ہفتہ، 15 نومبر، 2025

During Yahya Khan’s rule, Pakistan’s most powerful woman, Aqleem Akhtar — popularly known as General Rani — eventually died, but how? Some people even call her one of the real reasons behind the fall of Dhaka. Was she Yahya Khan’s beloved, or something else? These aspects come later — the real story is this:

Prem Singh
TehsilReporter,Nagarparkar
Daily BBC Pakistan News London.com




In the final years of her life, around the year 2000, Aqleem Akhtar developed breast cancer. It was such a painful form of the disease that her arm hurt constantly; the breast cancer had begun affecting one of her arms as well.

Aqleem Akhtar belonged to a small town in Gujrat and came from a middle-class family. When she grew up, she married a police officer, who at that time was probably a constable. His name was Ghulam Raza. In the 1960s, Aqleem Akhtar befriended General Yahya Khan. Their relationship continued, and later she began providing him with young women on a daily basis. Because of this, she became extremely influential.

One of her notable qualities was that she never revealed the secrets of the corridors of power; she held everything inside her heart. Seeing Aqleem Akhtar’s influence and authority inside the Presidential Palace, Zulfikar Ali Bhutto gave her the title General Rani.

Aqleem Akhtar once told the renowned lawyer and fiction writer Ijaz Batalvi, in the presence of several people, that Yahya Khan — whom she referred to as Agha Jani — had no role in the breakup of Pakistan. According to her, the only person responsible was Zulfikar Ali Bhutto.

According to General Rani, Bhutto had already made a deal with Sheikh Mujib:
“You rule over there, and we rule over here.”
After that agreement, Bhutto became Pakistan’s first civilian Chief Martial Law Administrator, and Ghulam Mustafa Khar became Lahore’s administrator.

Aqleem Akhtar revealed to Ijaz Batalvi that after Yahya Khan’s downfall, she was placed under house arrest, completely cut off from the outside world.

In 2001, Aqleem Akhtar passed away due to the same illness.
Now all one can pray is that may Allah Almighty forgive her sins and elevate her ranks. Ameen.

*💥7 people killed in firing incidents in different districts of Balochistan*BBC PK NEWS

بلوچستان کے اضلاع موسیٰ خیل ،لورالائی ،خضدار اور ژوب میں فائرنگ کے واقعات میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے۔

ضلع موسیٰ خیل کے علاقے کنگری سے 3 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، تینوں افرادکو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔

خضدار کی تحصیل وڈھ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 22 برس کے نوجوان نواب کو قتل کردیا گیا۔ ژوب میں بھی نامعلوم افرادکی فائرنگ سے نوجوان محب اللّٰہ جاں بحق ہوگیا۔

ادھر ضلع لورالائی میں نوجوان نے سوتیلی ماں اور ایک شخص کی جان لے لی۔ تمام واقعات کی تحقیقات شروع کردی گئیں۔

*💥If you come towards us on foot, we will come towards you running: Maulana Fazlur Rehman's speech in Dhaka*BBC PK NEWS

مولانا فضل الرحمان بنگلادیش کے دورے پر ہیں۔ ڈھاکا میں عالمی ختم نبوت ﷺ کانفرنس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ امت میں وحدت و اتفاق کی علامت ہے، تحریک کسی تشدد کا نہیں بلکہ جدوجہد کے تسلسل کا نام ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ برصغیر کے مسلمان اور تمام مکاتب فکر کے علما متفق ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا، نبوت کا دعویٰ کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج تصور کیا جائے گا۔ 

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ہم پاکستان سے خیر سگالی کا پیغام لےکر آئے ہیں اور بنگلادیش سے خیر سگالی کا پیغام لے کر جائیں گے، دو برادر اسلامی ممالک مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کے خواہش مند ہیں اور اس راستے میں ہمارے قدم آگے بڑھیں گے، اگر آپ پیدل ہماری طرف آئیں گے تو ہم دوڑ کر آپ کی طرف آئیں گے، محبت کا یہ رشتہ مزید مضبوط ہوگا اور بہت مضبوط ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دو بھائیوں کے اپنے گھر میں جائیداد تقسیم کرنے سے ان کے بھائی چارے میں کوئی فرق نہیں آتا، پاکستان اور بنگلادیش کا مسلمان ایک قوت اور ایک جماعت اور ایک ہی امت ہے، آج کا یہ اجتماع دونوں ملکوں کے درمیان بہتر، مضبوط اور مستحکم تعلقات کا سبب بنے گا۔

