منگل، 1 جولائی، 2025

اگرچہ آج کے دور میں حجاز میں اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کا اثر و رسوخ دکھائی نہیں دیتا لیکن بہت سے مؤرخین کے مطابق اسلام کے دو مقدس ترین شہروں یعنی مکہ اور مدینہ میں مسیحیوں اور یہودیوں کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ BBC PK News

مکہ اور مدینہ میں آباد طاقتور یہودی اور مسیحی قبائل کا عروج و زوال: مسلمانوں کے مقدس ترین شہر اسلام سے قبل کیسے تھے؟
مكة المكرمة والكعبة والمسجد الحرام. صورة طُبعت عام ١٧٩٠ في باريس،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنبہت سے مورخین کے مطابق، اسلام کے دو مقدس ترین شہروں مکہ اور مدینہ میں مسیحیت اور یہودیت کی تاریخ بہت قدیم ہے
مضمون کی تفصیل
مصنف,امیمہ الشزلی

اگرچہ آج کے دور میں حجاز میں اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کا اثر و رسوخ دکھائی نہیں دیتا لیکن بہت سے مؤرخین کے مطابق اسلام کے دو مقدس ترین شہروں یعنی مکہ اور مدینہ میں مسیحیوں اور یہودیوں کی تاریخ بہت قدیم ہے۔

بیت لحم میں حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے کم از کم پانچ صدیوں قبل بھی عرب باشندے یہودیت کے بارے میں علم رکھتے تھے۔



بائبل کے پرانے عہد نامے میں لکھا ہے کہ شمعونوں کے قبیلے چراگاہ کی تلاش میں اپنے مویشیوں کے ساتھ کوہ سینا کی سرزمین کی جانب گئے یہاں تک کہ وہ ماعان قبائل (موجودہ جنوبی اُردن) کی سرزمین پہنچ گئے۔ وہاں ان قبائل کی جنگ ہوئی جس کا اختتام شمعونوں کی فتح کے ساتھ ہوا۔

شمعون حضرت یعقوب کے بیٹوں میں سے ایک تھے اور اُن کی نسل کو ’شمعون کے بیٹے‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

راٹھی نندلال ڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی ڈیلی بی بی سی پاک نیوز بھالوہ کے رہائشی ربنواز خاصخیلی، جو خون کے سریان (بلڈ کینسر) جیسے موذی مرض میں مبتلا ہے BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal

، ان کے علاج کے لیے ڈاکٹروں نے 65 لاکھ روپے کے اخراجات بتائے تو اس غریب کے پاس اتنی بڑی رقم کہاں سے لاۓاس کے بعد نوجوان سیاسی و سماجی رہنما شاہنواز خاصخیلی نے تھرپارکر مٹھی کے ایوانِ صحافت سے مدد کے لیے رابطہ کیا۔تفصیلات :-مسلسل اخبارات میں خبریں شائع ہونے کے بعد، بلاول ہاؤس میڈیا سیل کے انچارج اور انسان دوست شخصیت سرینندر ولاسائی صاحب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپیل کی گئی، جسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے سرینندر ولاسائی اور کنور لال ولاسائی کی بے لوث کاوشوں سے سندھ حکومت کی جانب سے 65 لاکھ روپے کا چیک جاری کروایا گیا۔ربنواز اس وقت ڈاؤ اسپتال کراچی میں زیر علاج ہے، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ اللہ پاک اسے جلد مکمل صحتیابی عطا فرمائے۔اس کے بھائی شاہنواز خاصخیلی نے بلاول ہاؤس میڈیا سیل کے انچارج، انسان دوست سرینندر ولاسائی اور ایوانِ صحافت تھرپارکر @ مٹھی رجسٹرڈ کی مدد پر تھ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔

*☑️ اہم خبروں کا خلاصہ**BBC PK News Islamabad

🔵(1) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی دھمکی، حکومت ہمیں مجبور کر رہی ہے کہ ہم اپنا کاروبار بند کر کہ ملک گیر ہڑتال کی طرف چلے جائیں، ٹرانسپورٹرز رہنماؤں سے مشاورت کے بعد بڑا فیصلہ کریں گے۔ صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ملک شہزاد اعوان کا بیان**🟢(2) حکومت پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ واپس لے، صدر آل پاکستان انجمن تاجران، بجلی گیس کے بلوں نے عوام کا بھرکس نکال دیا، وزیروں اور مشیروں کا مفت گیس، مفت بجلی، مفت پیٹرول کے علاوہ بجلی اور گیس چوری کا بوجھ بھی عوام پر ہے، اب ایک ہی حل ہے عوام گھر چھوڑ کر سڑکوں پر بیٹھ جائے، اجمل بلوچ**🔴(3) پاکستان اور بھارت کا سفارتی ذرائع سے جیلوں میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ، حکومت پاکستان نے 246 بھارتی قیدیوں کی فہرست ہائی کمیشن اسلام آباد کے نمائندے کے حوالے کی، بھارت نے 463 پاکستانی قیدیوں کی فہرست پاکستان کے ہائی کمیشن، نئی دہلی کے ایک سفارت کار کے ساتھ شیئر کی ہے**⚫(4) کراچی: بارش کے بعد ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ، ایک شخص جاں بحق، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال صرف کراچی سے ملیریا کے 547 اور ڈینگی کے 260 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ روان برس سندھ سے 65 ہزار 116 افراد ملیریا اور 295 افراد ڈینگی کا شکار ہوئے، حکام**🟠(5) ’مقامی نالوں کے پانی سے دریا میں بہاؤ بڑھا‘، سانحہ سوات پر شواہد انکوائری کمیٹی کو جمع، پرایگزیکٹو انجینئر وقار شاہ نے بتایا کہ ‘ساڑھے 9 بجے تک مینگورہ بائی پاس پر صورتحال نارمل تھی، سیاح بھی جس وقت دریا میں اترے اس وقت صورتحال نارمل تھی، ڈوبنے والے سیاح دریا میں سیلفیاں لے رہے تھے‘۔**ایگزیکٹو انجینئر محکمہ آبپاشی نے انکوائری کمیٹی کو بتایا کہ 10 بجےکے بعد منگلا ور نالہ، مالم جبہ نالہ، سوخ درہ نالہ اور مٹہ نالہ کا پانی دریائے سوات میں آیا، خوازہ خیلہ گیمن بریج سے 26 ہزار کیوسک پانی پونے 11 بجے واقعے کی جگہ پر پہنچا، مقامی نالوں کے پانی سے دریا میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا جس سےسیاح بہہ گئے‘ ۔ؔ**🟣(6) فہیم سردار قتل کیس کے 2 ملزمان گرفتار، کیس منطقی انجام تک پہنچ گیا: اسلام آباد پولیس**معاشی و دفاعی تجزیہ کار سردار فہیم قتل کیس میں 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ آئی جی اسلام آباد کے مطابق ملزمان ڈکیتی کی نیت سے گھر میں داخل ہوئے، ملزمان نے سردار فہیم کو مزاحمت کے دوران لوہے کی سلاخ سے مارا۔**انہوں نے مزید کہا کہ سردار فہیم کا قتل ٹیسٹ کیس تھا ، 6 دنوں میں ہم نے سردار فہیم قتل کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا*

’میری بہن رانیہ نے مجھے ایک ٹیکسٹ میسج بھیجا جس میں اس نے کہا کہ مجھے لگتا ہے ہم میں سے کوئی مرنے والا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ رب کو یاد کرو اور آیات پڑھو۔۔۔‘ اور اگلے دن بمباری میں رانیہ اور اس کے بچے مارے گئے۔ BBC PK News

غزہ میں مرنے والوں کے لواحقین جو اپنے پیاروں کے آخری الفاظ دل سے لگائے زندہ ہیں: ’میں جواب نہ بھی دوں تو پھر بھی مجھ سے بات کرنا‘
غزہ،تصویر
مضمون کی تفصیل
مصنف,سوزانا قوس
عہدہ,بی بی سی نیوز، عربی
BBC PK News 
غزہ میں سورج غروب ہوتے وقت بھی بمباری کی آوازوں سنائی دے رہی ہیں اور ایسے میں وہ لوگ، اپنے ان پیاروں کی اپنے ساتھ آخری بار ہونے والی گفتگو یا جملے یاد کر رہے ہیں جو اس جنگ کے دوران لقمہ اجل بن گئے۔

زندگی کی ڈور ٹوٹنے سے پہلے ادا کیے جانے والے الفاظ اب پیچھے رہ جانے والوں کے لیے سرمایہ حیات ہیں۔

فلسطینی صحافی واد ابو ظہیر نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک سوال پوسٹ کیا جس میں انھوں نے پوچھا کہ ’مرنے سے پہلے انھوں نے آپ سے آخری جملہ کیا کہا تھا؟

اپنے نقصان کا بوجھ ظاہر کرتے اس سوال کے جوابات دل کو چیرنے والے ہیں۔ جوابات نے ان لوگوں کا ایک دستاویزی ریکارڈ فراہم کیا جنھوں نے جنگ میں اپنے پیاروں، رشتہ داروں یا دوستوں کو کھو دیا۔

