جمعرات، 20 فروری، 2025

DAILY BBC PK

 *"پاکستان کا وہ وزیراعظم جودودھ فروش تھااوردودھ فروش سے وزیر اعظم بنا ؟" رُلا دینے والی داستان۔*

۔

 

20 ستمبر 1916ء کو لاہور کے ایک نواحی گاؤں میں ایک بچہ پیدا ہوا، چار بہن بھائیوں میں یہ سب سے چھوٹا تھا‘ پورا گاؤں ان پڑھ مگر اسے پڑھنے کا جنون تھا‘ اس کے گاؤں میں کوئی سکول نہ تھا، لہٰذا یہ ڈیڑھ میل دور دوسرے گاؤں پڑھنے کے لئے جاتا۔


گھر سے سکول تک کا سفر پیدل طے کرتا۔چھٹی جماعت پاس کرنے کے بعد وہ 8 میل دور دوسرے گاؤں میں تعلیم حاصل کرنے جاتا۔ اس نے مڈل کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا۔مزید تعلیم حاصل کرنے لاہورآیا اور یہاں اس نے سینٹرل ماڈل سکول میں (جوکہ اس وقت کا نمبر 1سکول تھا) داخلہ لے لیا‘ اس کا گاؤں شہر سے 13کلومیٹر دور تھا‘ غریب ہونے کی وجہ اسے اپنی تعلیم جاری رکھنا مشکل تھی مگر اس نے مشکل حالات کے سامنے ہتھیار نہ پھینکے، بلکہ ان حالات کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔اس نے تہیہ کیا کہ وہ گاؤں سے دودھ لے کرشہر میں بیچے گا اور حاصل ہونے والی آمدنی سے اپنی تعلیم جاری رکھے گا، چنانچہ وہ صبح منہ اندھیرے اذان سے پہلے اٹھتا، مختلف گھروں سے دودھ اکٹھا کرتا‘ ڈرم کو ریڑھے پر لاد کر شہر پہنچتا‘ شہر میں وہ نواب مظفر قزلباش کی حویلی اور کچھ دکانداروں کو دودھ فروخت کرتا ۔ اس کام سے فارغ ہوکرمسجد میں جا کر کپڑے بدلتا اور بھاگم بھاگ سکول پہنچتا۔ کالج کے زمانہ تک وہ اسی طرح دودھ بیچتا اور اپنی تعلیم حاصل کرتا رہا‘ اس نے غربت کے باوجود کبھی دودھ میں پانی نہیں ملایا۔بچپن میں اس کے پاس سکول کے جوتے نہ تھے‘ سکول کے لئے بوٹ بہت ضروری تھے‘ جیسے تیسے کر کے اس نے کچھ پیسے جمع کر کے اپنے لیے جوتے خریدے‘ اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر وہ گاؤں میں بھی جوتے پہنتا تو وہ جلدی گھِس جاتے، چنانچہ وہ گاؤں سے والد کی دیسی جوتی پہن کر آتا اور شہر میں جہاں دودھ کا برتن رکھتا، وہاں اپنے بوٹ کپڑے میں لپیٹ کر رکھ دیتا اور اپنے سکول کے جوتے پہن کے سکول چلا جاتا۔


والد سارا دن اور بیٹا ساری رات ننگے پاؤں پھرتا‘ 1935ء میں اس نے میٹرک میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اور پھر اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں داخلہ لیا‘ اب وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے گاؤں سے ریڑھی میں دودھ لاتا اور شہر میں فروخت کر دیتا ‘اس کام میں کبھی اس نے عار محسوس نہ کیا‘ فرسٹ ائیر میں اس کے پاس کوٹ نہ تھا اور کلاس میں کوٹ پہننا لازمی تھا ۔ چنانچہ اسے کلاس سے نکال کر غیر حاضری لگا دی جاتی‘ اس معاملے کا علم اساتذہ کو ہوا تو انہوں نے اس ذہین طالب علم کی مدد کی‘ نوجوان کو پڑھنے کا بہت شوق تھا‘ 1939ء میں اس نے بی اے آنر کیا‘ یہ اپنے علاقہ میں واحد گریجویٹ تھا‘


