بدھ، 25 مارچ، 2026

demand leniency from both countries

پاکستانی علماء افغانستان کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کیلئے سامنے آگئے، دونوں ملکوں سے نرمی کا مطالبہ

پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے ممتاز علماء کرام نے پاک افغان جنگ بندی میں توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین موجود حل طلب معاملات کو سنجیدگی، بردباری اور باہمی اعتماد کے ساتھ مذاکرات اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے حل کیا جائے۔

اس حوالے سے ملک کے جید علماء کرام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی منیب الرحمن، مولانا انوار الحق، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا عبدالمالک اور مولانا یاسین ظفر سمیت دیگر اکابرین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات محض ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ یہ دینی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں، اس لیے باہمی معاملات کو جنگ کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

علماء کرام نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان عالمی سطح پر مختلف تنازعات کے حل میں مثبت اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، ضروری ہے کہ اپنے معاملات کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

انہوں نے افغان حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور پاکستان میں دہشت گردی کے مرتکب عناصر کو کنٹرول کرے۔

مزید کہا گیا کہ سعودی عرب، چین اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے مابین امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ ان کوششوں کی قدر کرتے ہوئے دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ حسنِ نیت کے ساتھ اپنے اختلافات ختم کریں۔

علماء کرام نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی میں توسیع خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

News Headline Urdu Bbc Pakistan Digital News

*🛑 26 مارچ 2026 | بروز جمعرات | اہم خبروں کی جھلکیاں |* 🚨 (1) جنگ کا 27 واں روز؛ آبنائے ہرمز کو بند کرنے والے ایر_ان کے نیول چ...