ذیشان ظہیر کے چچا کفایت اللہ بلوچ کے مطابق ’بڑا بیٹے ہونے کے ناطے میرے بھتیجے کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ اُن کے والد بازیاب ہو کر آئیں اور دیکھیں کہ اُن کا بیٹا جوان ہو چکا ہے۔۔۔ لیکن والد کی بازیابی سے پہلے ہی وہ نہ صرف خود جبری گمشدگی کا شکار ہوا بلکہ لاپتہ ہونے کے چند گھنٹے بعد اُس کی لاش بھی مل گئی BBC PK News Quaeta Report



پنجگور سے ’اغوا‘ ہونے والے 20 سالہ ذیشان ظہیر کی لاش برآمد: ’والد کی بازیابی سے پہلے بیٹے کی اپنی لاش مل گئی‘
ذیشان ظہیر،تصویر کا ذریعہGulzar Dost
،تصویر کا کیپشن20 سالہ ذیشان ظہیر فٹبال کے اچھے کھلاڑی تھے اور میچ سے واپسی پر مبینہ طور اغوا کیا گیا تھا
مضمون کی تفصیل
مصنف,محمد کاظم

’بڑا بیٹے ہونے کے ناطے میرے بھتیجے کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ اُن کے والد بازیاب ہو کر آئیں اور یہ دیکھیں کہ وہ اُن کا بیٹا جوان ہو چکا ہے۔۔۔ لیکن اُس کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی کیونکہ والد کی بازیابی سے پہلے ہی وہ نہ صرف خود جبری گمشدگی کا شکار ہوا بلکہ لاپتہ ہونے کے چند گھنٹے بعد اُس کی لاش بھی مل گئی۔‘

یہ کہانی بلوچستان کے سرحدی ضلع پنجگور سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ نوجوان ذیشان ظہیر کی ہے جو اتوار کی شب پہلے لاپتہ ہوئے اور اس کے دس گھنٹے بعد اُن کی لاش ملی۔

ذیشان ظہیر کے چچا کفایت اللہ بلوچ نے اپنے بھتیجے کی موت کو پورے خاندان کے لیے ’گہرا صدمہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا خاندان پہلے ہی ذیشان کے والد کی طویل عرصے سے جبری گمشدگی کے باعث ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار تھا۔‘



انھوں نے دعویٰ کیا کہ ذیشان کو مبینہ طور پر دو گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے اتوار کی شام اُس وقت اٹھایا جب وہ فٹبال کا میچ کھیلنے کے بعد واپس گھر کی جانب آ رہے تھے۔


ذیشان ظہیر
پنجگور سے ’اغوا‘ ہونے والے 20 سالہ ذیشان ظہیر کی لاش برآمد: ’والد کی بازیابی سے پہلے بیٹے کی اپنی لاش مل گئی‘
rafi
ڈاکٹر رفیع محمد چودھری: پاکستانی ایٹمی پروگرام کے ’حقیقی خالق‘ جو نہرو کی پیشکش ٹھکرا کر پاکستان چلے آئے
تصویر
15 برسوں میں ایک ارب مسافروں کو منزل پر پہنچانے والا ’787 ڈریم لائنر‘: ’محفوظ ترین‘ سمجھے جانے کے باوجود اس طیارے سے متعلق خدشات کیوں ہیں؟
getty
نئے حکومتی ٹیکس کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 8.36 روپے کا اضافہ: ’ایک طرف ریلیف ملتا ہے تو دوسری طرف کچھ نا کچھ مہنگا ہو جاتا ہے‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی پولیس کے مطابق ذیشان ظہیر کو سٹی پولیس سٹیشن کی حدود سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا تاہم ان کی لاش دس گھنٹے بعد وشبود پولیس سٹیشن کی حدود سے ملی تھی۔

سٹی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او شہزاد احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ جس روز ذیشان کو اغوا کیا گیا تھا، اُسی روز اُن کے مبینہ اغوا کی ایف آئی آر درج کر لی گئی تھی۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ اُن کی لاش اب دوسرے تھانے کی حدود سے ملی ہے اس لیے قتل کے دفعات بھی اب اسی ایف آئی آر میں شامل کی جائیں گی۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ذیشان کے اغوا اور ہلاکت کے واقعات کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ذیشان ظہیر کون تھے؟
تصویر،تصویر کا ذریعہCourtesy Gulzar Dost
،تصویر کا کیپشنذیشان ظہیر کے والد 2015 سے لاپتہ ہیں
ذیشان ظہیر کا تعلق پنجگور شہر سے تھا اور وہ خدابادان کے رہائشی تھے۔