یہ نوجوان اس دوران جان چکا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی کام آسانی سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا‘ کامیابیوں اور بہترین کامیابیوں کے لیے ان تھک محنت اور تگ و دو لازمی عنصر ہے۔ معاشی دباؤ کے تحت بی اے کے بعد اس نے باٹا پور کمپنی میں کلرک کی نوکری کر لی ۔ چونکہ اس کا مقصد اور گول لاء یعنی قانون پڑھنا تھا، لہٰذا کچھ عرصہ بعد کلرکی چھوڑ کر قانون کی تعلیم حاصل کرنے لگا اور 1946ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کر لیا۔ 1950ء سے باقاعدہ پریکٹس شروع کر دی‘ اس پر خدمت خلق اور آگے بڑھنے کا بھوت سوار تھا‘ اس نے لوگوں کی مدد سے اپنے علاقے میں کئی تعلیمی ادارے قائم کیے‘ اس جذبہ کے تحت 1965ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوا‘


پیپلزپارٹی کے روٹی‘ کپڑا اور مکان کے نعرے سے متاثر ہو کر اس میں شامل ہو گیا۔ 1970ء میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوا اور نواب مظفر قزلباش کے بھائی کو جن کے گھر یہ دودھ بیچتا کرتا تھا‘ شکست دی۔ 1971ء میں دوالفقار علی بھٹو کی پہلی کابینہ میں وزیر خوراک اور پسماندہ علاقہ جات بنا‘ 1972ء کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا‘ وزارت اعلیٰ کے دوران اکثر رکشے میں سفر کرتا‘ اپنے گورنر مصطفی کھر کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے استعفیٰ دے کر ایک مثال قائم کی‘ 1973ء میں اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کی قیادت کی‘ 1973ء میں وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور کا قلمدان سونپا گیا۔ 1976ء میں وفاقی وزیر بلدیات و دیہی مقرر گیا‘ دو دفعہ سپیکر قومی اسمبلی بنا اور 4 سال تک انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کا ریکٹر رہا۔


ایک مفلس و قلاش ان پڑھ کسان کا بیٹا جس نے کامیابی کا ایک لمبا اور کٹھن سفر اپنے دودھ بیچنے سے شروع کیا اور آخر کار پاکستان کا وزیراعظم بنا‘ یہ پاکستان کا منفرد وزیراعظم تھا جو ساری عمر لاہور میں لکشمی مینشن میں کرائے کے مکان میں رہا‘ جس کے دروازے پر کوئی دربان نہ تھا‘ جس کا جنازہ اسی کرائے کے گھر سے اٹھا‘ جو لوٹ کھسوٹ سے دور رہا‘ جس کی بیوی اس کے وزارت عظمیٰ کے دوران رکشوں اور ویگنوں میں دھکے کھاتی پھرتی 

ملک معراج خالد نے اپنی عمر سادگی، عاجزی اور انکساری میں گزار دی۔ ابتدا ہی سے سماجی کارکن کی حیثیت سے دن رات ایک کر دیا۔ کسمپرسی اور غربت کے دن تھے۔ سکول اور کالج کی فیس بھی نہیں ہوتی تھی۔ معراج خالد صبح تین بجے جاگ جاتے، بھینسوں کا دودھ نکالتے اور اسے بیچنے کے بعد سکول جاتے تھے۔ تمام تعلیم دودھ فروشی اور معمولی ملازمتیں کر کے ہی حاصل کی۔ کئی سال ایک کرتا پہنے رہے، نیا خریدنے کے لئے پیسے نہ تھے، حتیٰ کہ جوتا بھی نہ تھا۔ والد صاحب کا جوتا پہن کر کالج جاتے اور واپس آکر انہیں دے دیتے۔ باپ بیٹا، دونوں کے پاس ایک ہی جوتا ہوتا تھا، دن کے وقت والد صاحب اور دوپہر کے بعد ملک معراج خالد ننگے پاؤں پھرتے تھے لیکن کبھی احساس کمتری کا شکار نہیں ہوئے۔

میرے عزیزہم وطنو! ملک معراج خالد تاریخ کی ایک عہد سا شخصیت تھے‘ آپ 23 جون 2003 ء کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ وفات سے قبل پاکستان کے اس عظیم شخص کے پاس نا تو کوئی بینک بیلنس تھا، نا کوئی ذاتی جائداد بلکہ بیماری کا علاج تک سرکاری ہسپتال میں ہوتا رہا۔


یہ تھے پاکستان کے وہ درویش صفت وزیرِاعظم جنہوں نے کٹھن حالات کا مُقابلہ کرکے ایک اعلیٰ مقام حاصل کیا اور اتنا اعلیٰ منصب ملنے کے باوجود کرپشن اور لوٹ مار سے اپنا دامن بچائے رکھا۔۔ کریم اللّہ ملک معراج خالد مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور وطنِ عزیز کو ایسے ہی مُخلص حکمران عطاء فرمائے۔۔آمین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...