Daily Bbc Pakistan: Deliver Latest news breaking news urdu news current news,top headlines in urdu from Pakistan, world, sports, Business, Cricket, Politics and Weather,
پیر، 30 جون، 2025
راٹھی نندلالڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی ڈیلی بی بی سی پاک نیوزتفصیلات :-تھرپارکر کے گاؤں سیڏیو میں ایجوکیشن ورکس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پرائمری اسکول کی مرمت کافر کام جگاڑ طریقے سے کی جا رہی ہے۔ BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal
اسکول کی عمارت کی بنیاد مکمل طور پر تباھ ہو چکی ہے، لیکن اس کی درست مرمت کے بجائے اسی پر لینٹر ڈالنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ لینٹر کی بنیادی مرمت کرنے کے بجائے لینٹر کافر لوہا نظر آ رہا ہے پھر بھی اس کے اوپر سیمنٹ لگا کر کام چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ سیمینٹ نہ ہونے کے برابر کام اور غیر معیاری ہے بلکہ خطرناک بھی۔ جو کہ کبھی بھی بچوں کے لیۓ خطرناک ثابت ہو سکھتا ہےعمارت کی بنیاد میں لگایا گیا سریا زنگ لگنے کی وجہ سے مکمل طور پر خراب ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود مرمت کی بجائے صرف سطحی کام کیا جا رہا ہے۔ایک جعلسازی کو چھپانے کے لیے ایک اور جعلسازی کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قبول نہیں۔ یہ بچوں کے مستقبل، ان کی جانوں کی تحفظ، تعليمي ماحول سے ناانصافي ہے۔ کچھ تو بچوں کے مستقبل کا سوچو اورنج کبھی آپ کے بچوں کے ساتھ ہو سکھتا ہے خدارا خدا کافر خوف کرو
راٹھی نندلال ڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز ڈیپلو: ڈیپلو کی یونین کونسل بھاڈور کے چیئرمین نیبراج میگھواڑ کے خلاف گاؤں چھہو کے رہائشیوں نے شدید احتجاج کیا۔ BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal
احتجاج کرنے والوں میں کیول رام میگھواڑ، نند لال میگھواڑ، دھنجی میگھواڑ، ساجن میگھواڑ اور ارجن میگھواڑ شامل تھے۔مظاہرین نے چیئرمین یونین کونسل بھاڈور نیبراج میگھواڑ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ چیئرمین نے ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کے گھروں پر حملے بھی کروائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سالوں سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔متاثرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی فریاد ڈاکٹر کٹومل جیون، ایم پی اے ارباب لطف اللہ اور ارباب امان اللہ تک بھی پہنچائی، مگر تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی، جس کے بعد وہ احتجاج پر مجبور ہوئے۔مظاہرین نے اپنے حلقے کے منتخب نمائندے ارباب لطف اللہ اور ایس ایس پی تھرپارکر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔
راٹھی نندلالڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھیڈیلی بی بی سی پاک نیوز ڈیپلو: رات دیر گئے نامعلوم چور ٹاور کی تاریں اور بیٹری چوری کرکے موٹر سائیکل پر فرار، گارڈ کی نظر پڑنے پر تعاقب کے دوران سامان چھوڑ کر فرار تفصیلات : BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal
ڈیپلو سے اطلاعات کے مطابق، رات دیر گئے دو نامعلوم افراد ایک ٹاور سے بیٹری اور تاریں چوری کرکے موٹر سائیکل پر فرار ہو رہے تھے۔ گل محمد نامی شخص نے بتایا کہ وہ اور اس کے ساتھی آروکی ٹاور پر تیل دے کر واپس گاؤں جا رہے تھے کہ دیوھار کے قریب دو افراد موٹر سائیکل پر کٹے میں سامان لے جاتے دکھائی دیے۔روکنے کی کوشش پر وہ رفتار تیز کرکے بھاگنے لگے۔ تعاقب کرنے پر چور ڈیڍھ سڑھ اسٹاپ کے قریب موٹر سائیکل اور سامان چھوڑ کر فرار ہوگئے۔تاحال یہ معلوم نہ ہو سکا ہے کہ چوری کیا گیا سامان کس ٹاور سے تعلق رکھتا ہے۔ کوئی تفصیل نا مل سکھی ان کے علاوہ تھر کے کئی علائقوں سے موبائل ٹاور کی وارداتیں ہو رہی ہیں لیکن کوئی ایکشن نہیں لے رہا ہے