اہلخانہ کے مطابق اُن کی عمر 20 سال کے لگ بھگ تھی اور وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔

اُن کے چچا کفایت اللہ بلوچ کے مطابق ’ذیشان نے گریجویشن کی تھی اور وہ اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے پنجگور یونیورسٹی میں داخلے کے لیے کوشاں تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جس روز ذیشان کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا اس روز وہ فٹبال کا میچ کھیل کر آ رہے تھے۔ ’فٹبال نہ صرف اُس کا پسندیدہ کھیل تھا بلکہ اس کا شمار پنجگور کے اچھے کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔‘

کفایت اللہ نے دعویٰ کیا کہ ’ذیشان ظہیر کے والد ظہیر احمد کو 2015 میں مبینہ طور پر جبری گمشدگی کے شکار ہوئے تھے اور تاحال لاپتہ ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ذیشان ظہیر کو کمسنی میں ہی والد کی مبینہ جبری گمشدگی کے باعث خاندان کی کفالت کا بوجھ اٹھانا پڑا جس کے باعث انھوں نے محکمہ زراعت میں ملازمت اختیار کر لی تھی۔

’لاش ملنے کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا‘
کفایت اللہ بلوچ نے بتایا کہ کہ ذیشان ظہیر اتوار کو اپنی ٹیم کے ساتھ میچ کھیلنے کے لیے گئے تھے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میچ سے واپسی کے بعد ذیشان دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ گھر کی جانب آ رہے تھے جب نیوان ندی کے علاقے میں دو گاڑیاں آئیں اور ان سے اترنے والے مسلح نقاب پوش افراد نے مبینہ طور پر بندوق کی نوک پر انھیں ایک گاڑی میں بٹھایا اور نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ مسلح افراد نقاب پوش تھے اس لیے ذیشان کے ساتھ جو دوسرے کھلاڑی اور لوگ تھے وہ ان کو پہچان نہیں سکے۔ ان کو اٹھائے جانے کے بعد ان کی جبری گمشدگی کے خلاف سٹی پولیس سٹیشن میں درخواست دی گئی تھی اور ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی۔‘

سٹی پولس سٹیشن کے ایس ایچ او شہزاد احمد نے بتایا کہ ذیشان کے مبینہ اغوا کا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 57/2025 کے تحت درج کیا گیا تھا۔

اسد اللہ مینگل: بلوچستان کا ’پہلا جبری لاپتہ‘ نوجوان جس کی موت تاحال ایک معمہ ہے
6 فروری 2021
’میری امی آدھی بیوہ کی طرح زندگی گزار رہی ہیں‘
2 مار چ 2021
لاپتہ پیاروں کی متلاشی بلوچ خواتین: ’دل سے ڈر ختم ہو چکا، بس کسی بھی طرح ہمیں اپنے بھائیوں کو واپس لانا ہے‘
21 مار چ 2025
بلوچستان کے لاپتہ افراد: ’بھائی اور بھتیجے کی گمشدگی کا غم اتنا ہے کہ اب ہمیں خوشی یاد نہیں‘
30 اگست 2023
چچا کفایت اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’ذیشان کی جبری گمشدگی کے واقعے کے فوراً بعد شاہراہ پر احتجاجی دھرنا شروع کیا گیا تاکہ اُن کی بروقت بازیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم پیر کی صبح احتجاجی دھرنے کے دوران یہ اطلاع ملی کی مبینہ طور پر ذیشان کی تشدد زدہ لاش ملی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’لاش ملنے کی اطلاع کے بعد احتجاجی دھرنا ختم کر دیا گیا کیونکہ یہ دھرنا ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے دیا جا رہا تھا لیکن حکومت اور انتظامیہ ان کی بحفاظت بازیابی یقینی نہیں بنا سکے جس کے بعد اس دھرنے کا فائدہ نہیں تھا۔‘

’والد کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوتے تھے‘
Social Media،تصویر کا ذریعہSocial Media
،تصویر کا کیپشن ظہیر احمد

کفایت اللہ بلوچ نے بتایا کہ ذیشان کے والد ظہیر احمد اُن کے چھوٹے بھائی تھے جنھیں سنہ 2015 میں مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ ظہیر احمد پنجگور میں پی پی پی ایچ آئی میں ملازم تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ظہیر احمد کی بازیابی کے لیے پُرامن احتجاج کے علاوہ وفاقی حکومت کی جانب سے جبری گمشدگیوں سے متعلق جو کمیشن بنایا گیا ہے اس میں بھی درخواست دی گئی تھی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ابتداً ظہیر کا مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا تھا مگر اندازاً چار سال بعد کمیشن کے حکم پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔‘

کفایت اللہ بلوچ نے بتایا کہ والد کی بازیابی کے لیے ذیشان بہت زیادہ متحرک تو نہیں تھے تاہم جب بھی پنجگور میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوئی احتجاج ہوتا تھا تو وہ والد کی تصویر لے کر اس میں شریک ضرور ہوتے تھے۔

سول سوسائٹی تربت کے کوآرڈینیٹر گلزار دوست بلوچ نے دعویٰ کیا کہ ’ذیشان ظہیر اس لانگ مارچ میں شامل تھے جو تربت سے اسلام آباد تک لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’مارچ کے شرکا پر سوراب اور اسلام آباد میں جو لاٹھی چارج کیا گیا ان میں نہ صرف وہ زخمی ہوئے بلکہ سوراب میں تو بے ہوش بھی ہو گئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ والد کی بازیابی کے لیے ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ہر مظاہرے اور احتجاج میں شریک ہوں۔

کفایت اللہ بلوچ نے کہا کہ ’ہمارے خاندان کو ظلم اور بے انصافی کا نشانہ بنایا گیا ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں جو کہ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔‘

پولیس نے اب تک کیا کارروائی کی ہے؟
اس واقعے اور اس سے متعلق تحقیقات کے بارے میں جاننے کے لیے پنجگور پولیس کے سربراہ آصف فراز مستوئی سے موبائل فون پر متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی تاہم تادمِ تحریر انھوں نے نہ کال وصول کی اور نہ ہی میسیجز کا جواب دیا۔

تاہم وشبود پولیس سٹیشن، جس کی حدود سے ذیشان کی لاش برآمد ہوئی تھی، کے ایس ایچ او ظہیر بلوچ نے بتایا کہ ’ذیشان کی لاش پیر کی صبح سات بجے سوردو کے علاقے سے برآمد کی گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ ان کی موت مبینہ طور پر گولیاں لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن ان کی لاش کے قریب سے گولیوں کے خول نہیں ملے جس کا مطلب یہ ہے کہ نامعلوم افراد نے ان کو کہیں اور گولی ماری اور اس کے بعد ان کی لاش کو لاکر اس علاقے میں پھینک دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں یہ معلوم ہوا کہ ان کو چھ سے سات گولیاں ماری گئی تھیں اور یہ تمام گولیان ان کو سینے میں ماری گئی تھیں۔‘

ایس ایچ او کے مطابق چونکہ ان کے اغوا کا واقعہ سٹی پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا تھا اس لیے وہاں ان کے قتل کا مقدمہ درج ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے اغوا اور قتل کے بارے میں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔


پیر، 30 جون، 2025

پاکستان میں حکومت نے گذشتہ رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے 36 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ BBC PK News Islamabad Report Mian khudabukhsh Abbasi

نئے حکومتی ٹیکس کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 8.36 روپے کا اضافہ: ’ایک طرف ریلیف ملتا ہے تو دوسری طرف کچھ نا کچھ مہنگا ہو جاتا ہے‘
پاکستان میں حکومت نے گذشتہ رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے 36 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 266 روپے 79 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

اس ضمن میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق فوری طور پر ہو گیا ہے۔

دنیا بھر سے تازہ ترین خبریں اب آپ کے واٹس ایپ پر! بی بی سی اردو واٹس ایپ چینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں

ایران اور اسرائیل کی بیچ 12 روزہ تنازع کے دوران دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں خوب ہلچل مچی تھی۔


15 برسوں میں ایک ارب مسافروں کو منزل پر پہنچانے والا ’787 ڈریم لائنر‘: ’محفوظ ترین‘ سمجھے جانے کے باوجود اس طیارے سے متعلق خدشات کیوں ہیں؟
shahbaz sharif
سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد شہباز شریف حکومت کے ہاتھ کتنے مضبوط ہوئے ہیں؟
لاہور ایمیشن ٹیسٹنگ، گاڑیاں، دھواں
لاہور میں چلنے والی گاڑیوں کا دُھواں چیک کرنے کا حکومتی منصوبہ کیا ہے اور یہ کتنا قابل عمل ہے؟
کولہاپوری
’400 روپے کے جوتے ایک لاکھ میں بیچ رہے ہیں‘: معروف کمپنی پرادا کی نئی ’کولہاپوری‘ چپلوں پر تنازع کیوں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
13 جون کو جب اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تو عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا جو تقریباً 12 فیصد تک بڑھ کر 74 ڈالر سے 78 ڈالر فی بیرل کے درمیان پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بڑی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔

تاہم اگلے چند دنوں میں جب یہ واضح ہوا کہ جنگ کے باوجود سپلائی لائنز بحال ہیں اور آبنائے ہرمز بند نہیں ہوئی، تو تیل کی قیمتیں کم ہونے لگیں۔ 24 جون کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکی خام تیل ( ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں تقریباً چھ فیصد کمی ہوئی اور یہ تقریباً 64.37 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بھی 6.1 فیصد کم ہو کر 67.14 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جو جنگ سے پہلے والی سطح کے قریب تھی اور آج 30 جون 2025 کو برینٹ آئل کی قیمت 67.61 ڈالر فی بیرل ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات پاکستان میں بھی فوراً محسوس کیے گئے اور پاکستان کی حکومت نے ایران اسرائیل تنازعے کے آغاز کے بعد 15 جون کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ جس میں پیٹرول کی قیمت میں چار روپے 80 پیسے اورڈیزل کی قیمت میں سات روپے 95 پیسے تک کا اضافہ شامل تھا۔

ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ کیا ہے؟
پیٹرولیم مصنوعات کی قیموں میں حالیہ اضافے کی وجوہات کے متعلق معاشی، بجٹ امور اور آئی ایم ایف پروگرام پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی شہباز رانا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کی دو وجوہات بتائی ہیں۔

ان کے مطابق اس کی پہلی وجہ ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں جب تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس دوران پاکستان نے جو سودے کیے، اس کے اثرات عوام کو منتقل کیے گئے ہیں۔

دوسرا حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل پر لگایا جانے والا ایک نیا ٹیکس ہے جو ڈھائی روپے فی لیٹر ہے۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے مالی سال 2025–26 میں فی لیٹر ڈھائی روپے کاربن لیوی (ماحولیاتی ٹیکس) پیٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کا اطلاق اب کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق یہ کاربن لیوی پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان طے پانے والے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 1.4 ارب ڈالر کے ماحولیاتی تحفظ کے قرض کا حصہ ہے۔

شہباز رانا کے مطابق اس کے علاوہ روپے کی قدر میں ہونے والی کمی کے اثرات بھی اس کی ایک وجہ ہیں۔

گوادر کے ماہی گیر، مہنگا ایرانی تیل اور سمگلنگ: ایران اور اسرائیل کی جنگ نے بلوچستان میں لوگوں کو کیسے متاثر کیا؟
26 جون 2025
سستا تیل اور اہم تجارتی روٹ: چین مشرقِ وسطیٰ میں کھلی جنگ کی صورت میں اپنے اہم پارٹنر ایران کے لیے کیا کر سکتا ہے؟
21 جون 2025
اسرائیل، ایران اور تیل: آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو کیا ہو گا؟
16 جون 2025
ایران، اسرائیل کشیدگی دنیا بھر میں ایندھن سمیت گھریلو اخراجات کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
21 جون 2025
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر 15 روز بعد کیا جاتا ہے۔ ان 15 دنوں کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کی اوسط کو بنیاد بنا کر ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر مصنوعات کی قیمتیں مقرر کی جاتی ہیں۔

شہباز رانا کے مطابق عمومی طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کو بیس پرائس کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اس بیس پرائس پر حکومت کی جانب سے کسٹم ڈیوٹی عائد کی جاتی ہے، جس پر مزید پیٹرولیم لیوی لاگو ہوتی ہے جو اس وقت 78 روپے فی لیٹر ہے۔ اب اس کے ساتھ نئی کلائیمنٹ سپورٹ لیوی بھی لگا دی گئی ہے

ان کے مطابق ’اس کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے اپنے منافع کا مارجن بھی شامل کیا جاتا ہے اور ان تمام عناصر کو مدِنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی حتمی قیمت طے کی جاتی ہے۔'

شہباز رانا نے بتایا کہ حکومت ان قیمتوں کا حساب لگا کر اوگرا کو بھیجتی ہے جہاں سے نوٹیفیکشین جاری ہوتا ہے۔

’ایک طرف سے عوام کو ریلیف ملتا ہے تو دوسری طرف حکومت کوئی نہ کوئی مہنگی چیز کر دیتی ہے‘
سوشل میڈیا پر صارفین حکومت کے اس فیصلے پر خاصی تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔

صحافی عاصمہ شیرازی نے ایکس پر تبصرہ کیا ’پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناقابل قبول بلکہ قابل مذمت ہے۔۔۔ مہنگائی کی لہر میں اضافہ پہلے سے پسی عوام کی کمر توڑ دے گا۔‘

