Daily Bbc Pakistan: Deliver Latest news breaking news urdu news current news,top headlines in urdu from Pakistan, world, sports, Business, Cricket, Politics and Weather,
پیر، 30 جون، 2025
راٹھی نندلال ڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی ڈیلی بی بی سی پاک نیوزتفصیلات :-مرحوم عبدالستار ولد چنيسر کی موت کے حوالے سے اصل حقائق سامنے آ چکے ہیں۔ گاؤں ڪاٺو بجیر میں ہونے والے جھگڑے کے دوران مرحوم پر خوف، ڈر اور ہنگامے کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ اسے بلڈ پریشر اور ذہنی دباؤ کے باعث دل کا دورہ پڑا، جو اس کی موت کا سبب بنا۔یہ واقعہ صرف ایک موت نہیں، بلکہ ایک غریب کے ساتھ ہونے والے ظلم اور جبر کی انتہا ہے۔ ستار ایک غریب، بے بس اور نیک دل نوجوان تھا، جس کا خوف ہی اس کی BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal
جان لے گیا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پولیس نے بھی اس معاملے کو دبا کر دفن کرنے کی کوشش کی۔ ستار مرحوم کا والد ایک نہایت غریب اور لاچار انسان ہے، اور اس کا دکھ اور درد کسی نے نہیں سُنا۔یہ نہایت افسوسناک حقیقت ہے کہ غریب کے لیے انصاف کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔ ہم اعلیٰ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیںجھگڑے میں ملوث تمام افراد کو ایف آئی آر میں شامل کیا جائےمتاثرہ خاندان اور غریب عوام کو انصاف فراہم کیا جائےسماجی کارکن: حافظ عبدالکریم بجیر
راٹھی نندلال ڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی ڈیلی بی بی سی پاک نیوزننگرپارکر: گاؤں ڊاڀو سمان میں بااثر افراد کی جانب سے سرکاری زمین پر قبضے کی کوشش، خواتین پر تشدد کے باوجود کوئی کارروائی نہیں تفصیلات : BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal
-آج شام ننگرپارکر کے گاؤں ڈاڀو سمان میں بااثر افراد کی جانب سے سرکاری زمین پر قبضے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران خواتین پر شدید تشدد کیا گیا، لیکن افسوسناک طور پر واقعے کے ذمے داروں کے خلاف تاحال کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔متاثرہ فریق کے افراد کئی گھنٹوں سے ڈانودندھل تھانے میں بیٹھے ہوئے ہیں اور انصاف کے منتظر ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایس ایچ او ڈانودندھل متاثرین کو صلح کے لیے مجبور کر رہا ہے بجائے اس کے کہ وہ مقدمہ درج کرے اور مجرموں کو گرفتار کرے۔یہ رویہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ سراسر ناانصافی بھی۔ واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبو ڪيو پيو وڃي۔ تھر میں ایسے واقعیات کبھی نہیں ہوتے تھے اس وقت تھر کے حالات خراب ہونے لگے ہیں
دفاعی بجٹ میں اضافہ، اخراجات بھی تو کم ہو سکتے تھے حکومت نے دفاعی بجٹ میں بیس فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے گزشتہ سال کے مقابلے میں 400 ارب روپے بڑھا دیا ہے، BBC PK News Islamabad Report Mian khudabukhsh Abbasi
تاہم بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ فوج غیر جنگی اخراجات میں کمی کر کے قومی خزانے پر بوجھ کم کر سکتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب حکومت نے دفاعی بجٹ میں بیس فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے گزشتہ سال کے مقابلے میں 400 ارب روپے بڑھا دیا ہے، بعض حلقوں کا یہ ماننا ہے کہ فوج اپنے غیر جنگی اخراجات میں کمی کر کے قومی خزانے پر بوجھ کم کر سکتی ہے۔یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کے بجٹ کا سب سے بڑا خرچ قرضوں پر سود کی ادائیگی ہے اور تقریباً 17 ہزار ارب روپے کے بجٹ میں سے آدھی رقم یعنی 8200 ارب روپے صرف سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتی ہے۔ اس کے بعد سب سے بڑا خرچ دفاعی بجٹ ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایسے مالی بحران کا شکار ملک کو غیر ترقیاتی اخراجات میں جہاں تک ممکن ہو، فوری طور پر کمی کرنی چاہیے۔پاکستان کا دفاعی بجٹ جو گزشتہ سال 2100 ارب روپے تھا، حالیہ بجٹ میں بڑھا کر تقریباً 2550 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ ماہرین، جو مسلح افواج کے نظام اور اخراجات سے واقف ہیں، کا کہنا ہے کہ فوج کے کچھ غیر جنگی اخراجات میں کمی کی گنجائش موجود ہے اور اسے اس پر توجہ دینی چاہیےراٹھی نندلال
ڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی
ڈیلی بی بی سی پاک نیوز
ڈیپلو تھانے کی حدود، گاؤں کاٺھو بجیر میں مبینہ قتل: پولیس کی مجرمانہ غفلت
تفصیلات :-
