جمعہ، 28 نومبر، 2025

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف سندھ چکوال کے دور افتادہ گاؤں ملہال مغلاں میں جب یہ بچہ پیدا ہوا تو دو تین سال میں ہی اس کے والدین دنیا سے کوچ کر گئے ۔


یوں یہ بچپن سے ہی ظالم دنیا کی ٹھوکروں میں آ گیا ۔
ہماری سوسائٹی میں ایک یتیم بچے کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے یہ سب اس نے جھیلا ۔
بمشکل میٹرک اور ایف ایس سی کیا اور پاکستان آرمی میں کمیشن اپلائی کیا جس میں یہ کامیاب ہو گیا ۔ کاکول سے گریجویشن کے بعد اسے آٹھ سندھ رجمنٹ میں بھیجا گیا جہاں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا 
اس نوجوان لیفٹیننٹ سے ضروری دستاویزات مکمل کرواتے ہوئے پوچھا گیا کہ اپنے وارث کا نام لکھواوو تو یہ نوجوان سوچنے لگا ۔۔۔ نا ماں نا باپ نا بہن نا بھائی اور نہ ہی کوئی اور قریبی رشتہ 
اس نے کچھ سوچ کر وارث کے خانے میں آٹھ سندھ رجمنٹ کا نام لکھا 
یہ محنتی اور تحمل مزاج نوجوان ترقی کے مدارج طے کرتا گیا یہاں تک کہ ایک دن پاکستان کی تمام افواج کا چیف بن گیا 
ہم جنرل ساحر شمشاد مرزا کی بات کر رہے ہیں 
جسے اس کے دوست فوج کا معمار کہ کر پکارتے تھے ۔ اس جنرل نے ماڈرن وارفیئر اور سٹریٹجک پلاننگ میں پاکستان فوج کو بلند مقام پر لا کھڑا کیا ہے ۔ جنرل ساحر شمشاد فوج میں اپنے پر سکون رویے اور مظبوط اعصاب کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا ۔
جنرل ساحر کی یہ ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جہاں ایک یتیم و یسیر بچہ اپنی محنت اور قابلیت سے اس میں سے اونچے مقام پر فائز ہو سکتا ہے 
ویلڈن جنرل ساحر شمشاد مرزا فرزند پاکستان.
منقول

*احسان و محسن*ايک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسي شہر ميں ايک بہت ہي غريب لڑکا رہتا تھا۔ لڑکا غريب ضرور تھا مگر انتہائي باہمت تھا۔ وہ اپني روز مرّہ زندگي کے اخراجات کو پورا کرنے کے ليۓ مزدوري کيا کرتا تھا۔ اُن دنوں وہ گلي محلوں ميں چھوٹي موٹي چيزيں بيچ کر اپنے کھانے پينے اور پڑھائي کا خرچہ نکالتا تھا۔ ايک دن وہ ايک محلے سے گزر رہا تھا کہ اسے شديد بھوک کا احساس ہوا۔



اس نے پیسے ديکھنے کے ليۓ اپني جيب ميں ہاتھ ڈالا مگر اسے اس وقت شديد مايوسي ہوئي جب اسے يہ معلوم ہوا کہ جيب ميں تو صرف ايک ہي سکہ باقي رہ گيا ہے اور اس ايک سکے سے تو کھانے پينے کي کوئي بھي چيز نہيں خريدي جا سکتي ۔ اس نے فيصلہ کيا کہ کسي قريبي گھر سے غذا مانگ لي جاۓ۔ اتفاقي طور پر اس نے ايک گھر کا دروازہ کھٹکھٹايا 

۔ ايک جوان مگر با ادب لڑکي نے دروازہ کھولا ۔ لڑکے نے جب اس لڑکي کو ديکھا تو اپنے حواس کھو بيٹھا اور کھانے کے لئے کچھ مانگنے کي بجاۓ صرف پاني کا ايک گلاس ہي طلب کيا - لڑکي سمجھ گئي ۔ کہ يہ لڑکا بہت بھوکا ہے اس لئے اس نے دودھ کا ايک گلاس لا کر لڑکے کو دے ديا ۔ لڑکے نے بڑے سکون کے ساتھ دودھ پيا۔ اور لڑکي کي طرف متوجہ ہوا۔ اور کہنے لگا کہ اس دودھ کے کتنے پيسے دوں ؟

لڑکي نے جواب ديا کہ کچھ دينے کي ضرورت نہيں ہے۔ ہماري والدہ نے ہميں يہ سکھايا ہے کہ نيکي کرکے اس کا صلہ مت مانگو - لڑکے نے اس لڑکي کا بڑے مؤدبانہ انداز ميں شکريہ ادا کيا اور وہاں سے رخصت ہوگيا- یہ بات آئی اور گئی۔

کئی سالوں کے بعد وہ لڑکي بيمار ہو گئي۔ اس علاقے کے ڈاکٹروں نے اس کي بيماري کا علاج کرنے سے معذرت کر لي اور اسے علاج کے ليۓ شہر بھيج ديا تاکہ شايد شہر کے ماہر ڈاکٹر اس کي بيماري کا علاج کرنے ميں کامياب ہوجائيں۔
اس لڑکي کا معائنہ کرنے کےلئے ایک بڑے اور مشہور ڈاکٹر کو بلايا گيا۔