فیض احمد نامی صارف نے ایکس پر لکھا ’اگر ایک طرف سے عوام کو ریلیف ملتا ہے تو دوسری طرف حکومت کوئی نہ کوئی مہنگی چیز کر دیتی ہے۔۔ ایک طرف پیٹرول مہنگا دوسری طرف بجلی پر ریلیف۔‘

خالد حسین تاج نے ایکس پر لکھا کہ ’عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر سے کم ہو کر 66 ڈالرفی بیرل ہو گئی ہے۔ یہ غریب عوام پر ظلم ہے یہ اضافہ فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔‘

ڈاکٹر شاہ جہاں کے مطابق ’حکومت مسلسل پیٹرول کی قیمتیں بڑھا رہی ہے جبکہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ کیا انھیں واقعی کوئی پرواہ ہے؟ یا اب ’نیا پاکستان‘ میں زندہ رہنا بھی ایک عیاشی بن چکا ہے؟‘

متعلقہ عنوانات
معیشت
تیل و گیس کی صنعت
پاکستان
افراطِ زر
اخراجاتِ زندگی
اسی بارے میں
تیل
گوادر کے ماہی گیر، مہنگا ایرانی تیل اور سمگلنگ: ایران اور اسرائیل کی جنگ نے بلوچستان میں لوگوں کو کیسے متاثر کیا؟

ہرمز
اسرائیل، ایران اور تیل: آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو کیا ہو گا؟

تیل کی قیمت
ایران، اسرائیل کشیدگی دنیا بھر میں ایندھن سمیت گھریلو اخراجات کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

خامنه‌ ای و موسوی
اسرائیلی حملوں میں فوجی قیادت کی ہلاکتوں پر ’انتقام‘ کا اعلان: ایران کے نئے فوجی کمانڈر کون ہیں؟

تہران
’یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘: ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد بی بی سی نے تہران میں کیا دیکھا؟
اہم خبریں
لائیو,امریکی حملے میں ’تباہ‘ ہونے والی ایرانی جوہری تنصیب ’فردو‘ کی تازہ سیٹلائٹ تصاویر میں بھاری مشینری کی موجودگی کی تصدیق
نئے حکومتی ٹیکس کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 8.36 روپے کا اضافہ: ’ایک طرف ریلیف ملتا ہے تو دوسری طرف کچھ نا کچھ مہنگا ہو جاتا ہے‘

15 برسوں میں ایک ارب مسافروں کو منزل پر پہنچانے والا ’787 ڈریم لائنر‘: ’محفوظ ترین‘ سمجھے جانے کے باوجود اس طیارے سے متعلق خدشات کیوں ہیں؟

فیچر اور تجزیے
لکسس ہنزہ، عطا آباد جھیل
جب سیلابی ریلے نے عطا آباد جھیل کنارے ہوٹل کا رُخ کیا: ’راستے میں موجود گاڑیاں پھنس گئیں، لوگ اندر محصور ہو گئے تھے‘

پاکستان کے دریا
سندھ طاس معاہدے کی معطلی: پاکستان اور انڈیا کے بیچ اس تنازع پر ثالثی عدالت کے فیصلے کا کیا مطلب ہے؟
2
خان
’خطروں کا سوداگر‘: پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام ایران کے جوہری پروگرام سے کیوں جوڑا جاتا ہے؟

پیرس اور انگلستان کی سو سالہ جنگ 
کڑھائی والے پرس اور بُرج پر بے وفائی: فرانس کا شاہی سکینڈل جو انگلستان کے ساتھ سو سالہ جنگ کی وجہ بنا

