھوپ میں بھی بیٹھتا ہوں، لیکن آرام نہیں آ رہا۔"میں نے نرمی سے مسکرا کر کہا، "معذرت کے ساتھ کہتا ہوں فائدہ ہوگا بھی نہیں!"وہ حیران پریشان میری طرف دیکھنے لگے۔ پھر میں نے ان سے ایک سادہ مثال دی۔ کہا، "سوچیے آپ کا جسم ایک ٹرک ہے۔ اس ٹرک میں کیلشیم نامی قیمتی سامان لدا ہوا ہے، جو آپ کی ہڈیوں، دانتوں، پٹھوں اور دل کے لیے ضروری ہے۔ یہ سامان جسم کے مختلف حصوں تک پہنچانا ہے۔ اب اس ٹرک کو چلانے کے لیے ایک ڈرائیور چاہیے، وہ ڈرائیور ہے وٹامن ڈی۔"وہ سر ہلا کر کہنے لگے، "جی سمجھ رہا ہوں۔"میں نے کہا، "اب اگر آپ صرف ڈرائیور بٹھا دیں،لیکن ٹرک کے ٹائر پنکچر ہوں، انجن میں تیل نہ ہو، یا راستے میں کیچڑ ہو، تو کیا ڈرائیور کچھ کر سکے گا؟".... بولے، "نہیں، ہرگز نہیں۔"میں نے کہا، "بس یہی ہو رہا ہے۔ وٹامن ڈی تو آ گیا، مگر جس چیز سے ٹرک چلے، یعنی میگنیشیم، وہ اگر جسم میں نہ ہو، تو وٹامن ڈی اپنا کام نہیں کر پاتا۔ اور نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آپ کو محسوس ہو رہا ہے: تھکن، درد، نیند کا نہ آنا، اور چڑچڑا پن۔ اور ہاں، اگر آپ وٹامن ڈی کی گولیاں زیادہ مقدار میں لے رہے ہیں، تو یہ میگنیشیم کو اور تیزی سے خرچ کر سکتی ہیں، کیونکہ وٹامن ڈی کو کام کرنے کے لیے میگنیشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے تھکن اور درد مزید بڑھ سکتا ہے۔"اب وہ پوری توجہ سے میری بات سن رہے تھے۔میں نے وضاحت کی، "میگنیشیم دراصل وہ معدنی غذا ہے جو وٹامن ڈی کو جسم میں صحیح طریقے سے جذب کرنے، اسے کام کرنے دینے، اور کیلشیم کو اپنی جگہ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔ جب تک میگنیشیم نہیں ہوگا، وٹامن ڈی گولیاں بے اثر رہیں گی، چاہے مہینوں کھاتے رہیں۔"پھر انہوں نے پوچھا، "اب حل کیا ہے؟" میں نے عرض کیا روزانہ کی خوراک میں میگنیشیم والی چیزیں شامل کریں، جیسے ہری سبزیاں (پالک، میتھی)، دالیں، سفید تِل، بادام، اخروٹ، کیلا، گُڑ، اور اگر ممکن ہو تو گندم اور جؤ کا چھان یعنی چوکر ملا آٹا استعمال کریں۔ اور پھر بھی آپ کو شک ہے کہ کمی کتنی ہے، تو ایک بار خون کا ٹیسٹ کروا لیں، تاکہ ٹرک کہاں پھنسا ہے، یہ بھی معلوم ہو جائے۔"وہ صاحب جاتے جاتے کہنے لگے، "آپ نے تو آنکھیں کھول دیں، جاوید بھائی۔ پہلے کبھی کسی نے یوں آسانی سے بات سمجھائی ہی نہیں تھی۔"میں نے مسکرا کر کہا، اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے ، اصل مسئلہ کبھی کبھی دوا کا نہیں، سمجھ کا ہوتا ہے۔ اور سمجھ اگر پیار اور سادگی سے دی جائے، تو دل پر اثر کرتی ہے۔"جاوید اختر آرائیں 25 مئی 2025 #جاوید_اختر_آرائیں
یہ کچھ سال پہلے کی بات ہے ایک دکان پر تازہ جلیبی بن رہی تھی وہ خریدی تو اخبار کا ساتھ آنے والا ٹکڑا پوری زندگی تبدیل کر گیا ۔۔۔ BBC Pakistan News Stories
پڑھنے کا شروع سے شوق تھاہوا کچھ یوں کہ اُس ٹکڑے پر ایک کالم چھپا ہوا تھا۔ کالم نگار کا نام اب یاد نہیں ہے لیکن اس نے جو لکھا تھا وہ سب یاد ہے حرف بہ حرف تو نہیں، لیکن یاد ہے۔ آپ بھی پڑھیں۔ اُس نے لکھا کہ:میں کل اپنے ایک کاروباری دوست کے پاس دفتر گیا چائے پی گپ شپ لگاتے ہوئے گھر جانے کا وقت ہو گیا۔ جب دفتر سے باہر نکل رہے تھے تو کلرک نے آ کر ایک شکایت لگائی کی جناب فلاں چپڑاسی سست ہے کام نہیں کرتا، ڈرائیور نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔میرے اُس دوست نے کہا اگر کام نہیں کرتا تو کس لیے رکھا ہو ہے، فارغ کرو اسے۔ میں نے فورا مداخلت کی اور کہا، کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ایک دفعہ اس سے بات کر لو، کیا پتہ اسکے کچھ مسائل ہوں۔ پھر میں نے اپنے دوست کو ایک شیخ صاحب کا واقعہ سنایا۔💥شیخ صاحب لاہور میں ایک معمولی سے دفتر میں ملازم تھے، دن کچھ ایسے پھرے کہ اسی دفتر کے صاحب کو پسند آ گئے اور یوں انکی فیملی میں ہی شیخ صاحب کی شادی ہو گئی۔ قدرت شیخ صاحب پر مہربان تھی، دن رات اور رات دن میں بدلتے گئے اور شیخ صاحب ایک دکان سے ایک مارکیٹ اور پھر ایک فیکٹری سے دو، چار، اور پھر نہ جانے کتنی فیکٹریوں کے مالک بنتے گئے۔دھن برستا گیا، دو بچے ہو گئے۔ شیخ صاحب نے کرائے والے کمرے سے ایک اپارٹمنٹ اور پھر لاہور کے انتہائی پوش علاقے میں دو کنال کی ایک کوٹھی خرید لی۔ مالی کی ضرورت پیش آئی تو چکوال سے آئے ہوئے سلطان کو فیکٹری سے نکال کر پندرہ سو روپے ماہوار پر اپنی کوٹھی پر ملازم رکھ لیا۔سلطان ایک انتہائی شریف اور اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان تھا، نہ کسی سے کوئی جھگڑا، نہ کوئی عداوت، نہ کبھی کوئی شکایت۔ ایک بار شیخ صاحب دن کے دس بجے کسی کام سے گھر واپس آئے تو گاڑی دروازے پر ہی کھڑی کر دی کہ ابھی واپس دفتر جانا تھا۔ دروازے سے گھر کے داخلی دروازے کے درمیان اللہ جانے کیا ہوا کہ پودوں کو پانی دیتے سلطان کے ہاتھ سے پائپ پھسلا اور شیخ صاحب کے کپڑوں پر پوری ایک تیز پھوار جا پڑی،شیخ صاحب بھیگ گئے۔ سلطان پاؤں میں گر گیا، گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا کہ صاحب غلطی ہو گئی۔ لیکن شیخ صاحب کا دماغ آسمان پر تھا۔ غصے میں نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، وہیں کھڑے کھڑے سلطان کو نوکری سے نکال دیا۔کہا شام سے پہلے اس گھر سے نکل جاؤ۔سلطان بیچارہ سامان کی پوٹلی باندھ کر گھر سے نکل کر دروازے کے پاس ہی بیٹھ گیا کہ شاید صاحب کا غصہ شام تک ٹھنڈا ہو جائے تو واپس بلا لیں۔ شام کو شیخ صاحب واپس آئے، دیکھا سلطان ابھی تک بیٹھا ہوا تھا، گارڈ کو کہا اسے دھکے دیکر نکال دو، یہ یہاں نظر نہ آئے، صبح ہوئی تو سلطان جا چکا تھا۔ رب جانے کہاں گیا تھا۔وقت گزرتا گیا، شیخ صاحب کے تیزی سے ترقی پاتے کاروبار اور فیکٹریوں میں ایک ٹھہراؤ سا آنے لگا۔ کاروبار میں ترقی کی رفتار آہستہ آہستہ کم پڑتی گئی۔ لیکن شیخ صاحب زندگی سے بہت مطمئن تھے۔ پھر ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی، پوری فیکٹری جل کر راکھ ہو گئی۔ کچھ مزدور بھی جل گئے۔ شیخ صاحب کو بیٹھے بٹھائے کروڑوں کا جھٹکا لگ گیا۔ کاروبار میں نقصان ہونا شروع ہوا تو شیخ صاحب کے ماتھے پر بل پڑنا شروع ہو گئے۔ بڑا بیٹا یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ تھا،دوستوں کے ساتھ سیر پر مری گیا واپسی پر حادثہ ہوا تو وہ جوان جہان دنیا سے رخصت ہو گیا۔ شیخ صاحب کی کمر ٹوٹ گئی۔نقصان پر نقصان ہوتے گئے۔ دو کنال کی کوٹھی بیچ کر دس مرلے کے عوامی طرز کے محلے میں آ گئے۔ جب عقل سے کچھ پلے نہ پڑا تو پیروں فقیروں کے ہاں چلے گئے کہ شاید کوئی دعا ہاتھ لگ جائے اور بگڑی ہوئی زندگی پھر سے سنور جائے۔ باقی ماندہ کاروبار بیچ کر اور کچھ دیگر پراپرٹی کو رہن رکھ کر بنک سے قرضہ لیا اور چھوٹے بیٹے کو ایک نیا کاروبار کر کے دیا۔ اسکے پارٹنر دوست نے دغا کیا اور سارا پیسہ ڈوب گیا۔ شیخ صاحب ساٹھ سال کی عمر میں چارپائی سے لگ گئے۔ایک دن ایک پرانا جاننے والا ملنے آیا، حالات دیکھے تو بہت افسوس کیا۔ کہا شیخ صاحب ایک بزرگ لاھور آئے ہوئے ہیں، بہت بڑے اللّہ والے ہیں، اگر ان کے پاس سے دعا کروا لیں تو اللہ کرم کرے گا۔شیخ صاحب فورا تیار ہو گئے۔ ان کے پاس پہنچے، ملاقات کی، مسئلہ بیان کیا۔ انہوں نے آنکھیں بند کیں، کچھ دیر مراقبے کی کیفیت میں رہے، پھر آنکھیں کھولیں، شیخ کو دیکھا اور کہا "تم نے سلطان کو کیوں نکالا تھا؟"شیخ کے سر کے اوپر گویا ایک قیامت ٹوٹ پڑی، آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک نہ تھمنے والی لڑی جاری ہو گئی، شیخ بزرگ کے پاؤں میں گر گیا، معافیاں مانگنے لگا۔ بزرگ نے اسے کہا میری بات سنو۔ پروردگار رازق ہے، وہ رزق ضرور دے گا لیکن اسکا وسیلہ انسانوں کو ہی بنائے گا۔اوپر سے نیچے آتے پانی کی تقسیم جس طرح نہروں نالوں کی طرح ہوتی ہے رزق کی تقسیم اسی طرح ہے۔ پروردگار کے نزدیک ہم میں سے ہر ایک شخص وسیلہ ہے کسی اور کے رزق کا۔ اگر آپ وسیلہ بننے سے انکار کرو گے تو تمہارے حصے کا وہ رزق جو اس وسیلے سے تمہیں بطور معاوضہ مل رہا تھا ختم ہو جائے گا۔تمہیں لاکھوں کروڑوں سلطان کو پندرہ سو روپے دینے کے لیے ملتے تھے۔ تم نے وہ روک لیے، اوپر والے نے تمہارا معاوضہ ختم کر دیا۔ اب جاؤ اور سلطان کو ڈھونڈو، اگر وہ مان جائے معاف کر دے تو تمہارے دن پھر جائیں گے۔شیخ کی دنیا لٹ گئی، وہ سر پیٹتا گھر آیا پرانے کاغذات ڈھونڈتا رہا کہ شاید کہیں سلطان کا کوئی پتہ، کوئی شناختی کارڈ، کوئی اور معلومات مل سکیں۔ کچھ بھی نہ ملا تو شیخ دیوانہ وار سلطان کو ڈھونڈنے چکوال جانے والی بس میں بیٹھ کر چکوال چلا گیا۔ مگر سلطان نہ ملا۔چھوٹا بیٹا ڈھونڈتا ڈھونڈتا چکوال اڈے پر آ پہنچا اور باپ کو واپس لاہور لے آیا۔ لیکن شیخ کا دل کا سکون ختم ہو گیا تھا۔ کچھ دن بعد شیخ پھر گھر سے غائب ہوا تو بیٹے کو معلوم تھا کہ کہاں ملے گا۔وہ چکوال پہنچا تو دیکھا باپ زمین پر بیٹھا سر میں راکھ ڈال رہا تھا اور کہہ رہا تھا سلطان تم کہاں ہو، سلطان تم کہاں ہو۔ بیٹا خود روتا ہوا باپ کو واپس لے آیا۔ چند دن کے بعد شیخ کا انتقال ہو گیا۔کالم نگار نے لکھا، میں نے اپنے دوست کو یہ پوری کہانی سنائی اور اسے کہا، چپڑاسی کو نہ نکالو، اسکا رزق تمہارے رزق سے جُڑا ہے، اسے تو رب کہیں اور سے بھی دے دے گا کہ اس کے پاس وسیلہ بنانے کے لیے کسی چیز کی کوئی کمی نہیں لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس معاوضے والی نعمت سے محروم ہو جاوؐ۔مجھے یہ واقعہ پڑھے ہوئے کافی سال گزر گئے ہیں۔ آپ یقین کریں اس تحریر نے میری زندگی بدل دی۔ میں مالی معاملات میں بہت زیادہ محتاط رھتا ہوں۔ اگر کسی کے پاس کچھ پیسے ادھار کیصورت میں رہ گئے تو نہیں مانگے کہ کہیں اوپر والے سے ملنے والا معاوضہ کم نہ ہو جائے۔ کوشش ہوتی ھے کہ میری وجہ سے لوگوں کا رزق لگا رھے گھر میں کام والی رکھی تو مشکل حالات میں بھی انکار نہیں کیا کہ اسکا رزق لگا رھے اپنے پاس کام کرنے والے کسی لڑکے کو کبھی نہیں نکالا کہ میری وجہ سے کسی کے گھر میں پریشانی نا ہو کسی کے رزق کا وسیلہ ختم نا ھو جائے میں نے ہمیشہ نیک نیتی سے وسیلہ بننے کی کوششیں بھی کیں، میں کبھی تنگ دست نہیں ہوا۔ اللّٰہ نے ہمیشہ مجھے نوازا ، ایک سے بڑھ کر ایک وسیلہ ملتا گیا اور میں آگے بڑھتا رہا ۔۔۔آپ بھی ارادہ کریں کہ کبھی آپکی وجہ سے کسی کا رزق بند نہیں ہو گاآپ وسیلہ بنتے رھیں اللہ پاک آپ کیلئے وسیلے بناتا رھے گا ان شاءاللہ ..منقول
ایک گاؤں میں ایک باپردہ خاتون رہتی تھیں جن کی ڈیمانڈ تھی کہ شادی اس سے کریں گی جو انہیں باپردہ رکھے گاایک نوجوان اس شرط پر نکاح کے لیے رضامند ہوجاتا ہےدونوں کی شادی ہوجاتی ہے ۔ Title: As you do, so do you fill Article Mian Khudabakhsh Abbasi BBC Pakistan News
وقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک بیٹا ہوجاتا ہے ۔ ایک دن شوہر کہتا ہے کہ میں سارا دن کھیتوں میں کام کرتا ہوں ۔ کھانے کے لیے مجھے گھر آنا پڑتا ہے جس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے تم مجھے کھانا کھیتوں میں پہنچادیا کروبیوی راضی ہوجاتی ہے ۔۔