جمعرات، 13 نومبر، 2025

مسیح الدجال کے بارے میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک عجیب و غریب مخلوق ہے جس کی ایک آنکھ درمیان میں ہے اور اس کی شکل خوفناک ہے۔ BBC PK NEWS

پریم سنگھ 
تحصیل رپورٹر ننگر پارکر 
ڈیلی بی بی سی پاک نیوز لنڈن۔کام


 حقیقت میں، وہ ایسا نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عام انسان ہوگا، بالکل ہمارے جیسے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل بہت واضح طور پر بیان کی ہے، جو کسی دوسرے نبی نے اس طرح نہیں کی۔ اس کی فتنہ اس قدر بڑی ہوگی کہ تمام انبیاء نے اپنی قوموں کو اس سے خبردار کیا ہے کیونکہ یہ زمین پر ہونے والا سب سے بڑا فتنہ ہوگا، اور ہم جانیں گے کہ کیوں۔

پہلی بات یہ کہ اسے "مسیح" کہا گیا ہے دو وجوہات کی بنا پر:
پہلی وجہ یہ کہ اس کی ایک آنکھ مَسح یعنی بند ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی آنکھ انگور جیسی ابھری ہوئی ہوگی، جیسے اس میں سے پانی نکال لیا گیا ہو۔
دوسری وجہ یہ کہ وہ چالیس دنوں میں پوری دنیا کا سفر کرے گا۔
پہلا دن ایک سال جتنا لمبا ہوگا، دوسرا دن ایک مہینے جتنا، تیسرا دن ایک ہفتے جتنا، اور باقی دن ہمارے معمول کے دنوں کی طرح ہوں گے۔ وہ زمین کے ہر حصے تک پہنچے گا۔ وہ ایک سواری پر ہوگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گدھا کہا، لیکن اس کی شکل بہت عجیب ہوگی، اس کے کانوں کے درمیان کا فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا، یعنی وہ بہت بڑی ہوگی۔

وہ ایک نوجوان ہوگا، بوڑھا نہیں، اس کی جلد سرخی مائل سفید ہوگی، اس کے بال بہت زیادہ اور بہت سخت ہوں گے، وہ چھوٹا ہوگا لیکن اس کا جسم بہت چوڑا اور بھاری ہوگا، اور اس کی ٹانگوں کے درمیان ایک واضح فاصلہ ہوگا۔
سب سے اہم بات یہ کہ اس کی پیشانی پر "کافر" (ک ف ر) لکھا ہوگا، اور اللہ کی حکمت سے ہر مؤمن اسے پڑھ سکے گا، چاہے وہ پڑھنا جانتا ہو یا نہ ہو۔

اس کی فتنہ اس قدر شدید کیوں ہے؟ کیونکہ وہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ ہے اور وہ ایسے کام کرے گا جو بظاہر صرف اللہ ہی کر سکتا ہے۔ لیکن ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی مرضی کے تابع ہوگا۔

وہ دو دریاؤں کے ساتھ چلے گا: ایک جو جنت کی مانند ہوگا، اور دوسرا جو جلتی ہوئی آگ جیسا ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں حقیقت میں اُلٹے ہوں گے۔ اس کی جنت آگ ہوگی اور اس کی آگ جنت ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت دی کہ اگر ہم اس کی آزمائش میں پڑ جائیں اور وہ ہمیں انتخاب کرنے کو کہے تو ہمیں اپنی آنکھیں بند کرنی چاہئیں، سر جھکا لینا چاہیے، اور اس کی آگ میں سے پینا چاہیے، کیونکہ وہ حقیقت میں ٹھنڈا اور شیریں پانی ہوگا۔

