ہفتہ، 5 جولائی، 2025

سندھ کے قدیم شہر روہڑی میں ہر سال آٹھ محرم الحرام کو نو ڈھالہ تعزیہ برآمد ہوتا ہے جس میں شمع گل کا ماتم کیا جاتا ہے۔ یہاں شرکت کرنے والے ہزاروں لوگ ’امام حسین کے مہمان‘ سمجھے جاتے ہیں۔ BBC PK News Sukkur Report Iram btool

روہڑی کی تنگ گلیوں میں ’نو ڈھالہ‘ تعزیہ اور صدیوں پرانی شمع گل ماتم کی روایت
کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں
روہڑی نو ڈھالہ،تصویر کا ذریعہImdad Hussain Shah
،تصویر کا کیپشنسندھ کے شمالی ضلع سکھر کے قدیم شہر روہڑی میں ہر سال آٹھ محرم الحرام کو نو ڈھالہ تعزیہ برآمد ہوتا ہے جس میں شمع گل کا ماتم کیا جاتا ہے
’ہم بچپن سے یہ سوز و ماتم دیکھتے بڑے ہوئے ہیں یہ ہمارے معمول اور کلچر کا حصہ بن چکا ہے، ہر سال تین روز یہاں ہزاروں لوگ آتے ہیں اور ہم ان کے میزبان بنتے ہیں۔ ہماری روایت میں ویسے ہی مہمان کا اعلیٰ مقام ہے، یہ تو امام حسین کے مہمان ہوتے ہیں۔‘

یہ کہنا ہے نوبت علی کا جو روہڑی کے رہائشی ہیں اور ہر سال نو ڈھالہ تعزیے کے جلوس میں شرکت کرتے ہیں۔

سندھ کے شمالی ضلع سکھر کے قدیم شہر روہڑی میں ہر سال آٹھ محرم الحرام کو نو ڈھالہ تعزیہ برآمد ہوتا ہے جس میں شمع گل کا ماتم کیا جاتا ہے۔

خیال ہے کہ یہاں صدیوں سے پاکستان بھر سے زائرین شرکت کر رہے ہیں جس کے لیے اب خصوصی ٹرینز بھی چلائی جاتی ہیں۔روہڑی اور سادات
سندھ میں روہڑی شہر کی بنیاد عرب حکمرانی کے دوران اس وقت پڑی جب سنہ 962 میں ایک زلزلے کی وجہ سے دریائے سندھ نے اپنا رُخ تبدیل کیا۔ تجارتی مرکز اروڑ کی بندرگاہ غیر آباد ہوگئی جس کے بعد روہڑی کی بندرگاہ بنائی گئی۔

ENGR JAIDEV MAHESHWARI Why the month of Muharram ul Haram Ahatram ??Writer : Rubeena Liaquat BBC PK News Article

Year actor work for Muslims also sacrificed and Voice too.This is done by the Muslim that What is spirit love Muharram ul Haram is the month of Mukaddas and Aatram before and after Islam. Moharram is the first month of Islamic Takbir and Islam has been in mind of Jango forest in this month. And it has been said that in these months, do not do oppression when you leave and you should ship with all the muscles as you were all fighting. And know that Allah is with the idols After Ramadan, Afzal is in Allah three days after Ramadan Muharram ul Haram cried after the month of There are 12 months in the right Muslim Sharif, there are four Ummah and three Muslims are heart Moharram and Is of Shaban Some of every 10 Moharram of Muharram ul Haram have passed the sentences Both of them have been given great importance, 10 Moharram, Nawaz Hazrat Imam Hussain Razi Allah Tala Anhu of Sallallahu Alaihi Wasallam Martyrdom of 10 Moharram ۔... ۔Land sky pen will be safe And Hazrat Adam Alaihissalam's Tauba confessed to 10 Moharram Hazrat invisible Islam was raised on the sky on 10 Moharram on this day Some day the kayak of incomplete Islam and I have been connected with the salute, but there was an anchor movement .......On this day, Hazrat Ibrahim Ali Salam was made Khalilullah and today he was made buzzing. That is why Hazrat Ismail Islam was born Ramesh Sur met Hazrat Yunus Islam after a Tamil like Hazrat Yakub Ali Salaam, so Hazrat Musa Ali Salam and his who became his Israel got rid of the site of the From On the same day, Hazrat Musa Ali was immediately nazed on Salaam and on the same day on the day of Chura, Hazrat Musa Ali Salam got the king back the same day, on the same day Hazrat Ayub Alaihees Salaam got a lot of luck On the same day, Hazrat Younus Islam came out of the stomach of 40 days from the stomach of the fish. On the same day, Hazrat Ali Salam was accepted and the strange end of them, on the same day Hazrat was born to salute and on the same day Hazrat ISA Alaihees Salaam got an eye on the Jews' heads. That's why Hazrat Ali Salaam was raised on the sky For the first time in the world, he used to put a new song on the 10 Moharram on the 10 Moharram, on this day Hazrat Muhammad Sallallahu Alaihi Wasallam's Hazrat Khadija Razi Allah Tala Anhu was married to Hazrat Ibrahim on this day Hazrat Ibrahim Ali Salaam was born 10 Mara Mool Haram was martyred on the day of Karbala on the day of Karbala and Hazrat Imam Hussain Razi Allah was martyred with colleagues۔....Imam Hussain Razi Razi Allah Tala Anhu's reason for martyrdom on him Had to talk about canvas e Rasul Hey they refused to talk

منگل، 1 جولائی، 2025

اگرچہ آج کے دور میں حجاز میں اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کا اثر و رسوخ دکھائی نہیں دیتا لیکن بہت سے مؤرخین کے مطابق اسلام کے دو مقدس ترین شہروں یعنی مکہ اور مدینہ میں مسیحیوں اور یہودیوں کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ BBC PK News

مکہ اور مدینہ میں آباد طاقتور یہودی اور مسیحی قبائل کا عروج و زوال: مسلمانوں کے مقدس ترین شہر اسلام سے قبل کیسے تھے؟
مكة المكرمة والكعبة والمسجد الحرام. صورة طُبعت عام ١٧٩٠ في باريس،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنبہت سے مورخین کے مطابق، اسلام کے دو مقدس ترین شہروں مکہ اور مدینہ میں مسیحیت اور یہودیت کی تاریخ بہت قدیم ہے
مضمون کی تفصیل
مصنف,امیمہ الشزلی

اگرچہ آج کے دور میں حجاز میں اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کا اثر و رسوخ دکھائی نہیں دیتا لیکن بہت سے مؤرخین کے مطابق اسلام کے دو مقدس ترین شہروں یعنی مکہ اور مدینہ میں مسیحیوں اور یہودیوں کی تاریخ بہت قدیم ہے۔

بیت لحم میں حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے کم از کم پانچ صدیوں قبل بھی عرب باشندے یہودیت کے بارے میں علم رکھتے تھے۔



بائبل کے پرانے عہد نامے میں لکھا ہے کہ شمعونوں کے قبیلے چراگاہ کی تلاش میں اپنے مویشیوں کے ساتھ کوہ سینا کی سرزمین کی جانب گئے یہاں تک کہ وہ ماعان قبائل (موجودہ جنوبی اُردن) کی سرزمین پہنچ گئے۔ وہاں ان قبائل کی جنگ ہوئی جس کا اختتام شمعونوں کی فتح کے ساتھ ہوا۔

شمعون حضرت یعقوب کے بیٹوں میں سے ایک تھے اور اُن کی نسل کو ’شمعون کے بیٹے‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

راٹھی نندلال ڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی ڈیلی بی بی سی پاک نیوز بھالوہ کے رہائشی ربنواز خاصخیلی، جو خون کے سریان (بلڈ کینسر) جیسے موذی مرض میں مبتلا ہے BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal

، ان کے علاج کے لیے ڈاکٹروں نے 65 لاکھ روپے کے اخراجات بتائے تو اس غریب کے پاس اتنی بڑی رقم کہاں سے لاۓاس کے بعد نوجوان سیاسی و سماجی رہنما شاہنواز خاصخیلی نے تھرپارکر مٹھی کے ایوانِ صحافت سے مدد کے لیے رابطہ کیا۔تفصیلات :-مسلسل اخبارات میں خبریں شائع ہونے کے بعد، بلاول ہاؤس میڈیا سیل کے انچارج اور انسان دوست شخصیت سرینندر ولاسائی صاحب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپیل کی گئی، جسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے سرینندر ولاسائی اور کنور لال ولاسائی کی بے لوث کاوشوں سے سندھ حکومت کی جانب سے 65 لاکھ روپے کا چیک جاری کروایا گیا۔ربنواز اس وقت ڈاؤ اسپتال کراچی میں زیر علاج ہے، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ اللہ پاک اسے جلد مکمل صحتیابی عطا فرمائے۔اس کے بھائی شاہنواز خاصخیلی نے بلاول ہاؤس میڈیا سیل کے انچارج، انسان دوست سرینندر ولاسائی اور ایوانِ صحافت تھرپارکر @ مٹھی رجسٹرڈ کی مدد پر تھ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔

*☑️ اہم خبروں کا خلاصہ**BBC PK News Islamabad

🔵(1) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی دھمکی، حکومت ہمیں مجبور کر رہی ہے کہ ہم اپنا کاروبار بند کر کہ ملک گیر ہڑتال کی طرف چلے جائیں، ٹرانسپورٹرز رہنماؤں سے مشاورت کے بعد بڑا فیصلہ کریں گے۔ صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ملک شہزاد اعوان کا بیان**🟢(2) حکومت پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ واپس لے، صدر آل پاکستان انجمن تاجران، بجلی گیس کے بلوں نے عوام کا بھرکس نکال دیا، وزیروں اور مشیروں کا مفت گیس، مفت بجلی، مفت پیٹرول کے علاوہ بجلی اور گیس چوری کا بوجھ بھی عوام پر ہے، اب ایک ہی حل ہے عوام گھر چھوڑ کر سڑکوں پر بیٹھ جائے، اجمل بلوچ**🔴(3) پاکستان اور بھارت کا سفارتی ذرائع سے جیلوں میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ، حکومت پاکستان نے 246 بھارتی قیدیوں کی فہرست ہائی کمیشن اسلام آباد کے نمائندے کے حوالے کی، بھارت نے 463 پاکستانی قیدیوں کی فہرست پاکستان کے ہائی کمیشن، نئی دہلی کے ایک سفارت کار کے ساتھ شیئر کی ہے**⚫(4) کراچی: بارش کے بعد ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ، ایک شخص جاں بحق، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال صرف کراچی سے ملیریا کے 547 اور ڈینگی کے 260 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ روان برس سندھ سے 65 ہزار 116 افراد ملیریا اور 295 افراد ڈینگی کا شکار ہوئے، حکام**🟠(5) ’مقامی نالوں کے پانی سے دریا میں بہاؤ بڑھا‘، سانحہ سوات پر شواہد انکوائری کمیٹی کو جمع، پرایگزیکٹو انجینئر وقار شاہ نے بتایا کہ ‘ساڑھے 9 بجے تک مینگورہ بائی پاس پر صورتحال نارمل تھی، سیاح بھی جس وقت دریا میں اترے اس وقت صورتحال نارمل تھی، ڈوبنے والے سیاح دریا میں سیلفیاں لے رہے تھے‘۔**ایگزیکٹو انجینئر محکمہ آبپاشی نے انکوائری کمیٹی کو بتایا کہ 10 بجےکے بعد منگلا ور نالہ، مالم جبہ نالہ، سوخ درہ نالہ اور مٹہ نالہ کا پانی دریائے سوات میں آیا، خوازہ خیلہ گیمن بریج سے 26 ہزار کیوسک پانی پونے 11 بجے واقعے کی جگہ پر پہنچا، مقامی نالوں کے پانی سے دریا میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا جس سےسیاح بہہ گئے‘ ۔ؔ**🟣(6) فہیم سردار قتل کیس کے 2 ملزمان گرفتار، کیس منطقی انجام تک پہنچ گیا: اسلام آباد پولیس**معاشی و دفاعی تجزیہ کار سردار فہیم قتل کیس میں 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ آئی جی اسلام آباد کے مطابق ملزمان ڈکیتی کی نیت سے گھر میں داخل ہوئے، ملزمان نے سردار فہیم کو مزاحمت کے دوران لوہے کی سلاخ سے مارا۔**انہوں نے مزید کہا کہ سردار فہیم کا قتل ٹیسٹ کیس تھا ، 6 دنوں میں ہم نے سردار فہیم قتل کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا*

’میری بہن رانیہ نے مجھے ایک ٹیکسٹ میسج بھیجا جس میں اس نے کہا کہ مجھے لگتا ہے ہم میں سے کوئی مرنے والا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ رب کو یاد کرو اور آیات پڑھو۔۔۔‘ اور اگلے دن بمباری میں رانیہ اور اس کے بچے مارے گئے۔ BBC PK News

