منگل، 24 مارچ، 2026

Since yesterday, there has been silence in Delhi after the Financial Times' breaking news about Pakistan's central role in the Iran, Israel, US war. Today, President Trump told the world by retweeting Shehbaz Sharif's tweet about mediation.

*ہمارے بھارتی دوست کیا کہتے ہیں؟*

*تحریر: سینئر صحافی عارف انیس*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پچیس فروری دو ہزار چھبیس۔ مودی اسرائیل میں ہیں۔ نیتن یاہو نے "بھائی" کہا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نیسٹ کا وہ عظیم الشان میڈل دیا جو اس سے پہلے کسی کو نہیں ملا تھا۔ مودی نے کہا: "بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔" اڑتالیس گھنٹے بعد اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر بمباری شروع کر دی۔ بلومبرگ نے دورے کو "مشکوک اور سفارتی طور پر خطرناک" لکھا۔ ایک اسرائیلی صحافی نے مودی کو نیتن یاہو کے انتخابات کا "سستا اشتہار" قرار دیا۔
ایک مہینہ گزرا ہے۔ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ پنچایت کی منجی پر پاکستان بیٹھا ہے اور بھارت کہیں نظر نہیں آتا۔
آج چوبیس مارچ کو دی وائر نے، جو بھارت کا معتبر آزاد صحافتی ادارہ ہے، چھ نکات پر مبنی مضمون شائع کیا جس کی سرخی تھی: "پاکستان کا امریکہ ایران ثالث بننا بھارت کے لیے اسٹریٹیجک دھچکا کیوں ہے۔" مضمون نے اسے "آزاد بھارت کی سفارتی تاریخ کے سب سے ذلت آمیز لمحات میں سے ایک" قرار دیا۔ چھ نکات یہ تھے: مودی کی دس سالہ "پاکستان کو تنہا کرو" پالیسی ناکام ہو گئی کیونکہ اصل بحران میں امریکہ نے مودی کو نہیں عاصم منیر کو فون کیا۔ "وشوگرو" کا بیانیہ دھرا رہ گیا کیونکہ ٹھوس سفارتی ڈھانچہ انقرہ، قاہرہ اور اسلام آباد سے گزرا، نئی دہلی سے نہیں۔ بھارت کا ایران سے اعتبار ختم ہو گیا کیونکہ تیل کی درآمد بند کی، چابہار میں سرمایہ کاری سست کی اور تہران نے پاکستان کو "قابل عمل ذریعہ" قبول کیا۔ ٹرمپ بھارت کو صرف خریدار سمجھتا ہے، شراکت دار نہیں۔ چابہار پر اربوں خرچ کر کے نقشے پر پاکستان کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی مگر طاقت کے اصل راہداریوں میں بھارت خود نظرانداز ہو گیا۔ اور پاکستان، ترکی، مصر کی تکون ایک نیا درمیانی طاقت بلاک ہے جس نے بھارت کو عالمی جنوب کی قیادت سے محروم کر دیا۔
مگر یہ بات صرف دی وائر نے نہیں لکھی۔ فارن پالیسی، ایشیا ٹائمز، ڈپلومیٹ، بلومبرگ، نیوز لانڈری، دی ویک، پیپلز ڈسپیچ۔ سب نے ایک ہی نتیجہ نکالا۔