مقبول خبریں
1
15 برسوں میں ایک ارب مسافروں کو منزل پر پہنچانے والا ’787 ڈریم لائنر‘: ’محفوظ ترین‘ سمجھے جانے کے باوجود اس طیارے سے متعلق خدشات کیوں ہیں؟
2
سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد شہباز شریف حکومت کے ہاتھ کتنے مضبوط ہوئے ہیں؟
3
لاہور میں چلنے والی گاڑیوں کا دُھواں چیک کرنے کا حکومتی منصوبہ کیا ہے اور یہ کتنا قابل عمل ہے؟
4
’400 روپے کے جوتے ایک لاکھ میں بیچ رہے ہیں‘: معروف کمپنی پرادا کی نئی ’کولہاپوری‘ چپلوں پر تنازع کیوں؟
5
انڈین دفاعی اتاشی کا ’سیاسی رکاوٹوں‘ کی وجہ سے ’چند طیارے کھونے‘ کا اعتراف: ’مودی حکومت نے شروع ہی سے قوم کو گمراہ کیا‘
6
امتیاز علی: ’ادھوری محبتیں‘ فلمانے والے ہدایتکار جن کی فلمیں لوگوں کو دیر سے سمجھ آتی ہیں
7
دبئی میں ہوٹل سے غائب ہونے والے برطانوی شہری کے ایئرپوڈز پنجاب پولیس نے جہلم سے کیسے برآمد کیے؟
8
توہینِ مذہب کے مقدمات اور ایف آئی اے پر عدالت کا اعتراض: ’ادارے خود ہی قانون میں درج ضابطہ کار کا احترام نہیں کرتے‘
9
ریجیم چینج سے سلطنتوں کے قبرستان تک: مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے معاملات میں مداخلت امریکہ کو عموماً مہنگی کیوں پڑتی ہے؟
10
نئے حکومتی ٹیکس کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 8.36 روپے کا اضافہ: ’ایک طرف ریلیف ملتا ہے تو دوسری طرف کچھ نا کچھ مہنگا ہو جاتا ہے‘
BBC PK News 

*☑️ اس کارروائی کو آپ غیر جانبدارانہ سمجھتے ہیں یا انتقامی کارروائی؟**👈غیر جانبدارانہ کارروائی ❤️👍**👈انتقامی کارروائی 👎🙏**🔴دریائے سوات کےکنارے تجاوزات کیخلاف آپریشن، وفاقی وزیرامیر مقام کےہوٹل کی باؤنڈری وال مسمار*دریائے سوات کے کنارے تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران وفاقی وزیر امیر مقام کے ہوٹل کی باؤنڈری وال گرادی گئی۔سانحہ سوات کے بعد دریا کے کنارے تجاوزات کےخلاف آپریشن دوسرے روزبھی جاری رہا۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب تک 26 ہوٹل اور ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے۔ متاثرہ فیملی نے دریا کےکنارے جس ہوٹل پر ناشتہ کیا تھا وہ ہوٹل بھی گرادیا ہے۔ تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران وفاقی وزیر امیر مقام کے ہوٹل کی باؤنڈری وال گرادی گئی۔ ہوٹل ملازمین کی مداخلت کے باعث ہوٹل گرانے کا کام روک دیا گیا۔ امیر مقام کا کہنا ہےکہ ان کے پاس بلڈنگ کا این اوسی موجود ہے، ان کا ہوٹل تجاوزات میں نہیں آتا، صوبائی حکومت کی ایما پر میرے ہوٹل کی چار دیواری گرائی گئی۔انتظامیہ کا کہنا ہےکہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کا مقصد سیاحوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔*BBC PK News Swat Report

*☑️ اس کارروائی کو آپ غیر جانبدارانہ سمجھتے ہیں یا انتقامی کارروائی؟**👈غیر جانبدارانہ کارروائی ❤️👍**👈انتقامی کارروائی 👎🙏**🔴دریائے سوات کےکنارے تجاوزات کیخلاف آپریشن، وفاقی وزیرامیر مقام کےہوٹل کی باؤنڈری وال مسمار*دریائے سوات کے کنارے تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران وفاقی وزیر امیر مقام کے ہوٹل کی باؤنڈری وال گرادی گئی۔سانحہ سوات کے بعد دریا کے کنارے تجاوزات کےخلاف آپریشن دوسرے روزبھی جاری رہا۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب تک 26 ہوٹل اور ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے۔ متاثرہ فیملی نے دریا کےکنارے جس ہوٹل پر ناشتہ کیا تھا وہ ہوٹل بھی گرادیا ہے۔ تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران وفاقی وزیر امیر مقام کے ہوٹل کی باؤنڈری وال گرادی گئی۔ ہوٹل ملازمین کی مداخلت کے باعث ہوٹل گرانے کا کام روک دیا گیا۔ امیر مقام کا کہنا ہےکہ ان کے پاس بلڈنگ کا این اوسی موجود ہے، ان کا ہوٹل تجاوزات میں نہیں آتا، صوبائی حکومت کی ایما پر میرے ہوٹل کی چار دیواری گرائی گئی۔انتظامیہ کا کہنا ہےکہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کا مقصد سیاحوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔*

*💫News Details**Monday 20th Shaban 1447 AH**February 9, 2026💫*

غزہ بورڈ اجلاس، پاکستان شریک ہوگا، وزیراعظم کا واشنگٹن جانے کا قوی امکان، نمائندگی کا حتمی فیصلہ جلد، مشاورت شروع ٹی 20 ورلڈکپ، ...