راٹھی نندلالڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی ڈیلی بی بی سی پاک نیوزتھرپارکر کی ضلعی کونسل کا سالانہ بجٹ اجلاس مکمل ہوا، جس میں 75 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔تفصیلات : BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal
تاہم، صورتحال یہ ہے کہ تھرپارکر کی ضلعی کونسل میں منتخب نمائندے پورے سال میں صرف ایک بار اجلاس کرتے ہیں اور بغیر کسی سوال و جواب، مشاورت یا بحث کے بجٹ کی منظوری دے کر اجلاس ختم کر دیتے ہیں۔ بجٹ کے علاوہ پورے سال نہ تو کوئی اجلاس ہوتا ہے، نہ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ کروڑوں روپے کی یہ رقم کہاں اور کیسے خرچ ہو رہی ہے۔ عوام کو نہ کوئی فائدہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی انہیں اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ان کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے یہ رقم استعمال ہو بھی رہی ہے یا نہیں۔ہر سال کی طرح اس بار بھی بجٹ کو محض "ثمر پمپ" لگانے کے نام پر خرچ کرنے کا ذکر ہے، اور کسی بھی کونسل ممبر نے اس پر کوئی بات تک نہیں کی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پانی کی اسکیموں پر گزشتہ کئی برسوں میں سرکاری و غیر سرکاری ادارے اربوں روپے خرچ کر چکے ہیں، مگر زمینی سطح پر بہتری کہیں نظر نہیں آتی۔پانی یقیناً اہم ضرورت ہے، لیکن دیہی علاقوں میں دیگر بنیادی سہولیات بھی درکار ہیں جیسے تعلیم، صحت، سڑکیں، بجلی، صفائی وغیرہ۔ ان شعبوں پر بھی ضلعی کونسل کا بجٹ خرچ ہونا چاہیے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی نمائندوں کا اجلاس ہر ماہ منعقد کیا جائے اور بجٹ خرچ کرنے کی مکمل تفصیلات نہ صرف نمائندوں بلکہ عوام کے سامنے بھی پیش کی جائیں۔ کیونکہ ضلعی کونسل کا اصل مقصد یہی ہے کہ دیہات اور یونین کونسل کی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لیے جو سالانہ کروڑوں روپے کی رقم دی جاتی ہے، وہ عوامی فلاح پر خرچ ہو اور اس کے نتائج بھی واضح ہوں۔آخر میں سوال یہ ہے کہ 75 کروڑ روپے کی اس خطیر رقم کا کیا استعمال ہوگا؟ اگر آپ کسی بھی ممبر سے یہ پوچھیں کہ بجٹ کہاں خرچ ہوگا تو ان کے پاس اس کا کوئی واضح جواب نہیں ہوگا، کیونکہ نہ کوئی ماہانہ اجلاس ہوتا ہے، نہ کوئی اسکیموں کا ذکر، اور نہ ہی شفافیت کی کوئی صورت موجود ہے۔
اتوار، 29 جون، 2025
اس کہانی کی ابتدا لگ بھگ ایک سال قبل دبئی میں اُس وقت ہوئی جب برطانوی شہری کے ایئر پوڈز ایک ہوٹل سے غائب ہوئے۔ ’365 دن کے انتظار اور برطانیہ سے پاکستان تک 2,700 میل کا سفر طے کرنے کے بعد مجھے ایئر پوڈز واپس مل گئے ہیں۔‘ BBC PK News
،تصویر کا کیپشنبرطانوی شہری لارڈ مائلز اپنے آئی پوڈز پاکستانی میڈیا کو دکھاتے ہوئے
مضمون کی تفصیل
مصنف,محمد زبیر خان
عہدہ,صحافی
دستیاب سُراغ صرف ایئرپوڈز کی لوکیشن کا تھا اور ڈھونڈنے کے لیے سارا شہر۔۔۔
اس کہانی کی ابتدا دبئی میں لگ بھگ ایک سال قبل اُس وقت ہوئی جب ایک برطانوی شہری مائلز کے ایئر پوڈز ایک ہوٹل سے غائب ہو گئے اور ایک سال بعد اُن کی لوکیشن پاکستان میں صوبہ پنجاب کے شہر جہلم میں پائی گئی۔
مائلز نے اپنی ڈیوائس حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی حکومت اور پنجاب پولیس سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے ذریعے رابطہ کیا۔ پنجاب پولیس کی جانب سے ایک انوکھی ترکیب اپنائی گئی اور مائلز نے اپنے پسندید ایئرپوڈز لینے کے لیے خود 2700 کلومیٹر کا سفر کر کے پاکستان آنے کی ٹھانی۔