غزہ میں مرنے والوں کے لواحقین جو اپنے پیاروں کے آخری الفاظ دل سے لگائے زندہ ہیں: ’میں جواب نہ بھی دوں تو پھر بھی مجھ سے بات کرنا‘
غزہ،تصویر
مضمون کی تفصیل
مصنف,سوزانا قوس
عہدہ,بی بی سی نیوز، عربی
BBC PK News 
غزہ میں سورج غروب ہوتے وقت بھی بمباری کی آوازوں سنائی دے رہی ہیں اور ایسے میں وہ لوگ، اپنے ان پیاروں کی اپنے ساتھ آخری بار ہونے والی گفتگو یا جملے یاد کر رہے ہیں جو اس جنگ کے دوران لقمہ اجل بن گئے۔

زندگی کی ڈور ٹوٹنے سے پہلے ادا کیے جانے والے الفاظ اب پیچھے رہ جانے والوں کے لیے سرمایہ حیات ہیں۔

فلسطینی صحافی واد ابو ظہیر نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک سوال پوسٹ کیا جس میں انھوں نے پوچھا کہ ’مرنے سے پہلے انھوں نے آپ سے آخری جملہ کیا کہا تھا؟

اپنے نقصان کا بوجھ ظاہر کرتے اس سوال کے جوابات دل کو چیرنے والے ہیں۔ جوابات نے ان لوگوں کا ایک دستاویزی ریکارڈ فراہم کیا جنھوں نے جنگ میں اپنے پیاروں، رشتہ داروں یا دوستوں کو کھو دیا۔

ذیشان ظہیر کے چچا کفایت اللہ بلوچ کے مطابق ’بڑا بیٹے ہونے کے ناطے میرے بھتیجے کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ اُن کے والد بازیاب ہو کر آئیں اور دیکھیں کہ اُن کا بیٹا جوان ہو چکا ہے۔۔۔ لیکن والد کی بازیابی سے پہلے ہی وہ نہ صرف خود جبری گمشدگی کا شکار ہوا بلکہ لاپتہ ہونے کے چند گھنٹے بعد اُس کی لاش بھی مل گئی BBC PK News Quaeta Report



پنجگور سے ’اغوا‘ ہونے والے 20 سالہ ذیشان ظہیر کی لاش برآمد: ’والد کی بازیابی سے پہلے بیٹے کی اپنی لاش مل گئی‘
ذیشان ظہیر،تصویر کا ذریعہGulzar Dost
،تصویر کا کیپشن20 سالہ ذیشان ظہیر فٹبال کے اچھے کھلاڑی تھے اور میچ سے واپسی پر مبینہ طور اغوا کیا گیا تھا
مضمون کی تفصیل
مصنف,محمد کاظم

’بڑا بیٹے ہونے کے ناطے میرے بھتیجے کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ اُن کے والد بازیاب ہو کر آئیں اور یہ دیکھیں کہ وہ اُن کا بیٹا جوان ہو چکا ہے۔۔۔ لیکن اُس کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی کیونکہ والد کی بازیابی سے پہلے ہی وہ نہ صرف خود جبری گمشدگی کا شکار ہوا بلکہ لاپتہ ہونے کے چند گھنٹے بعد اُس کی لاش بھی مل گئی۔‘

یہ کہانی بلوچستان کے سرحدی ضلع پنجگور سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ نوجوان ذیشان ظہیر کی ہے جو اتوار کی شب پہلے لاپتہ ہوئے اور اس کے دس گھنٹے بعد اُن کی لاش ملی۔

ذیشان ظہیر کے چچا کفایت اللہ بلوچ نے اپنے بھتیجے کی موت کو پورے خاندان کے لیے ’گہرا صدمہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا خاندان پہلے ہی ذیشان کے والد کی طویل عرصے سے جبری گمشدگی کے باعث ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار تھا۔‘



انھوں نے دعویٰ کیا کہ ذیشان کو مبینہ طور پر دو گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے اتوار کی شام اُس وقت اٹھایا جب وہ فٹبال کا میچ کھیلنے کے بعد واپس گھر کی جانب آ رہے تھے۔