وہ کسی آدمی سے کہے گا کہ اگر میں تمہارے والدین کو زندہ کر دوں تو کیا تم مجھ پر ایمان لے آؤ گے؟ اگر اس کا ایمان کمزور ہوگا، تو وہ کہے گا ہاں۔ پھر وہ ایک جن کو بلائے گا جو اس کے والدین کی شکل میں آئے گا اور کہے گا کہ یہ صحیح کہہ رہا ہے، اور وہ شخص ایمان لے آئے گا۔
آپ سوچ سکتے ہیں کہ آپ کے والدین آپ کے سامنے آ کر آپ سے کہیں کہ یہ شخص سچ بول رہا ہے؟ یہ کتنی بڑی آزمائش ہوگی۔

وہ ان شہروں میں جائے گا جو اس پر ایمان لائیں گے، ان پر بارش نازل کرے گا اور زمین سے فصلیں اگائے گا، اور جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے ان پر بارش رک جائے گی اور ان کی زمین بنجر ہوجائے گی۔
دجال اس وقت آئے گا جب تین سال تک قحط سالی اور بارش کی کمی ہوگی، اس لیے یہ ایک بہت بڑی آزمائش ہوگی۔

ایک نوجوان، جو اس وقت کے سب سے بہتر اور نیک لوگوں میں سے ہوگا، دجال کے سامنے آئے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ یہ جھوٹا ہے، اس پر یقین مت کرو۔
دجال اس آدمی کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرے گا اور پھر لوگوں سے کہے گا کہ اگر میں اسے دوبارہ زندہ کر دوں تو کیا تم مجھ پر ایمان لے آؤ گے؟ پھر وہ اسے دوبارہ زندہ کرے گا۔
وہ نوجوان کہے گا کہ اب تو میرا یقین اور پختہ ہوگیا ہے کہ تم دجال ہو۔ وہ لوگوں سے کہے گا کہ یہ سب صرف میرے ساتھ ہو سکتا تھا، اس پر یقین مت کرو۔
دجال اسے دوبارہ قتل کر دے گا، اور وہ اللہ کے نزدیک سب سے عظیم شہید ہوگا۔

دجال دو شہروں، مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا، کیونکہ ان کی حفاظت پر فرشتے ہوں گے۔ وہ مسجد اقصیٰ اور طور میں بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت ہے کہ ہم اپنی جان کو اس کے فتنہ سے بچانے کی کوشش کریں اور جب وہ ظاہر ہو تو ان جگہوں پر جا کر پناہ لیں۔
جو لوگ اس کے بارے میں جانتے ہوں گے، وہ اس سے لڑنے جائیں گے، لیکن اس کی طاقتور آزمائشوں کو دیکھ کر کچھ ایمان والے بھی اس کے فتنہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت دی کہ اگر ہم دجال کا سامنا کریں تو سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات پڑھیں، کیونکہ وہ ہمیں اس کے فتنہ سے بچائیں گی۔ اس لیے ہر ایک کو آج ہی انہیں حفظ کر لینا چاہیے۔

اور ہمیشہ یہ دعا کرتے رہیں: "اللهم إني أعوذ بك من فتنة المحيا والممات ومن شر فتنة المسيح الدجال"۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آخر زمانے میں ایسے مرد آئیں گے جو مرد نہیں ہوں گے، وہ عورتوں کی مانند لباس پہنیں گے۔ جب تم انہیں دیکھو تو جان لو کہ قیامت قریب ہے۔"

یا اللہ، ہم آپ سے حسن خاتمہ کی دعا کرتے ہیں۔ آمین۔

سچ یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ لوگ اصولوں کے نام پر ڈھونگ رچاتے ہیں، prem Singh report

پریم سنگھ تحصیل رپورٹر ننگر پارکر ڈیلی بی بی سی پاک نیوز لنڈن۔کاممگر جیسے ہی اپنا فائدہ سامنے آ جائے، سارا نظریہ، ساری اخلاقیات، سارا “ضمیر” ایک سیکنڈ میں پگھل کر بہہ جاتا ہے۔ ہم دعوے بہت کرتے ہیں—دیانت، اصول پسندی، سچائی—مگر جب اپنی جیب، اپنی سہولت، اپنی خواہش یا اپنی انا بچانی ہو تو یہی دعوے سب سے پہلے قربان کر دیتے ہیں۔ انسان کی اصل پہچان اس کے اصول نہیں، اس کے مفاد کے وقت کا رویہ ہے، اور ہمارا معاشرہ اس امتحان میں مسلسل فیل ہو رہا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں یہ مثال کمزور دلائل کو نہیں، بلکہ ہماری سوچ کی ریڑھ کی ہڈی کو بے نقاب کرتی ہے۔ آرٹیکل: معاملہ مکھی کا نہیں، ہماری دوغلی سوچ کا ہے۔ اگر مکھی چائے میں گرے تو ہم پوری چائے ضائع کر دیتے ہیں لیکن اگر وہی مکھی دیسی گھی میں گرے تو نکال کر گھی بچا لیتے ہیں، کیونکہ بات اصول کی نہیں، مالیت کی ہے۔ چائے سستی ہے، اس لیے ضمیر بھی سستا چلتا ہے؛ گھی مہنگا ہے، اس لیے اصول فوراً خاموش ہو جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ اصول نہیں مانتے، مسئلہ یہ ہے کہ اصول صرف وہیں مانتے ہیں جہاں ان کا اپنا کوئی نقصان نہ ہو۔ آج کے انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ اپنے مفاد کو اصول کا درجہ دے بیٹھا ہے، اور اصول کو صرف ایک سجاوٹی نعرہ بنا رکھا ہے۔ ہم دوسروں کو اصول یاد دلاتے ہیں مگر اپنی باری آئے تو سب سے پہلے انہی اصولوں کے گلے میں “لیکن، اگر، مگر” ڈال دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس معاشرے میں فیصلے اصولوں سے زیادہ حیثیت، رتبے، دولت اور فائدے کو دیکھ کر کیے جائیں وہاں انصاف بھی تماشا بن جاتا ہے، اخلاقیات بھی رسوا ہوتی ہیں اور کردار بھی کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں طاقتور غلطی کرے تو جواز ڈھونڈ لیا جاتا ہے اور کمزور ٹھوک بجا کر سزا پاتا ہے۔ اصول کمزوروں کے لیے سخت، طاقتوروں کے لیے نرم ہو جائیں تو پھر معاشرہ سیدھا نہیں چلتا، جھکتا ہے، بگڑتا ہے اور آخرکار ٹوٹ جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں یہ رویہ غلط ہے، پھر بھی اسے چھوڑنے کو تیار نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں فائدہ چاہیے، سچ نہیں۔ ہمیں اصولوں کی جیت نہیں، اپنی آفیت چاہیے۔ ہم نے اپنے کردار کو اتنا لچکدار بنا دیا ہے کہ وہ مفاد کے سامنے ہر بار جھک جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سچ کمزور پڑ رہا ہے اور جھوٹ طاقت پکڑ رہا ہے۔ انصاف کے نظام سے لے کر روزمرہ کے تعلقات تک، ہر جگہ یہی خامی ہمارے سامنے آتی ہے کہ لوگ سچ نہیں دیکھتے، وہ دیکھتے ہیں کون کہہ رہا ہے اور اس سے انہیں کیا فائدہ ملے گا۔ اصول اسی لمحے تک اصول ہیں جب تک وہ ہماری جیب، ہماری خواہش، ہماری آسانی کے خلاف نہ جائیں۔ ورنہ ہم خود کو دھوکا دینے کے ماہر ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک قوم تب مضبوط بنتی ہے جب اصول شخصیت سے نہیں، سرمائے سے نہیں، فائدے سے نہیں بلکہ سچ سے باندھے جائیں۔ ورنہ چائے میں پھینکنے والی مکھی اور گھی سے نکال کر معاف کر دینے والی مکھی کے درمیان جو فرق ہے، وہی ہمارے کردار اور ہماری زوال پذیر سوچ کا اصل چہرہ ہے — کڑوا، مگر سچ۔

پریم سنگھ تحصیل رپورٹر ننگر پارکر ڈیلی بی بی سی پاک لندن ۔کام*🐖 اعضاء کی کمی کا حل: BBC PK NEWS

*خنزیر کے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ گردے اور سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجیدنیا بھر میں گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے خواہشمند مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، مگر اعضاء کی فراہمی میں شدید کمی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، گردے کے ٹرانسپلانٹ کے ضرورت مند مریضوں میں سے صرف دس فیصد خوش نصیبوں کو ہی یہ سہولت میسر آ پاتی ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر، سائنسدانوں نے ایک متبادل حل پر کام شروع کیا، اور وہ حل خنزیر (سؤر) کے اعضاء کو انسانوں میں ٹرانسپلانٹ (زینو ٹرانسپلانٹیشن) کرنا ہے۔اس میدان میں انقلابی پیش رفت کا سہرا سی آر آئی ایس پی آر (CRISPR) جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کو جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے پر ہی 2020 میں کیمسٹری کا نوبل انعام ایما نوئیل شارپینٹیئر اور جینیفر ڈوڈنا کو دیا گیا تھا۔ سی آر آئی ایس پی آر کی مدد سے خنزیر کے ڈی این اے میں تبدیلی (جینیٹک ایڈیٹنگ) کر کے اس کے اعضاء کو انسانی مدافعتی نظام کے لیے زیادہ قابل قبول بنایا جاتا ہے، جس سے اعضاء کے فوری مسترد ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ سائنسدان خنزیر کے جینز میں رد و بدل کرتے ہیں تاکہ ان میں ایسے مالیکیولز ختم کیے جا سکیں جو انسانی جسم میں شدید ردِ عمل پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ای جیینسز (eGenesis) نامی کمپنی نے خنزیر کے گردے میں 69 جینیاتی تبدیلیاں کیں، جس میں نقصان دہ خنزیر کے جینز کو ہٹانا اور انسانی جینز شامل کرنا شامل ہے۔اس ٹیکنالوجی کی بدولت، میساچوسٹس جنرل ہسپتال میں ٹم اینڈریوز نامی مریض، جس نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کا گردہ لگوایا، 271 دن سے زیادہ زندہ رہ کر طویل ترین بقا کا ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔ (بعد میں یہ ریکارڈ دیگر مریضوں نے توڑا ہے، جیسا کہ توانا لونی 130 دن تک زندہ رہی، اور حالیہ رپورٹس کے مطابق ٹم اینڈریوز 7 ماہ سے زیادہ بھی زندہ رہ چکے ہیں، جس سے یہ ٹیکنالوجی مزید مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔)امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (FDA) نے اب ای جیینسز اور یونائیٹڈ تھراپیوٹکس جیسی امریکی کمپنیوں کو اس ٹیکنالوجی کے ساتھ خنزیر کے گردوں کے مکمل کلینیکل ٹرائلز (فیز ون/ٹو/تھری ٹرائلز) شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس میں گردے کی بیماری کے آخری مرحلے سے دوچار مریضوں کو ٹرانسپلانٹ کیا جائے گا۔ یہ منظوری زینو ٹرانسپلانٹیشن کی جانب ایک اہم قدم ہے، اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میں یہ پیش رفت انسانی اعضاء کے ٹرانسپلانٹ کے لیے سپلائی کی کمی کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی، اور ہزاروں جانیں بچائی جا سکیں گی۔

خواجہ سعد رفیق کا دلیرانہ موقف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آواز دروں BBC PK NEWS

 —•—جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس سید منصور علی شاہ مستعفی ھو گئے ھیں -جناب اطہر من اللّٰہ ججز بحالی موومنٹ کے دور جدوجہد کے دوران فرنٹ لائن کے ساتھی رھے ، جج بننے کے بعد کبھی ملاقات ھوئ نہ سامنا ۔میرے نزدیک وہ عدلیہ کے گِنے چنے دیانتدار اور up right لوگوں میں سے ھیں ، جسٹس شوکت صدیقی کی جبری برطرفی پر انکی خاموشی انکے جاننے والوں کیلئے افسوسناک تھی ، جسٹس ثاقب نثار اور جنرل باجوہ کے عہد ِ عمرانی میں دوران اسیری ھمارے پروڈکشن آرڈرز کے معاملہ پر وہ ھمیں انصاف دینے کی بجاۓ پارلیمنٹ کا معاملہ پارلیمنٹ میں طے کرنیکا کہ کر خاموشی سے پیچھے ھٹ گئے بہر حال انکی قدر اور احترام دل میں موجود رھا -جسٹس منصور علی شاہ کو بطور چیف جسٹس لاھور ھائیکورٹ شاندار کام کرتے دُور سے دیکھا ھے ، ذاتی جان پہچان کبھی نہیں رھی ۔۔گوجرانوالہ میں ایک متروک ریلوے سٹیشن کی جگہ بنک سکوائر کی تعمیر کے معاملہ پر ھمارے نزدیک انکا فیصلہ حقائق کے برعکس تھا جسکا محکمہ ریلوے کو بہت نقصان ھوا اور مجھے بطور وزیر ِ ریلوے اسکا بہت افسوس ھوا مگر انکی قابلیت اور انصاف پسندی کا میں ھمیشہ قائل رھا ھوں۔۔ صورتحال یہ ھے کہ کچھ عرصہ پیشتر بھی سپریم کورٹ کے دو ججز استعفے دے چکے ھیں لیکن آج مستعفی ھونیوالے دونوں ججز کے استعفوں کو پہلے استعفوں کے ساتھ ملانا ناانصافی اور زیادتی ھو گا -بطور ایک سیاسی کامریڈ مجھے ان دو جج صاحبان کے استعفوں پر دلی افسوس ھوا ھے ۔۔ جناب اطہر من اللّٰہ اور جناب منصور علی شاہ کے استعفوں کو دھڑے بندی کی سیاست کی عینک سے دیکھا جاۓ تو منظر سہانا دکھائ دیتا ھے لیکن غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھا جاۓ تو یہ استعفے پاکستان میں آئین ، انصاف ، قانون اور جمہوریت کی بالادستی کا خواب دیکھنے والے ھر فرد کیلئے لمحۂِ فکریہ ھیں۔۔۔ نظر آ رھا ھے کہ استعفوں کا یہ سلسلہ یہاں نہیں رُکے گا بلکہ عدلیہ سے ھوتا ھوا پارلیمنٹ تک جائیگا ، یاد رکھنا چاھئیے کہ ھر مخالف کو پکڑا جا سکتا ھے نہ ھی ملک دشمن قرار دیا جاسکتا ھے ، ایک ذمہ دار ریاست معاملات کو ٹھنڈا رکھتی ھے ، دشمنوں میں گھِرا نیوکلئیر پاکستان آخر کہاں تک اور کب تک اندرونی محاذ آرائ کا متحمل ھو گا ؟؟ دیرینہ تنازعات کے حل کیلئے نئے تنازعات کو جنم دینا دانشمندی نہیں کہلاتا ؟؟؟ ان استعفوں پر خوشی کے ڈھول پیٹنے کی بجاۓ ، پیدا ھونیوالی فالٹ لائینز پُر کرنے کی فِکر کرناھی مناسب عمل ھو گا ۔۔

NEWS HEADLINES BBC PAKISTAN NEWS DIGITAL URDU ENGLISH

 *آج دن بھر کیا کچھ ہوا؟*  * 11 مئی 2026 | بروز پیر | اہم خبروں کی جھلکیاں |*  مہنگائی میں کمی اور عام آدمی کے ریلیف کیلیے اقدامات کیے جائیں...