 جب ڈاکٹر کو معلوم ہوا کہ مريض فلاں شہر سے آيا ہے تو اس پر ايک عجيب سي کيفيت طاري ہوگئي ۔ تيزي کے ساتھ اس نے ڈاکٹروں والا مخصوص لباس پہنا اور اس مريض کے کمرے کي طرف گيا۔ جيسے ہي وہ کمرے ميں داخل ہوا اس نے پہلي ہي نظر ميں لڑکي کو پہچان ليا۔

ڈاکٹر نے اپنے عملے کو فوري حکم ديا کہ اس مريض کے معالجے کے ليۓ فوري طور پر تمام ضروري اقدامات کيے جائيں۔ اس عورت کي ہر طرح سے ديکھ بھال کي گئي اور اس کا بڑي محنت اور دقت کے ساتھ علاج کيا گيا۔

آج اس مريضہ کا ہسپتال ميں آخري دن تھا۔ ہسپتال کا بل ادا کرنے کے ليۓ وہ عورت بےحد پريشان تھي اور يہ سوچ رہي تھي کہ شايد ساري عمر اس ہسپتال کا بل ادا نہيں کر پاۓ گي۔ ڈاکٹر نے بل اپنے پاس منگوايا اور اس کاغذ کے کنارے پر ايک جملہ لکھا اور اسے ايک پيکٹ ميں بند کرکے عورت کو ارسال کر ديا ۔

عورت کے ہاتھ ميں جب يہ لفافہ پہنچا تو اس نے پريشاني کے عالم ميں اس لفافے کو کھولا ۔ وہ يہ ديکھ کر بہت حيران ہوئي کہ بل پر رقم کے بجاۓ چند کلمات درج ہيں ۔ عورت نےغور سے ان کلمات کو پڑھا ۔ بل پر درج تھا ۔۔۔

“اس بل کي ادائيگي پہلے ہي دودھ کے ايک گلاس کي صورت ميں ہو چکي ہے”۔

• سبق:- جب کبھی کسی پر احسان کیا جائے تو اس احسان کے عیوض کسی بھی چیز کی تمنا کئے بغیر کیا جائے تبھی اک چھوٹے سے احسان کے بدلے اللّٰه تعالٰی بے شمار عطا کرتا ہے جیسا کہ مندرجہ بالا واقعہ میں عطا ہوا۔

● نوٹ :- عمدہ قسم کے سبق آموز واقعات وحکایات کیلئے آج ہی ہمارا چینل لائک شیئر اور فالو کر لیں۔۔۔
 
جزاک اللہ خیرا کثیرا

اتوار، 23 نومبر، 2025

*💥Farmers in Rahim Yar Khan set their crops on fire over non-increase in sugarcane prices*Report by Mian Khudabakhsh Abbasi Rahim Yar Khan


رحیم یارخان میں کاشتکاروں نے گنے کے نرخوں میں اضافہ نہ ہونے پر فصل کو آگ لگا دی۔

کاشتکاروں کی جانب سے گنے کو آگ لگانے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ڈیزل اور کھاد مہنگی ہونے پراخرجات پورے نہیں ہو رہے۔

کسانوں نے مطالبہ کیا کہ گنےکی فی من قیمت 600 روپےکردی جائے۔

*💥'Tejas' crash at Dubai Air Show dashes hopes for Indian fighter jet exports*


دبئی ایئر شو میں عالمی اسلحہ خریداروں کے سامنے بھارت کے تیجس فائٹر طیارے کا حادثہ قومی اعزاز کے لیے ایک نیا دھچکا ہے، جس سے یہ جیٹ اپنے کردار کو بطور گھریلو دفاعی ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے برقرار رکھنے کے لیے بھارتی فوجی آرڈرز پر انحصار کرے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز ہونے والے حادثے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، لیکن یہ واقعہ اس ہفتے کے اثر و رسوخ کے مقابلے کا اختتام تھا، جس میں بھارت کا بڑا حریف پاکستان بھی شریک تھا، 6 ماہ قبل دونوں پڑوسی ممالک نے دہائیوں کی سب سے بڑی فضائی لڑائی میں سامنا کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق ایسا عوامی نقصان بھارت کی کوششوں پر ’سائے‘ ڈالے گا کہ وہ جیٹ کو بیرون ملک متعارف کرائے، جو 4 دہائیوں کی محنت کے بعد تیار کیا گیا تھا، بھارت نے اس موقع پر ونگ کمانڈر نمانش سیال کو خراج تحسین پیش کیا جو اس حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔

دبئی میں نمائش کے دوران حادثہ
امریکی میچل انسٹیٹیوٹ فار ایروسپیس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس اے برکی نے کہا کہ ’یہ منظر نامہ بے رحم ہے‘، اور ایئر شوز میں ہونے والے سابقہ حادثات کی طرف اشارہ کیا جہاں ممالک اور صنعتیں قومی کامیابیوں کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک حادثہ بالکل الٹ پیغام دیتا ہے، ایک ڈرامائی ناکامی کا پیغام، تاہم انہوں نے کہا کہ اگرچہ تیجس منفی تشہیر کا سامنا کرے گا، لیکن امکان ہے کہ یہ دوبارہ رفتار حاصل کر لے گا۔

