*شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قومی خدمات کا ایک جائزہ*
*ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی تاریخ کے وہ مایہ ناز لیڈر تھے جنہوں نے سیاست کو ڈرائنگ رومز سے نکال کر عوام کی دہلیز تک پہنچایا۔ انہوں نے 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور "طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں" کا نعرہ لگا کر ملک کے پسے ہوئے طبقات کو زبان عطا کی*
*1973 کا متفقہ آئین: ایک تاریخی کارنامہ*
*بھٹو صاحب کا سب سے بڑا سیاسی احسان پاکستان پر *1973 کا متفقہ آئین*
*انہوں نے ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا کر ایک ایسا پارلیمانی اور وفاقی آئین دیا جس پر آج بھی پورا ملک متحد ہے۔ اس آئین نے پاکستان کو ایک مضبوط ڈھانچہ اور شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت فراہم کی*
*ایٹمی پروگرام کی بنیاد: ناقابل تسخیر دفاع*
*پاکستان کے دفاع کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بنانے کا سہرا بھی ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔ 1974 میں بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد بھٹو صاحب نے عہد کیا کہ "ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔" انہوں نے نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کے*
*ایٹمی پروگرام*
*کی بنیاد رکھی، جس کی بدولت آج پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی قوت ہے*
*اسلامی سربراہی کانفرنس (1974)**
*بھٹو صاحب نے پاکستان کو عالمِ اسلام کا مرکز بنانے کے لیے 1974 میں لاہور میں*
*دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی۔ اس تاریخی اجتماع میں شاہ فیصل اور معمر قذافی جیسے عظیم مسلم رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس نے نہ صرف مسلم امہ کو متحد کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں بے پناہ اضافہ کیا*
*اقتصادی اور صنعتی اصلاحات*
*بھٹو صاحب نے ملک کی معیشت کو عوامی رنگ دینے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے*
*سٹیل مل کا قیام:*
*روس کے تعاون سے کراچی میں پاکستان سٹیل ملز کی بنیاد رکھی تاکہ ملک صنعتی طور پر خود کفیل ہو سکے*
*زرعی اصلاحات:*
*زمین کی ملکیت کی حد مقرر کی اور مزارعین کو مالکانہ حقوق دلوانے کے لیے اقدامات کیے*
* *تعلیمی اصلاحات*
*غریب بچوں کے لیے تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی*
*خارجہ پالیسی اور شملہ معاہدہ*
*1971 کی جنگ کے بعد جب ملک ٹوٹ چکا تھا اور 90 ہزار سے زائد فوجی بھارت کی قید میں تھے، بھٹو صاحب نے اپنی بہترین سفارت کاری کے ذریعے(شملہ معاہدہ)کیا اور بغیر کسی فوجی دباؤ کے تمام جنگی قیدیوں کو باعزت طریقے سے وطن واپس لائے اور پانچ ہزار مربع میل اراضی بھی واگزار کرائی*
*پاسپورٹ کی سہولت اور سمندر پار پاکستانی*
*بھٹو صاحب نے عام آدمی کے لیے پاسپورٹ بنوانے کے عمل کو آسان بنایا۔ اس اقدام سے لاکھوں پاکستانیوں کو بیرون ملک (خاص طور پر مشرق وسطیٰ) جانے اور روزگار حاصل کرنے کا موقع ملا، جس سے پاکستان میں کثیر زرمبادلہ آنا شروع ہوا جو آج بھی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے*
*شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایک جدید، جمہوری اور ایٹمی ریاست بنانے کا جو خواب دیکھا تھا، اس کے اثرات آج بھی پاکستانی سیاست اور دفاع پر نمایاں ہیں۔ انہیں "قائدِ عوام" اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو سیاست میں شراکت دار بنایا*
*(7 ستمبر 1974) کو ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر (آئین میں دوسری ترمیم) منظور کی، جس کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ اس فیصلے سے قبل قومی اسمبلی میں کئی ہفتوں تک اس معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی تھی، جس میں علمائے کرام اور متعلقہ فریقین نے اپنے دلائل پیش کیے۔ اس ترمیم کے بعد آئین کے (آرٹیکل 260)میں "مسلمان" کی تعریف شامل کی گئی، جس کی رو سے حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی نہ ماننے والا شخص آئینی طور پر مسلمان نہیں کہلا سکتا۔ بھٹو صاحب نے اس فیصلے کو عوامی امنگوں کی ترجمانی اور عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا تھا*
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں