Daily Bbc Pakistan: Deliver Latest news breaking news urdu news current news,top headlines in urdu from Pakistan, world, sports, Business, Cricket, Politics and Weather,
منگل، 1 اپریل، 2025
سامارو : سامارو ڀرسان ڳوٺ کاروڙو خاصخيلي ۾ 20 ڏينهن اڳ ڪارنهن جي الزام ۾ قتل ٿيل پرڻيل ناري دعا خاصخيلي جو قتل ڪيس نئون رخ اختيار ڪري ويو دعا جو سڳو ڀاء گرفتار عدالت ۾ پيش ڪيو ويو مک جوابدار اڃان آجا گرفتار نه ٿي سگهيا . رپورٹ: انجنیئر اوم پرکاش ڈسٹرکٹ بیورو چیف بی بی سی نیوز پاکستان تفصیلات: BBC PK
ساماري ڀرسان ڳوٺ کاروڙو خاصخيلي ۾ 20 ڏينهن اڳ ڪارنهن جي الزام هيٺ قتل ٿي ويل دعا خاصخيلي ۾ ڪيس نئون رخ اختيار ڪري ويو آھي پوليس ڪيس ۾ دعا جي هڪ ڀاء ذولفقار خاصخيلي کي گرفتار ڪري ورتو آھي قتل جي ڪيس ۾ پوليس دعا جي ڀاء ذولفقار خاصخيلي کي گرفتاري ظاهر ڪري مقامي عدالت سول جج ۽ جوڊيشنل مئجسٽريٽ جي عدالت ۾ پيش ڪيو جتي عدالت سڳوري جوابدار کي پنج ڏينهن جي جسماني ريمانڊ تي پوليس حوالي ڪيو آھي دعا ڪيس ۾ جانچ آفيسر ميڊيا کي ٻڌايو ته جوابدار ذولفقار پوليس اڳيان دعا قتل بابت غلط بياني ڪري قتل واقعي کي لڪائڻ جي سازش ڪئي آھي جنهن ڪري قلم 201 تحت گرفتار ڪري قتل ڪيس ۾ جانچ ڪئي پئي وڃي . قتل واقعي ۾ ملوث سمورن جوابدارن ۽ سهولتڪارن کي گرفتار ڪيو ويندو. ڇاپا هنيا پيا وڃن جلد گرفتار ڪيا ويا ويندا ۽ ڪيس جي هر رخ کان جانچ جاري آھی
قیدی بھی انسان ہیں حیدرآباد :– سینٹرل جیل حیدرآباد میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں قیدیوں پر انسانی تشدد رشوت کے مندی بیمار قیدیوں کا اعلاج نا ہو نا. رپورٹ: انجنیئر جئدیو مھیشوری بیورو چیف بی بی سی پاکستان ۔تفصیلات: BBC PK
حیدرآباد :حالیہ دنوں میں، سینٹرل جیل حیدرآباد میں جیل حکام نے ایک قیدی پر وحشیانہ تشدد کیا، صرف اس لیے کہ اس نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی۔ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ سندھ کی جیلوں میں رائج ظلم و جبر اور استثنیٰ کے کلچر کی عکاسی کرتا ہے۔ قیدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے، ان پر تشدد کیا جاتا ہے، اور انہیں بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔حيدرآباد سینٹرل جیل سپرٹنڈنٹ کے لئے سونے کا ذخیرہ سپرنٹنڈنٹ نائب ٻابهڻ نے ملاقات کا ریٹ 1500 روپے مقرر کیا ہوا ہے۔ چھوٹے قیدی سے کام کے 30,000 سے 50,000 روپے لیتا ہے، جبکہ قتل کے قیدی سے 1 لاکھ سے 1.5 لاکھ روپے وصول کیے جاتے ہیں۔بی کلاس کے کولی کے 90 ھزار سے 70 ھزار ب کلاس کے فے قیدی سے 3000 مہانا جیل م فے قیدی سے 1500 کیبل نیٹ کے پانی گرم، ائیرکولر، بجلی پر چلنے والا کیٹل اور ہر جیز کے سپريڊنٽنٽ نے ریٹ مقرر کئے گئے ہیں. جیل کے کچن میں بھی اس نے ایک خاص نظام بنا رکھا ہے۔ قیدیوں کو غیر معیاری کھانا دیا جاتا ہے کیونکہ ٹھیکیدار جب سپرنٹنڈنٹ کو پیسے دے گا تو وہ قیدیوں کو اچھا کھانا کیوں فراہم کرے گا؟ قیدیوں پر ظلم کا سلسلہ جاری ہے، جیسے یہ قیدی نائب ٻابهڻ کی ذاتی ملکیت ہوںانڈر ٹرائل قیدیوں سے کام کروانا توہین عدالت میں آتا ہےسندھ وہ واحد صوبہ ہے جہاں انصاف مانگنے والے کو مزید رگڑا دیا جاتا ہے اگر کوئی قیدی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو شکایت کرتا ہے تو سپرینٹنڈنٹ نائب بابھن اس قیدی کو بند وارڈ کروا کر تشدد کرواتا ہے اس کے علاوہ دس کے قریب قیدی تسدد کے واقعات سے فوت ہوگئے ہیں جن میں سے محمد یوسف قمبرانی، محمد ولد خدابخش (بدین کے قیدی) محمد یعقوب ولد ٻڊل عمراڻي کے الاوا اور ب بین.انسانی حقوق کی قدرانسانی حقوق صرف قوانین یا معاہدوں میں درج الفاظ نہیں ہیں، بلکہ یہ ہر فرد کے لیے عزت، وقار اور مساوی سلوک کی ضمانت ہیں۔ کوئی بھی نظام یا طاقت ہمیں ان حقوق سے محروم نہیں کر سکتی جب تک کہ ہم خود خاموش نہ رہیں۔ اگر ہم ظلم کے خلاف کھڑے نہ ہوئے، تو ناانصافی بڑھتی رہے گی۔بین الاقوامی قوانین کے تحت ہماری ذمہ داریاںہم کئی بین الاقوامی معاہدوں کے پابند ہیں، جن میں شامل ہیں: • عالمی انسانی حقوق کا اعلامیہ (UDHR) – آرٹیکل 5 تشدد اور غیر انسانی سلوک کی ممانعت کرتا ہے۔ • شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدہ (ICCPR) – آرٹیکل 10 قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک کی ضمانت دیتا ہے۔ • تشدد کے خلاف اقوامِ متحدہ کا معاہدہ (CAT) – ہم اس پر دستخط کر چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود تشدد عام ہے۔ان معاہدوں کے باوجود، سینٹرل جیل حیدر آباد سمیت سندھ کی دیگر جیلوں میں ان قوانین پر عملدرآمد یا تو بہت کمزور ہے یا بالکل موجود نہیں ہے۔ سندھ جیل ایکٹ اور سندھ ہیومن رائٹس کمیشن محض کاغذی کارروائی تک محدود ہیں، جبکہ عملی طور پر کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ کرپشن، نااہلی، اور خاموشی کا کلچر ان خلاف ورزیوں کو مزید بڑھا رہا ہے۔جب تک حقیقی اصلاحات، آزاد نگرانی، اور سخت احتسابی اقدامات نہیں کیے جاتے، تب تک ایسے “معائنے” محض دکھاوے تک محدود رہیں گے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ نظام میں حقیقی تبدیلی لائی جائے۔ قیدی بھی انسان ہیں، اور ان کے حقوق محفوظ رہنے چاہئیں۔بشکریہ ، سرمد چانڈیو کی وال سے۔
میڈیکل کی دنیا میں تاریخ ساز کارنامہ ! دل کی ایک پیچیدہ سرجری کامیابی کے ساتھ کی گئی جب کہ مریض 2,000 کلومیٹر دور کسی اور ہسپتال میں تھا اور سرجن کسی اور ہسپتال میں . رپورٹ: انجنیئر جئدیو مھیشوری بیورو چیف بی بی سی پاکستان تفصیلات: BBC PK
دنیا کی تاریخ میں ہندوستان کے اندر سرجیکل روبوٹ کی مدد سے 2 گھنٹے 40 منٹ تک آن لائن دل کا آپریشن کامیابی سے سر انجام پایا . سرجری کی قیادت ڈاکٹر سدھیر سریواستو کررہے تھے اور ڈاکٹر ارول فرٹاڈو اور ٹیم انکے ساتھ تھی . روبوٹک سرجری کے دوران، آپریٹنگ ڈاکٹر 3D شیشے پہنے کنسول کے پیچھے بیٹھا سکرین کو دیکھتے ہوئے آن لائن روبوٹ کو کنٹرول کرکے دوسرے شہر میں لیٹے مریض کی سرجری کرتا رہا . ڈاکٹروں کے مطابق مریضوں کو ہزاروں کلومیٹر سفر سے بچانے کیلئے میڈیکل کی دنیا میں یہ اہم ترین سنگ میل ہے .اس سے پہلے، کم فاصلے پر ریموٹ سرجری کی جاتی تھی، مگر اب 2,000 کلومیٹر ٹیلی سرجری کرکے ہندوستان نے میڈیکل کی فیلڈ میں دنیا کی توجہ حاصل کرلی ہے .بلا شبہ جہاں ٹیکنالوجی اور اے آئی کی ترقی کچھ حلقوں کو پریشانی میں مبتلا کرچکی ہے ایسی خبریں اور مثالیں، ٹیکنالوجی کے حمایتی ایک مظبوط دلیل کے طور پر پیش کرسکتے ہیں . آپ اسکے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ اسکے خلاف ہیں یہ حق میں ؟ جواب ضرور دینا ۔منقول
نوابشاھ: صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبیعت ناساز ۔ نوابشاھ/ شہید بینظیر آباد سے کراچی منتقل ۔رپورٹ: انجنیئر جئدیو مھیشوری بیورو چیف بی بی سی پاکستان تفصیلات: BBC PK
نوابشاھ: خبر کے مطابق صدرِ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان آصف علی زرداری, جو عید الفطر کا تہوار منانے اپنے آبائی علاقے زرداری ھاؤس نوابشاھ میں تھے ، بخار اور انفیکشن کی وجہ سے طبیعت ناساز ہونے کے باعث ان کو نوابشاھ سے کراچی منتقل کردیا
پیر، 31 مارچ، 2025
ایک بچّہ دس روپے لے کر پُلاؤ والے کے پاس آیا،جیسے ہی وہ ریڑھی کے قریب پہنچا، ایک دبلا پتلا لڑکا، جو شاید مالک کا نوکر تھا، سخت لہجے میں بولا:"کیا چاہیے؟"بچّے نے ہمت مجتمع کرکے آہستگی سے کہا:"BBC PK
دس روپے کا پلاؤ دے دو۔"لڑکے نے حیرت سے اُس کے ہاتھ میں پڑے دس روپے دیکھے اور اُسے سر سے پیر تک گھور کر ہنسا۔"دس روپے میں اب کچھ نہیں ملتا، جاؤ یہاں سے۔"بچّہ تھوڑا سا پیچھے ہٹ گیا۔ اس کی آنکھوں میں یوں لگا جیسے آنسو جھلملانے کو ہیں، مگر اُس نے گھبرا کر آس پاس دیکھا کہ کہیں کوئی مذاق نہ اُڑائے۔ اُسی لمحے میں، میں بھی پُلاؤ خریدنے کے ارادے سے پہنچا تھا۔ میرا جی چاہا کہ اُس بچے کی مدد کروں۔ چاہا تو یہی کہ میں خود آگے بڑھ کر اپنا بٹوا کھولوں اور اسے کہیں زیادہ چاول دلا دوں، لیکن عجیب سے حجاب کے باعث میری زبان لڑکے کو روکنے کے لیے پکارنے سے قاصر تھی۔ میں بس ہمت کر کے اتنا کہہ پایا کہ"اِسے دے دو، پیسے میں دے دیتا ہوں۔"مگر اچانک پیچھے سے ایک نرم اور بارُعب آواز ابھری:"ہم بچے سے پیسے لے کر اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہیں۔"یہ آواز پُلاؤ والے مالک کی تھی۔ درمیانی قدوقامت، ہاتھ میں ایک ڈوئی اور آنکھوں میں حوصلہ افزا مسکراہٹ۔ وہ اُجلا کُرتا پہنے تھا جس کے سامنے سینے پر ہلکی سی سالن کی چھینٹیں پڑی ہوئی تھیں۔ وہ آگے بڑھا اور اس نے خود اپنے ہاتھوں سے اُس بچّے کے ہاتھ سے دس روپے کا پرانا سا نوٹ لیا۔ پھر نہایت پیار اور دلجمعی سے شاپر میں چاول ڈالتا چلا گیا۔ اُسی دیگ میں سے دو تین چھوٹی سی بوٹیاں بھی نکال کر اس میں رکھ دیں اور شاپر کو مضبوطی سے بند کیا۔"اچھا سنو،" مالک نے اُسے پیار سے بُلایا، "یہ لو سلاد بھی لے جاؤ۔"بچّہ حیرانی اور تشکر سے تک رہا تھا۔ اُس کے ہونٹ خاموش تھے لیکن آنکھیں بول رہی تھیں۔ وہ شاپر کو دونوں ہاتھوں سے سینے سے لگا کر یوں تھامے کھڑا تھا جیسے اس میں گویا دنیا کی تمام خوشیاں قید ہوں۔ مالِک نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس کی آنکھوں میں پھنسے آنسو چھلکنے کو آئے، لیکن وہ بچہ شاید اپنی آنسوؤں کو قوت بنا کر مضبوط بننا چاہ رہا تھا۔ وہ دُکھتا ہوا دل، جس میں جینے کے ہزار اندیشے تھے، اُس لمحے جیسے سکون سے بھر گیا۔میں نے بھی حیرانی سے پوچھ ہی لیا:"مہنگائی کے اس دور میں دس روپے کے چاول کیسے دے دیتے ہو؟"پُلاؤ والے نے ہلکا سا قہقہہ لگایا، مگر اس قہقہے میں کوئی تکبر یا نمود نہ تھی، بس ایک عجیب سی گہری اُداسی اور مہر و محبت کی جھلک تھی۔ کہنے لگا:"بچّے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں صاحب! میرے پاس پانچ روپے لے کر بھی آتے ہیں۔ انہیں تو انکار کرتے ہوئے زبان کانپنے لگتی ہے۔ اب دیکھیں، پانچ روپے تو بعض اوقات شاپر کی قیمت بھی پوری نہیں کرتے، سلاد تو دور کی بات ہے۔ لیکن ہر جگہ منافع نہیں دیکھنا چاہیے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ میں جس دن ان غریب بچوں کو پکا سا کھانا کھلا دیتا ہوں، مجھے لگتا ہے رب کے ہاں میری نمازیں قبول ہو رہی ہیں۔"اس نے بات کے دوران اپنی بڑی دیگ کی طرف اشارہ کیا جس میں سے لذیذ خوشبو اُٹھ رہی تھی۔ دیگ کے اندر ہلکی ہلکی سی چھوٹی بوٹیاں بھی نظر آرہی تھیں، جو بچوں کی آس تھی۔ کہنے لگا:"یہ چھوٹی چھوٹی بوٹیاں بچّوں کے لیے ہی رکھتا ہوں۔ اگر میں ہر چیز کو نفع اور نقصان کے ترازو پر تولوں گا تو دل کا سکون کھو دوں گا۔"ایک لمحہ کو مجھے لگا جیسے وقت تھم سا گیا ہے۔ اطراف کی شور شرابے سے بھری دنیا، مہنگائی کا رونا روتے دکاندار، بڑوں کی طنزیہ باتیں، سب کچھ پس منظر میں چلا گیا۔ سامنے بس ایک ہنستا مسکراتا بچہ نظر آیا جسے امیدِ زندگی کی ایک کرن مل گئی تھی۔مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ بچہ آہستہ آہستہ اپنے شاپر کو سنبھالتا ہوا وہاں سے چل پڑا۔ میں نے ارادہ کیا کہ دیکھوں تو سہی کہ وہ کہاں جاتا ہے۔ میں چپکے سے اُس کا پیچھا کرنے لگا۔ تھوڑی دُور جا کر وہ گھِسے ہوئے جوتوں کے ساتھ ایک تنگ و تاریک گلی میں داخل ہو گیا۔ وہاں چاروں طرف پرانی اور شکستہ دیواریں تھیں۔ قدم قدم پر گندگی کے ڈھیر اور بکھرا ہوا کچرا۔ مگر اُس بچے کی رفتار میں تیزی تھی، جیسے اُسے جلدی ہو کہ کہیں کوئی انتظار کر رہا ہو۔کچھ فاصلے پر جا کر اُس نے ایک بوسیدہ لکڑی کا دروازہ دھکیلا جو چرچراتے ہوئے کھلا۔ اندر جھانک کر دیکھا تو وہاں ایک چھوٹا سا صحن تھا، جس کے کنارے پر ایک نہایت ضعیف خاتون زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی، اور ایک نحیف و نزار سی لڑکی تھی جو شاید بچّے کی چھوٹی بہن تھی۔ اُن کی نظریں دروازے پر تھیں کہ جیسے کسی معجزے کے انتظار میں ہوں۔بچہ اندر داخل ہوا تو ضعیف خاتون نے پوچھا:"تم لے آئے؟"وہ بچہ خوشی سے شاپر لہرایا اور مسکراتے ہوئے گویا ہوا:"ہاں دادی، لے آیا! دیکھو، دو بوٹیاں بھی ہیں اس میں!"دادی نے مغموم مگر پُرسکون نگاہوں سے اُسے دیکھا۔ یوں لگا جیسے انھیں یقین نہ آیا ہو کہ دس روپے میں یہ سب کچھ ممکن ہے۔ بچّی نے اونچی آواز میں سبحان اللہ کہہ کر شاپر کو ایک دم تھام لیا۔ پھر دادی نے لرزتے ہاتھوں سے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا:"بڑا کروبار کرے وہ پلاؤ والا! جب تک جیے گا، خوشیاں ہی دے گا۔"اچانک گلی میں اُس پلاؤ والے کی ریڑھی کی گھنٹی کی آواز مجھے دور سے سنائی دی۔ مجھے خیال آیا کہ شام ڈھل رہی ہے اور شاید وہ ریڑھی والا کسی دوسرے علاقے میں جا رہا ہوگا۔ میں نے دل میں ایک خوشی کی لہر محسوس کی کہ چلیں کم از کم ایک ایسی جگہ تو ہے جہاں مہنگائی کی آندھی انسانیت کی شمع کو بجھا نہ سکی۔یہاں کہانی کو مزید تجسس نے اُس وقت گھیرا جب میں نے دوسری طرف سے کسی پُراسرار سایے کی جھلک محسوس کی۔ گلی کے ویران گوشے میں ایک آدمی تاریکی میں رُکا ہوا تھا۔ اس نے مجھے محسوس کرلیا کہ میں اس گھر کے اندر جھانک رہا ہوں۔ اُس کی نگاہیں مجھ پر جمی تھیں۔ مجھے ڈر سا محسوس ہوا کہ شاید وہ کوئی نوسرباز یا کوئی ایسا شخص ہو جو معصوم بچوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ دل میں خوف نے گھر کیا اور میں نے ہچکچاہٹ سے قدم پیچھے ہٹائے۔پھر اس کے قدم بھی ہلے۔ وہ سایہ دار شخص دھیرے دھیرے میری طرف بڑھنے لگا۔ میں ہمت مجتمع کر کے کھڑا رہا، مبادا کسی برا کام کرنے والے کو موقع نہ دوں۔ جب وہ میرے قریب آیا تو ایک باریش بوڑھا نکلا، جس کی آنکھوں میں نمی اور آواز میں تھرتھراہٹ تھی:"بیٹا جی، ڈرئیے مت، میں ان بچوں کو جانتا ہوں۔ اُن کے ماں باپ کو بہت پہلے کھو چکے ہیں۔ میں بوسیدہ مکانوں میں پھیری لگا کر چھوٹی موٹی چیزیں بیچتا ہوں اور کبھی کبھار اِن کی چادر، کپڑے کے لئے مدد کر دیتا ہوں۔ بس لوگ دیکھ کر بھی دیکھتے نہیں، نظر انداز کر دیتے ہیں۔"میں نے سکون کی سانس لی۔ اس نے مجھے بتایا کہ پلاؤ والے کی ریڑھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ وہ اکثر شام کے وقت اِن گلیوں سے ہو کر جاتا ہے، اور جن لوگوں کے پاس چند سکے بھی نہیں ہوتے، انہیں وہ کبھی کبھی مفت بھی کھانا دے جاتا ہے۔ وہ بوڑھا آدمی نمناک لہجے میں کہنے لگا:"یہ بچہ روز کسی نہ کسی طرح چند روپے جمع کر کے آتا ہے، تاکہ اپنی دادی اور بہن کے ساتھ کھانا بانٹ سکے۔"اُس بوڑھے نے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی ٹوپی ٹھیک کی اور آہستہ آہستہ واپس اندھیرے میں لوٹ گیا۔ میں وہیں کھڑا بے یقینی سے سب سوچتا رہا۔ دنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں جو معمولی عمل کو عظیم صدقہ بنا سکتے ہیں، مگر اکثر ہم صرف منافع کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔شام مزید ڈھل چکی تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے آسمان پر جھومتے بادلوں کے درمیان ایک چھوٹی سی چاندنی پھوٹ رہی ہے جس نے گلی کے اوپر مدھم سی روشنی بکھیر دی ہے۔ میں نے ایک بار پھر اُس پُلاؤ والے کی طرف دیکھنے کی کوشش کی تو وہ جا چکا تھا۔ لیکن اس کی آواز، اُس کے دیگ کے کھولتے چاولوں کی خوشبو، اُس کی مسکراہٹ اور بچوں کے معصوم چہروں کی وہ لمحاتی خوشی جیسے میری روح میں بس گئی۔یہ سارے مناظر زہن کے پردے پر رک گئے تھے۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ زندگی کی اصل قیمت کسی بڑے سرمائے، کسی نفع نقصان سے نہیں جُڑی، بلکہ یہ اِس بات سے جُڑی ہے کہ ہم اپنے حصے کا پیار اور سکون دوسروں تک کس طرح بانٹ سکتے ہیں۔ شاید ہمارے اردگرد کتنے ہی بچے ہوں گے جو دس روپے تو کیا، اکثر نوالے سے بھی محروم ہیں۔ یہ پُلاؤ والا اس گھٹن زدہ دور میں ایک ایسی شمع کی طرح تھا جو خدا کی محبت کا پیغام پھیلا رہا ہے۔میں نے ایک گہری سانس لی اور آہستہ آہستہ وہاں سے نکل گیا۔ میری نگاہوں کے سامنے بار بار اس بچّے کا چہرہ آتا، جو دس روپے ہاتھ میں دبائے ہوئے ڈرا ڈرا سا آیا، اور ایک محبت بھرا شاپر لے کر پورے اعتماد کے ساتھ لوٹا۔ اس لمحے مجھے یقین ہوگیا کہ سچ میں، بعض لوگوں کے دل ’چاول بیچنے‘ کی مشین نہیں، بلکہ دوسروں کو سہارا دینے والے جذبوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ وہ جذبے جو ہمیں اندھیرے میں روشنی دکھاتے ہیں اور کسی پلاؤ کی خوشبو سے بھی بڑھ کر ہمارے وجود کو خوشیوں سے مہکا دیتے ہیں۔اس طویل دن کے بعد جب رات آئی تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کہیں دور سے کسی بچے کی ہنسی گونج رہی ہو، اور اس کے پیچھے ایک کرم کرنے والی ہستی کی آواز:"بچّوں کے لیے کیسی مہنگائی؟ بچّے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔"یہی آواز اُس پُلاؤ والے کا حقیقی پیغام تھی، جو شاید ہمارے سماج میں امیدِ نو کی علامت ہے۔
جشن عید الفطر آپ ، ہم اور اقوام عالم کو ڈھیروں ساری خوشیاں مبارک ۔انجنیئر جئدیو مھیشوری بیورو چیف بی بی سی پاکستان ۔ BBC PK
اپنی خوشیاں بھول جا، سب کا درد خرید ،"سیفی" تب کہیں جاکر ، تیری ہوگی عید۔عید کا مبارک دن خوشی ، محبت ، امن و بھائی چارگی اور سلامتی کا درس دیتا ہے ۔ عید محض رسم نہیں، عید احساسات کا میلہ ہے ، جہاں خوشیاں ہی خوشیاں بکھیری جاتی ہیں، جہاں ہمیں آپس کے چھوٹے چھوٹے تنازعات ، رنجشیں بھلا کر ،کھلے دل اور خندہ پیشانی سے معاف کرکے تمام تر محبت سے ایک دوسرے کو گلے لگا کر جام محبت بھرنے کا دن ہے ۔آج کے بابرکت اور مقدس تہوار پر ہمیں اپنے بزرگوں سے ، اپنی بہنوں اور بیٹیوں سے, مسکینوں و نادار اورمصیبتوں میں مبتلا لوگوں میں امید کے چراغ روشن کرنے ہیں ، ان کے غم کو اپنا غم سمجھ کر امید کی کرن روشن ، اعتماد اور عقیدت کے پھول نچھاور کرنے ہیں۔ ہمیں یگانیت ، شعور اور استحکام کی شمع جلائے رکھنا ہے ۔ خداوند تعالٰی ہم سب کو ہمت حوصلہ ،جذبہ اور ایمانی طاقت عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین ۔پیارے وطن پاکستان ۔۔۔۔سندھ میں ہمیشہ کی طرح عید کا تہوار روایتی جوش و خروش ، جذبے و امنگ ، رنگ و ترنگ ، احترام و والہانہ عقیدت اور خوشی و سعادت سے منایا جا رہا ہے۔ سندھ کے شہروں ، گاؤں اور قصبوں میں ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے اور بڑے اجتماعات کی صورت میں نماز عید ادا کی گئی ، پیارے ملک و ملت کی ترقی اور ترویج ، خوشحالی اور بقا ، باہمی امن ، اخلاص اور بھائی چارے کے لیئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں ۔ بزرگان ، بچے ، نوجوان ، رفیق اور رقیب اس مقدس تہوار پر بلا تفریق ایک دوسرے کو گلے لگایا اور خوشی کا اظہار کیا ۔ کراچی میں کروڑوں لوگوں نے عید کا تہوار روایتی جوش و جذبے سے منا رہے ہیں۔ اپنے پیاروں سے ملکر عید کی خوشیاں اور رونقیں بکھیر کر عید کے جشن کو چار چاند لگا دیئے ہیں بمصداق* آئی چمن میں بہار*۔حیدرآباد میں بھی عید کا جشن اور میلے کا سماں ہے ،*ایک عید ، مختلف انداز رنگ* لوگ جامشورو بئراج اور کوٹری بیراج پر عید اجتماع کی صورت میں عید کی خوشیوں سے سرشار بھی ہیں تو سندھو ماتا کی خشک سالی اور سندھو دریا پر 06 نئےکینالز کے معاملے پر سراپا احتجاج اور نالاں بھی ہیں۔ لوگوں ان سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف سندھو ماتا سے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے سندھو دریا (کوٹری) کے کنارے کشتیوں میں عید نماز اداکر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور ملک اور سندھ کی خوشحالی کے لیئے اجتماعی طور پر بار گاھ ایزدی میں دعائیں مانگی گئیں ۔ نوابشاھ/ شہید بینظیر آباد میں بھی عید کے مقدس دن کی خوشیاں مبارک روبہ عروج پر ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی اپنے آبائی علاقے میں عید نماز ادا کی اور عوام الناس سے محبت اور خوشی کا اظہار کیا ۔سندھ کے دیگر علاقوں کی طرح سکھر ، لاڑکانہ گھوٹکی ، کندھکوٹ ، جیکب آباد ، شکارپور ، کشمور ، دادو ،نوشہرو فیروز ، سیوھن شریف، مورو، بدین، ٹنڈو محمد خان ، ٹنڈوالہ یار ، ٹھٹہ، مٹھی ، اسلام کوٹ میں بھی عید میلے کا جشن جوک در جوک پر ہے۔خیرپور/پیر گوٹھ میں حروں کے روحانی پیشوا پیر صاحب پگارا نے اپنے مریدین کو زیارت کا شرف بخشا اور ملک و ملت کی ترقی و ترویج کےلئے اجتماعی دعائیں مانگی گئیں ۔ عمرکوٹ تھرپارکر کے علاقوں میں بھی سندھی قوم جاگ اٹھی ۔عید نماز کے بعد متنازع کینال منصوبے اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف شہر۔شہر میں اجتماعی مظاہرے کیئے گئے اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور سندھ کے استحصال کا الزام لگایا ۔میرپورخاص میں بھی میرپورخاص کی مرکزی عید گاہ کھار پاڑہ میں عید نماز اداکر کرنے کے بعد عبدالرحمان پنہور اور ان کے معصوم بچوں سمیت دیگر شہریوں نے سندھو دریا پر 06 کینالز نکالنے اور کارپوریٹ سیکٹر میں فارمنگ کے خلاف پلے کارڈز ہاتھوں میں اٹھاکر بھرپور احتجاج کیا ۔
اتوار، 30 مارچ، 2025
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی عید الفطر کے بابرکت موقع پر پوری پاکستانی قوم کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی مبارکباد۔"اللہ تعالیٰ ہمیں اس بابرکت دن کے حقیقی پیغام کو سمجھنے اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین “~ وزیرِ اعظم BBC PK
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی عید الفطر کے بابرکت موقع پر پوری پاکستانی قوم کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی مبارکباد۔
"اللہ تعالیٰ ہمیں اس بابرکت دن کے حقیقی پیغام کو سمجھنے اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین “
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
NEWS HEADLINES BBC PAKISTAN NEWS DIGITAL URDU ENGLISH
*خبروں کی تفصیل* *بدھ 25 ذیقعدہ1447ھ* *13 مئی 2026ء* ایران، ہرمُز کی حدود بڑھا دی، حملہ ہوا تو یورینیم افزودگی 90 فیصد کردینگے، تہران، یقین...
-
مسیحا کھلاڑی بن گئے، یہ ڈاکٹر ہیں یا جلاد؟ یہ لاہور کا لیڈی ولنگٹن ہسپتال ہے جس میں مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے جبکہ ڈاک...
-
تحریر بقلم، ، کے بی عباسی مضمون، حافظ قرآن حماد واصف ڈیلی بی بی سی نیوز پاک یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم اور بے پایاں احسا...
-
خبروں کی تفصیل ہفتہ 15 شوال المکرم 1447ھ 4 اپریل 2026ء *پٹرول 80 روپے سستا، قیمت 378، عوام کو ریلیف ایک ماہ کیلئے ہوگا، وزراء تنخواہیں 6 ماہ...