ذیشان ظہیر
پنجگور سے ’اغوا‘ ہونے والے 20 سالہ ذیشان ظہیر کی لاش برآمد: ’والد کی بازیابی سے پہلے بیٹے کی اپنی لاش مل گئی‘
rafi
ڈاکٹر رفیع محمد چودھری: پاکستانی ایٹمی پروگرام کے ’حقیقی خالق‘ جو نہرو کی پیشکش ٹھکرا کر پاکستان چلے آئے
تصویر
15 برسوں میں ایک ارب مسافروں کو منزل پر پہنچانے والا ’787 ڈریم لائنر‘: ’محفوظ ترین‘ سمجھے جانے کے باوجود اس طیارے سے متعلق خدشات کیوں ہیں؟
getty
نئے حکومتی ٹیکس کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 8.36 روپے کا اضافہ: ’ایک طرف ریلیف ملتا ہے تو دوسری طرف کچھ نا کچھ مہنگا ہو جاتا ہے‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی پولیس کے مطابق ذیشان ظہیر کو سٹی پولیس سٹیشن کی حدود سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا تاہم ان کی لاش دس گھنٹے بعد وشبود پولیس سٹیشن کی حدود سے ملی تھی۔

سٹی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او شہزاد احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ جس روز ذیشان کو اغوا کیا گیا تھا، اُسی روز اُن کے مبینہ اغوا کی ایف آئی آر درج کر لی گئی تھی۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ اُن کی لاش اب دوسرے تھانے کی حدود سے ملی ہے اس لیے قتل کے دفعات بھی اب اسی ایف آئی آر میں شامل کی جائیں گی۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ذیشان کے اغوا اور ہلاکت کے واقعات کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ذیشان ظہیر کون تھے؟
تصویر،تصویر کا ذریعہCourtesy Gulzar Dost
،تصویر کا کیپشنذیشان ظہیر کے والد 2015 سے لاپتہ ہیں
ذیشان ظہیر کا تعلق پنجگور شہر سے تھا اور وہ خدابادان کے رہائشی تھے۔

اہلخانہ کے مطابق اُن کی عمر 20 سال کے لگ بھگ تھی اور وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔

اُن کے چچا کفایت اللہ بلوچ کے مطابق ’ذیشان نے گریجویشن کی تھی اور وہ اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے پنجگور یونیورسٹی میں داخلے کے لیے کوشاں تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جس روز ذیشان کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا اس روز وہ فٹبال کا میچ کھیل کر آ رہے تھے۔ ’فٹبال نہ صرف اُس کا پسندیدہ کھیل تھا بلکہ اس کا شمار پنجگور کے اچھے کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔‘

کفایت اللہ نے دعویٰ کیا کہ ’ذیشان ظہیر کے والد ظہیر احمد کو 2015 میں مبینہ طور پر جبری گمشدگی کے شکار ہوئے تھے اور تاحال لاپتہ ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ذیشان ظہیر کو کمسنی میں ہی والد کی مبینہ جبری گمشدگی کے باعث خاندان کی کفالت کا بوجھ اٹھانا پڑا جس کے باعث انھوں نے محکمہ زراعت میں ملازمت اختیار کر لی تھی۔

’لاش ملنے کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا‘
کفایت اللہ بلوچ نے بتایا کہ کہ ذیشان ظہیر اتوار کو اپنی ٹیم کے ساتھ میچ کھیلنے کے لیے گئے تھے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میچ سے واپسی کے بعد ذیشان دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ گھر کی جانب آ رہے تھے جب نیوان ندی کے علاقے میں دو گاڑیاں آئیں اور ان سے اترنے والے مسلح نقاب پوش افراد نے مبینہ طور پر بندوق کی نوک پر انھیں ایک گاڑی میں بٹھایا اور نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ مسلح افراد نقاب پوش تھے اس لیے ذیشان کے ساتھ جو دوسرے کھلاڑی اور لوگ تھے وہ ان کو پہچان نہیں سکے۔ ان کو اٹھائے جانے کے بعد ان کی جبری گمشدگی کے خلاف سٹی پولیس سٹیشن میں درخواست دی گئی تھی اور ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی۔‘

سٹی پولس سٹیشن کے ایس ایچ او شہزاد احمد نے بتایا کہ ذیشان کے مبینہ اغوا کا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 57/2025 کے تحت درج کیا گیا تھا۔