فارن پالیسی میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے سمت گنگولی نے لکھا کہ بھارت کی غیرجانبداری کو "جسمانی ضرب" لگی ہے۔ امریکی آبدوز نے ایرانی بحری جہاز دینا کو بحر ہند میں ڈبو دیا۔ ستاسی ملاح مارے گئے۔ یہ جہاز بھارتی بحریہ کی مشق "میلان" سے واپس لوٹ رہا تھا۔ بھارت نے نہ مذمت کی، نہ تعزیت۔ امریکی وزیر جنگ نے فخر کا اظہار کیا۔ گنگولی نے لکھا: "دہائیوں کی دو طرفہ کوششیں بے فائدہ خطرے میں ہیں۔"
ایشیا ٹائمز نے لکھا: "مودی کی ایران پر خاموشی نے مشرق وسطیٰ میں بھارت کی آواز گم کر دی۔" ڈپلومیٹ نے دو مضامین لکھے۔ پہلے میں لکھا کہ مودی نے اٹھائیس فروری کو منبع میں ایک سو اڑسٹھ بچیوں کی ہلاکت پر خاموشی اختیار کی مگر اگلے ہفتے خلیجی رہنماؤں کو فون کر کے ایرانی حملوں پر تشویش ظاہر کی۔ "یہ ملا جلا پیغام بھارت کو غیرجانبدار نہیں بلکہ تل ابیب اور واشنگٹن کی طرف جھکا ہوا دکھاتا ہے بغیر صاف لفظوں کے۔" دوسرے میں لکھا کہ ایٹمی توانائی ایجنسی میں ایران کے خلاف ووٹ، تیل کی بندش اور اسرائیل سے قربت نے تہران میں بھارت کا اعتبار ختم کر دیا۔ نیوز لانڈری نے سابق سفارتکار بھدراکمار کا حوالہ دیا کہ انیس سو چورانوے میں ایران نے بھارت کو کشمیر پر اقوام متحدہ میں بچایا تھا۔ آج بھارت نے ایران کو تنہا چھوڑا۔ نیوز لانڈری نے اسے "اخلاقی بزدلی" لکھا۔
معاشی تصویر مزید تباہ کن ہے۔ بھارت کی نوے فیصد ایل پی جی درآمد آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ آبنائے بند ہونے کے بعد ایل پی جی کی قلت، سلنڈر مہنگے، ایندھن مراکز پر قطاریں، کارخانے بند، پیداوار نصف۔ تیل ستر سے ایک سو بیس ڈالر تک پہنچا۔ چار ریاستوں میں اپریل میں انتخابات ہیں۔ مودی نے تیرہ مارچ کو ایرانی صدر کو فون کر کے آبنائے سے بھارتی جہازوں کی گزرگاہ مانگی۔ وشوگرو سے التجا کرنے والا بن گیا۔
ادھر پاکستان۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق "بنیادی ثالث۔" ایکسیوز نے اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ مصر، پاکستان اور ترکی نے پیغام رسانی کی اور اسلام آباد میں روبرو ملاقات کی ترتیب ہو رہی ہے۔ آئرش ٹائمز نے لکھا کہ ایرانی نئے سپریم لیڈر نے نوروز کے پیغام میں پاکستان کا خصوصی نام لیا۔ عاصم منیر ٹرمپ سے فون کرتا ہے، ریاض میں سعودی وزیر دفاع سے ملتا ہے، راولپنڈی میں شیعہ علماء سے ملتا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ ڈار نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی تھی مگر امریکہ پورا پروگرام ختم کروانا چاہتا تھا۔ اسلام آباد نے ثالثی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق مودی نے جو بنیادی غلطی کی وہ یہ ہے: ظاہری شان و شوکت کو اصل سفارتکاری سمجھ لیا۔ ہاؤڈی مودی ریلیاں، گلے ملنے کی ویڈیوز، غیر ملکی ایوارڈ۔ یہ تماشا ہے۔ اصل سفارتکاری خاموش ہوتی ہے۔ نتائج سے ماپی جاتی ہے۔ پاکستان نے وہی کیا۔ خاموشی سے ٹرمپ سے بات کی۔ خاموشی سے تہران کو پیغام پہنچایا۔ خاموشی سے ریاض میں دفاعی معاہدہ فعال کیا۔ اور فنانشل ٹائمز میں "مرکزی ثالث" کہ کر پکارا گیا. 
دی وائر نے اپنے مضمون کا اختتام ان الفاظ سے کیا: "مالی اور جمہوری طور پر بحران زدہ پاکستان سے پچھڑ جانا بھارت کے لیے گہری قومی شرمندگی ہونی چاہیے، ایسی شرمندگی جس کی ذمہ داری صرف اس آدمی پر ہے جس نے بارہ سال بھارت پر حکومت کی ہے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

BBC Pakistan News Digital News Details

*💫خبروں کی تفصیل💫* *💫بدھ5 شوال المکرم 1447ھ* *25 مارچ 2025ء💫* امریکا، ایران مذاکرات، میزبانی کیلئے شہباز کی پیشکش تہران اور ...