لیکن یہ ایئر پوڈز جہلم شہر تک کیسے پہنچے اور پولیس نے ان کا سراغ کیسے لگایا؟ بی بی سی نے اس تحریر میں جہلم کی پولیس اور یہ ایئرپوڈز دبئی سے پاکستان لانے والے باریک بینی سے تلاش کا کام کیا گیا‘
جہلم کے ڈسڑکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) طارق عزیز کہتے ہیں کہ برطانوی شہری مائلز کی جانب سے چند دن قبل پنجاب پولیس، جہلم پولیس اور حکومت پاکستان کو ایکس پر ٹیگ کر کے کہا گیا تھا کہ اُن کے دبئی میں گُم ہونے والے ایئر پوڈ اِس وقت پاکستان کے شہر جہلم میں موجود ہیں۔
طارق عزیز کے مطابق ’اس پر جہلم پولیس نے ایکس ہی پر اُن سے رابطہ قائم کیا اور ان سے مزید معلومات حاصل کی گئیں۔‘
طارق عزیز کہتے ہیں کہ ’مائلز ابتدائی طور پر تو جہلم کی لوکیشن بتا رہے تھے۔ ان سے وہ لوکیشن حاصل کر کے خود جدید طریقے سے تفتیش کی گئی۔ ایک دفعہ جب لوکیشن سمجھ میں آ گئی تو اس وقت لوکیشن پر موجود ہزاروں افراد سے انٹرویو اور تلاش کا کام ممکن نہیں تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایئر پوڈ مبینہ طور پر دبئی میں گم یا چوری ہوئے تھے۔ پولیس نے مزید ٹریکنگ کا کام کیا اور ایک مخصوص آبادی کی نشان دہی ہوئی کہ اس مقام پر ایئر پوڈز ہو سکتے ہیں۔۔۔ اس کے بعد ہم نے انسانی ذرائع استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
طارق عزیز کہتے ہیں کہ ’ایک خصوصی تفتیشی ٹیم کو ٹاسک سونپا گیا کہ وہ اس مخصوص علاقے میں پتا کریں کہ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں کون کون دبئی سے واپس آیا ہے۔ ان لوگوں کے نام، پتے حاصل کر کے ان سے انٹرویو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔‘شخص سے بھی تفصیل سے بات کی ہے۔ایئر پوڈز خریدے گئے تھے‘
طارق عزیز کہتے ہیں کہ ’مخصوص لوکیشن میں سے جو لوگ دبئی سے آئے تھے انھوں نے اس بات سے انکار کیا کہ ان کے پاس ایئر پوڈز موجود ہیں۔ مگر جب ہماری تفتیش کے مطابق مرتب کردہ فہرست میں دبئی سے واپس آنے والے آخری شخص سے بات ہوئی تو انھوں نے ایئر پوڈز کی بات سنتے ہی ایک دم کہا کہ انھوں نے دبئی سے ایئر پوڈز خریدے تھے۔‘
پولیس کے مطابق اُس شخص نے ’خریداری کا ثبوت بھی دکھایا اور یہ بھی بتایا کہ انھوں نے کس سے اسے خریدا تھا۔ پولیس نے خریداری کے یہ سارے ثبوت مائلز کو دکھائے، جس کے بعد مائلز نے خود ہی ایکس پر پوسٹ کر دیا کہ ان کے ایئر پوڈز مل گئے ہیں۔‘
طارق عزیز کا کہنا تھا کہ ’جس شخص سے یہ ایئر پوڈز ملے جب انھوں نے برطانوی شہری مائلز کی انھیں تلاش کرنے کی کہانی سنی تو وہ مسکرائے اور یہ ایئر پوڈز رضاکارانہ طور پر یہ کہتے ہوئے ہمارے حوالے کر دیے کہ اگر ایک شخص ایئر پوڈز کے لیے اتنا جذباتی ہو رہا ہے تو انھیں یہ واپس کرتے ہوئے خوشی ہو گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے دوبارہ مائلز سے رابطہ قائم کیا اور انھیں کہا کہ اگر وہ چاہیں تو پولیس ان کے لیے کسی کوریئر سروس کے ذریعے یہ ایئرپوڈز واپس پہنچا سکتی ہے مگر انھوں نے انکار کیا اور کہا کہ وہ خود لینے آئیں گے اور پھر وہ جہلم ہمارے دفتر آئے۔‘
’سوچا نہیں تھا کہ ایک حیرت انگیز کہانی کا حصہ بنوں گا‘
مائلز کے ایئر پوڈز رضاکارانہ طور پرر واپس کرنے والے پاکستانی شہری حالیہ دنوں میں چھٹیاں گزارنے جہلم آئے تھے اور واپس جانے سے ایک دن پہلے انھوں نے یہ ایئر پوڈز پولیس کو دیے۔
مذکورہ پاکستانی اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب مجھے پتا چلا کہ دبئی سے خریدے گئے ایئرپوڈز برطانوی شہری کے ہیں اور وہ اِن کو پانے کے لیے بہت بے تاب ہیں تو اس وقت میں بہت پریشان ہوا کہ کہیں مجھ پر اس کی چوری کا الزام نہ لگ جائے۔‘
’مگر شکر ہے کہ میرے پاس ایسے ثبوت موجود تھے کہ یہ میں نے خریدے تھے۔ میں نے یہ ثبوت پولیس کے حوالے کر دیے۔‘
راٹھی نندلالڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھیڈیلی بی بی سی پاک نیوزتھر منشیات کا گڑھ بن چکا ہے کمسن بچے ۔نوجوان اور خواتین میں چھوٹی لڑکیوں جیسے نشے کے عادی ہونے پر مجبور ہو گۓ ہیں تفصلات : BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal
تھرپارکر ضلعہ میں ایک بار پھر سے سفینا گٹکے جیسے زہریلے نشے کی کھلے عام فروخت کی زد میں آف گیا ہے مٹھی ۔اسلامکوٹ۔ چھاچھرو ۔ ننگرپارکر سمیت مختلف شہروں میں سفینا۔ آداب۔گٹکے جیسے کئی مین پڑیاں گندگی سے بھرپور زہر کافر کاروبار زور و شور سے جاری ہے جہاں کمسن بچے نوجوان طلبہ اور خواتین بھی اس گندے مہلک نشے کی لپیٹ میں آف چکے ہیں ذرائع کافر کہنا ہے کہ مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے کی رشوت کے عیوض منشیات فروشوں کو ضلع بھر میں کھلے عام گٹکا ۔ مین پوری ۔سفینا ۔ آداب کیف فروخت کیف اجازت دی گئی ہے اطلاعت کے مطابق منشیات فروشوں نے شہروں کے مختلف علاقائوں میں سفینا اورنج آداب گٹکے کا بھاری مقدار ذخیرہ اندوز کر رکھا ہےجہاں سے یہ زیر ضلع بھر میں با آسانی سے سپلائی کیا جا رہا ہے بتایا جا رہا کہ منشیات فروش خمیسو سومرو کے قائم شدہ بندوں کے ذریعے یہ کام جاری ہے جو کہ تمام بھاری رشوت کے عیوض تھرپارکر کے نوجوانوں کو کینسر جیسے موذی مرض کے عادی ہونے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ڈاکٹروں کا کہناڃا ہے کہ تھرپارکر ظلع منہ کے کینسر کے بڑھتے ہوۓ کیسز کی بڑی وجہ اس گٹکہ سفینا اور آداب ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ محکمہ ایکسائیز ۔ نارکوٹکس ۔ اور ایس ایس پی تھرپارکر نےولی خاموشی اختیار کیوں کر رکھی ہے علاقے میں منشیات فروش اللہ کی نعمت دی انسانی زندگیاں تباہ کرنیں کے پیچھے کیوں ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس کیوں نظر آرہے ہیں
راٹھی نندلالڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھیڈیلی بی بی سی پاک نیوز مٹھی: ریجنل ڈائریکٹر محتسب اعلی میرپورخاص محمد عمر پنہور حادثہ میں بال بال بچ گئے , وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے ۔تفصیلات: مٹھی : BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal
ریجنل ڈائریکٹر محتسب اعلیٰ میرپورخاص، جناب محمد عمر پنهور صاحب آج مورخہ 29 جون 2025 کو دادو سے مٹھی جاتے ہوئے، خاڻوٺ کے قریب دو گاڑیوں کے درمیان آمنے سامنے کا ایکسیڈنٹ پیش آیا۔ربِ کریم کے فضل و کرم سے وہ اپنے گارڈ سمیت معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے، آمین۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
*💫News Details**Monday 20th Shaban 1447 AH**February 9, 2026💫*
غزہ بورڈ اجلاس، پاکستان شریک ہوگا، وزیراعظم کا واشنگٹن جانے کا قوی امکان، نمائندگی کا حتمی فیصلہ جلد، مشاورت شروع ٹی 20 ورلڈکپ، ...
-
عمرکوٹ: ضمنی انتخابات این اے 213 عمرکوٹ کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی امیدوار میڈم صبا یوسف تالپور 161934 ووٹ حاصل کر کے بھاری ...
-
بلوچستان کے ضلع زیارت سے 2 ماہ پہلے اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) محمد افضل اور اس کے بیٹے کو اغوا کاروں نے قتل کردیا۔لیوی...
-
پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ، ٹرمپ کی دعوت قبول، مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ، تعمیر نو ہوسکے گی، دفتر خارجہ ارکان پارل...