وقت گذرتے گذرتے ایک اور بیٹا ہوجاتا ہے جس پر شوہر کہتا ہے کہ اب گذارا مشکل ہے تمہیں میرے ساتھ کھیتوں میں ہاتھ بٹانا پڑے گا یوں وہ باپردگی سے نیم پردے تک پہنچ جاتی ہے اور تیسرے بیٹے کی پیدائش پر اس کا شوہر مکمل بے پردگی تک لے آتا ہےوقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک اولاد جوان ہوجاتی ہےایک دن یونہی بیٹھے بیٹھے شوہر ہسنے لگتا ہےبیوی سبب پوچھتی ہےتو کہتا ہے کہ بڑا تو پردہ پردہ کرتی تھی آخر کار تیرا پردہ ختم ہوگیا ۔۔ کیا فرق پڑا پردے اور بے پردگی کا زندگی تو اب بھی ویسے ہی گذر رہی ہےوہ بولتی ہے کہ تم ساتھ والے کمرے میں چھپ جاؤ میں تمہیںپردے اور بے پردگی کا فرق سمجھاتی ہوںشوہر کمرے میں چھپ جاتا ہےعورت اپنے بال بکھیرے رونا پیٹنا شروع کردیتی ہےپہلے بڑا بیٹا آتا ہے ۔ رونے کا سبب پوچھتا ہے کہتی ہے تیرے باپ نے مارا ہے بڑا بیٹا ماں کو سمجھاتا ہے کہ اگر مارا ہے تو کوئی بات نہیں وہ آپ سے محبت بھی تو کرتے ہیں آپ کا خیال رکھتے ہیں۔ ایسے شور کریں گی تو لوگ کیا کہیں گے؟میں ابا کو بھی سمجھاؤں گا آپ فکر نہ کریںوہ سمجھا بجھا کر چلا جاتا ہےعورت پھر سے رونے کی ایکٹنگ کرتی ہے اور منجھلے بیٹے کو بلا کر بتاتی ہے کہ تیرے باپ نے مجھے مارامنجھلا بیٹا کو غصہ آتا ہے وہ باپ کو برا بھلا کہتے ہوئے ماں کو چپ کروا کر چلا جاتا ہےآخر کار عورت یہی ڈرامہ چھوٹے بیٹے کے سامنے کرتی ہے چھوٹا بیٹا تو غصہ سے آگ بگولہ ہوجاتا ہے اور زور زور سے گالیاں بکتے ہوئے ڈنڈا اٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ ابھی باپ کی خبر لیتا ہوں پھر عورت شوہر کو بلا کر بولتی ہےکہ پہلا میرے پردے کے وقت پیدا ہواتو اس نے تیرا پردہ رکھادوسرا نیم پردے کے زمانے میں پیدا ہوا تو تیری آدھی لاج رکھ لیجبکہ تیسرا جو مکمل بے پردگی کے زمانے میں ہوا تو وہ مکمل طور پر تمھاری عزت کا پردہ اتارنے گیا ہےحاصل کلام:پردہ عورت کا فطری تقاضا ہےجو خالق مرد وزن کی طرف سے قاعدہ بھی ہے کیا آپ اس کہانی کو "عنوان" دے سکتے ہیں؟
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
*💫News Details**Monday 20th Shaban 1447 AH**February 9, 2026💫*
غزہ بورڈ اجلاس، پاکستان شریک ہوگا، وزیراعظم کا واشنگٹن جانے کا قوی امکان، نمائندگی کا حتمی فیصلہ جلد، مشاورت شروع ٹی 20 ورلڈکپ، ...
-
عمرکوٹ: ضمنی انتخابات این اے 213 عمرکوٹ کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی امیدوار میڈم صبا یوسف تالپور 161934 ووٹ حاصل کر کے بھاری ...
-
بلوچستان کے ضلع زیارت سے 2 ماہ پہلے اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) محمد افضل اور اس کے بیٹے کو اغوا کاروں نے قتل کردیا۔لیوی...
-
پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ، ٹرمپ کی دعوت قبول، مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ، تعمیر نو ہوسکے گی، دفتر خارجہ ارکان پارل...