اسد اللہ مینگل: بلوچستان کا ’پہلا جبری لاپتہ‘ نوجوان جس کی موت تاحال ایک معمہ ہے
6 فروری 2021
’میری امی آدھی بیوہ کی طرح زندگی گزار رہی ہیں‘
2 مار چ 2021
لاپتہ پیاروں کی متلاشی بلوچ خواتین: ’دل سے ڈر ختم ہو چکا، بس کسی بھی طرح ہمیں اپنے بھائیوں کو واپس لانا ہے‘
21 مار چ 2025
بلوچستان کے لاپتہ افراد: ’بھائی اور بھتیجے کی گمشدگی کا غم اتنا ہے کہ اب ہمیں خوشی یاد نہیں‘
30 اگست 2023
چچا کفایت اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’ذیشان کی جبری گمشدگی کے واقعے کے فوراً بعد شاہراہ پر احتجاجی دھرنا شروع کیا گیا تاکہ اُن کی بروقت بازیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم پیر کی صبح احتجاجی دھرنے کے دوران یہ اطلاع ملی کی مبینہ طور پر ذیشان کی تشدد زدہ لاش ملی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’لاش ملنے کی اطلاع کے بعد احتجاجی دھرنا ختم کر دیا گیا کیونکہ یہ دھرنا ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے دیا جا رہا تھا لیکن حکومت اور انتظامیہ ان کی بحفاظت بازیابی یقینی نہیں بنا سکے جس کے بعد اس دھرنے کا فائدہ نہیں تھا۔‘

’والد کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوتے تھے‘
Social Media،تصویر کا ذریعہSocial Media
،تصویر کا کیپشن ظہیر احمد

کفایت اللہ بلوچ نے بتایا کہ ذیشان کے والد ظہیر احمد اُن کے چھوٹے بھائی تھے جنھیں سنہ 2015 میں مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ ظہیر احمد پنجگور میں پی پی پی ایچ آئی میں ملازم تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ظہیر احمد کی بازیابی کے لیے پُرامن احتجاج کے علاوہ وفاقی حکومت کی جانب سے جبری گمشدگیوں سے متعلق جو کمیشن بنایا گیا ہے اس میں بھی درخواست دی گئی تھی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ابتداً ظہیر کا مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا تھا مگر اندازاً چار سال بعد کمیشن کے حکم پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔‘

کفایت اللہ بلوچ نے بتایا کہ والد کی بازیابی کے لیے ذیشان بہت زیادہ متحرک تو نہیں تھے تاہم جب بھی پنجگور میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوئی احتجاج ہوتا تھا تو وہ والد کی تصویر لے کر اس میں شریک ضرور ہوتے تھے۔

سول سوسائٹی تربت کے کوآرڈینیٹر گلزار دوست بلوچ نے دعویٰ کیا کہ ’ذیشان ظہیر اس لانگ مارچ میں شامل تھے جو تربت سے اسلام آباد تک لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’مارچ کے شرکا پر سوراب اور اسلام آباد میں جو لاٹھی چارج کیا گیا ان میں نہ صرف وہ زخمی ہوئے بلکہ سوراب میں تو بے ہوش بھی ہو گئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ والد کی بازیابی کے لیے ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ہر مظاہرے اور احتجاج میں شریک ہوں۔

کفایت اللہ بلوچ نے کہا کہ ’ہمارے خاندان کو ظلم اور بے انصافی کا نشانہ بنایا گیا ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں جو کہ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔‘

پولیس نے اب تک کیا کارروائی کی ہے؟
اس واقعے اور اس سے متعلق تحقیقات کے بارے میں جاننے کے لیے پنجگور پولیس کے سربراہ آصف فراز مستوئی سے موبائل فون پر متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی تاہم تادمِ تحریر انھوں نے نہ کال وصول کی اور نہ ہی میسیجز کا جواب دیا۔

تاہم وشبود پولیس سٹیشن، جس کی حدود سے ذیشان کی لاش برآمد ہوئی تھی، کے ایس ایچ او ظہیر بلوچ نے بتایا کہ ’ذیشان کی لاش پیر کی صبح سات بجے سوردو کے علاقے سے برآمد کی گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ ان کی موت مبینہ طور پر گولیاں لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن ان کی لاش کے قریب سے گولیوں کے خول نہیں ملے جس کا مطلب یہ ہے کہ نامعلوم افراد نے ان کو کہیں اور گولی ماری اور اس کے بعد ان کی لاش کو لاکر اس علاقے میں پھینک دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں یہ معلوم ہوا کہ ان کو چھ سے سات گولیاں ماری گئی تھیں اور یہ تمام گولیان ان کو سینے میں ماری گئی تھیں۔‘

ایس ایچ او کے مطابق چونکہ ان کے اغوا کا واقعہ سٹی پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا تھا اس لیے وہاں ان کے قتل کا مقدمہ درج ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے اغوا اور قتل کے بارے میں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔


*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...