دبئی، پیرس اور برطانیہ کے فارنبرو کے بعددنیا کا تیسرا سب سے بڑا ایئر شو ہے، اور ایسے پروگراموں میں حادثات اب نایاب ہو چکے ہیں۔

1999 میں روسی سوخو Su-30 پیرس ایئر شو میں زمین سے ٹکرانے کے بعد کریش کر گیا تھا، اور ایک دہائی قبل اسی ایئر شو میں سوویت MiG-29 کریش ہوا تھا، تمام عملہ محفوظ رہا اور بھارت نے دونوں طیاروں کے آرڈرز دے دیے تھے۔

برکی نے کہا کہ فائٹر طیاروں کی فروخت اعلیٰ آرڈر سیاسی حقائق سے متاثر ہوتی ہے، جو ایک وقتی واقعے پر فوقیت رکھتی ہیں۔

جی ای انجن سے طاقت
تیجس پروگرام 1980 کی دہائی میں شروع ہوا تھا، جب بھارت نے پرانے سوویت MiG-21s کی جگہ لینے کی کوشش کی تھی، جس میں آخری طیارہ حال ہی میں ستمبر میں ریٹائر ہوا، کیوں کہ ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کی جانب سے تیجس کی ترسیل سست تھی۔

ریاستی ملکیت والی کمپنی نے 180 جدید Mk-1A طیاروں کے لیے ملکی آرڈرز دیے ہیں، لیکن جی ای ایروسپیس کے انجن کی سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے ابھی تک ترسیل شروع نہیں ہو سکی۔

ایک سابق ایچ اے ایل ایگزیکٹو نے (جنہوں نے حال ہی میں کمپنی چھوڑ دی تھی) کہا کہ دبئی میں حادثہ ’ابھی برآمدات کے امکانات ختم کر دیتا ہے‘۔

ہدف شدہ مارکیٹس میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا شامل تھے، اور ایچ اے ایل نے 2023 میں ملائیشیا میں بھی دفتر کھولا تھا۔

سابق ایگزیکٹو نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ آنے والے سالوں کے لیے توجہ ملکی استعمال کے لیے فائٹر کی پیداوار بڑھانے پر ہوگی۔

*💥Power outage at pumping stations ends, water supply restored in the city, Water Board*


کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پمپنگ اسٹیشنوں پر بجلی کی بندش کے مسائل حل کر لیے گئے ہیں اور شہر بھر میں پانی کی فراہمی معمول کے مطابق ہے۔

جمعے کو بار بار ہونے والی بجلی کی بندش کے باعث شہر کے واٹر پمپنگ سسٹم متاثر ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں شہری پانی کے بدترین بحران کا سامنا کرتے رہے۔

کے ڈبلیو ایس سی نے آج جاری اپنے بیان میں کہا کہ پانی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے بحران کے دوران کے-الیکٹرک کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا گیا، اور حکام نے تصدیق کی کہ “شہر بھر میں پانی کی خدمات اب معمول پر آ چکی ہیں۔

*💥Progress towards further connecting Pakistan to the digital world, world-class submarine cable reaches Karachi*


پاکستان کو ڈیجیٹل دنیا سےمزید مضبوطی کے ساتھ جوڑنے کی جانب اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، عالمی سطح کی سب میرین کیبل کراچی میں ہاکس بے کے ساحل پر پہنچا دی گئی ہے۔

عالمی سطح کی سب میرین کیبل سی می وی 6 (SE-ME-WE 6) کراچی کے ساحلی مقام ہاکس بے پر پہنچ گئی۔

کیبل بچھانے کی تقریب ہاکس بے کے ساحل پر منعقد کی گئی، جس میں وفاقی سیکرٹری وزارتِ آئی ٹی زرار احمد خان نے بھی شرکت کی۔

ترجمان وزارت آئی ٹی کے مطابق کیبل مجموعی طور پر 21 ہزار 700 کلو میٹر طویل ہے اور سنگاپور سے شروع ہو کر فرانس تک جاتی ہے،جس کے راستے میں کراچی کا ایک اہم پوائنٹ شامل ہے۔

کیبل کے ذریعے پاکستان دنیا کے متعدد ممالک سے مزید مضبوط ڈیٹا لنکس کے ساتھ منسلک ہو جائے گا۔

*2 brothers killed in shooting over minor argument in Rawalpindi*


راولپنڈی میں تھانہ سول لائنز کے علاقے جھنڈا چیچی میں تلخ کلامی پر فائرنگ سے دو بھائی جاں بحق ہوگئے۔

پولیس کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشیں اسپتال منتقل کردی گئی ہیں جبکہ ملزمان فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے موقع پر پہنچنے کے بعد شواہد اکٹھے کیے، پولیس کا بتانا ہے کہ ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کا واقعہ معمولی تلخ کلامی پر پیش آیا تاہم تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...