ڈیپلو تھانے کی حدود میں واقع گاؤں کاٺھو بجیر میں نوجوان عبدالستار ولد چنيسر بجیر کو مبینہ طور پر اس کے چچاؤں اور کزنز نے تشدد کر کے قتل کر دیا۔ واقعہ رات گئے پیش آیا، جہاں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نوجوان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور پھر قتل کو چھپانے کے لیے دل کا دورہ پڑنے کا ڈرامہ رچایا گیا۔
متوفی کا والد گزشتہ 20 برسوں سے بسترِ علالت پر ہے، جبکہ عبدالستار گزر بسر کے لیے مال چرایا کرتا تھا۔ الزام ہے کہ اس کے چچا نظام بجیر اور ان کے بیٹے عمران، کامران، عرفان، رضا اللہ اور ذکاء اللہ نے رات کے وقت عبدالستار پر حملہ کیا، اسے گھر سے باہر لے گئے، اور گلی میں اس کے حساس اعضا پر بہیمانہ تشدد کیا، جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
پولیس نے نہ صرف رات کو بلکہ اگلے دن بھی گاؤں آکر محض "اتفاقی موت" کے بیانات لیے، بغیر کسی تفتیش یا پوسٹ مارٹم کے واپس چلی گئی، اور لاش کو دفنانے کی اجازت بھی جلدی دے دی گئی۔
دیہی علاقوں میں معمولی تنازعات پر تشدد اور قتل جیسے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں، لیکن پولیس کی خاموشی اور نااہلی سے مجرموں کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں۔ کسی غریب بے سہارا کوئی نہیں
ایس ایس پی تھرپارکر سے پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس سنگین واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، اور کسی غیر جانبدار و فرض شناس افسر کے ذریعے شفاف تحقیقات کروائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آئیں اور مقتول کے ورثاء کو انصاف مل سکے۔
راٹھی نندلالڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی ڈیلی بی بی سی پاک نیوزتفصیلات :-تھرپارکر کے گاؤں سیڏیو میں ایجوکیشن ورکس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پرائمری اسکول کی مرمت کافر کام جگاڑ طریقے سے کی جا رہی ہے۔ BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal
اسکول کی عمارت کی بنیاد مکمل طور پر تباھ ہو چکی ہے، لیکن اس کی درست مرمت کے بجائے اسی پر لینٹر ڈالنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ لینٹر کی بنیادی مرمت کرنے کے بجائے لینٹر کافر لوہا نظر آ رہا ہے پھر بھی اس کے اوپر سیمنٹ لگا کر کام چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ سیمینٹ نہ ہونے کے برابر کام اور غیر معیاری ہے بلکہ خطرناک بھی۔ جو کہ کبھی بھی بچوں کے لیۓ خطرناک ثابت ہو سکھتا ہےعمارت کی بنیاد میں لگایا گیا سریا زنگ لگنے کی وجہ سے مکمل طور پر خراب ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود مرمت کی بجائے صرف سطحی کام کیا جا رہا ہے۔ایک جعلسازی کو چھپانے کے لیے ایک اور جعلسازی کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قبول نہیں۔ یہ بچوں کے مستقبل، ان کی جانوں کی تحفظ، تعليمي ماحول سے ناانصافي ہے۔ کچھ تو بچوں کے مستقبل کا سوچو اورنج کبھی آپ کے بچوں کے ساتھ ہو سکھتا ہے خدارا خدا کافر خوف کرو
راٹھی نندلال ڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز ڈیپلو: ڈیپلو کی یونین کونسل بھاڈور کے چیئرمین نیبراج میگھواڑ کے خلاف گاؤں چھہو کے رہائشیوں نے شدید احتجاج کیا۔ BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal
احتجاج کرنے والوں میں کیول رام میگھواڑ، نند لال میگھواڑ، دھنجی میگھواڑ، ساجن میگھواڑ اور ارجن میگھواڑ شامل تھے۔مظاہرین نے چیئرمین یونین کونسل بھاڈور نیبراج میگھواڑ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ چیئرمین نے ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کے گھروں پر حملے بھی کروائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سالوں سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔متاثرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی فریاد ڈاکٹر کٹومل جیون، ایم پی اے ارباب لطف اللہ اور ارباب امان اللہ تک بھی پہنچائی، مگر تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی، جس کے بعد وہ احتجاج پر مجبور ہوئے۔مظاہرین نے اپنے حلقے کے منتخب نمائندے ارباب لطف اللہ اور ایس ایس پی تھرپارکر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔
راٹھی نندلالڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھیڈیلی بی بی سی پاک نیوز ڈیپلو: رات دیر گئے نامعلوم چور ٹاور کی تاریں اور بیٹری چوری کرکے موٹر سائیکل پر فرار، گارڈ کی نظر پڑنے پر تعاقب کے دوران سامان چھوڑ کر فرار تفصیلات : BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal
ڈیپلو سے اطلاعات کے مطابق، رات دیر گئے دو نامعلوم افراد ایک ٹاور سے بیٹری اور تاریں چوری کرکے موٹر سائیکل پر فرار ہو رہے تھے۔ گل محمد نامی شخص نے بتایا کہ وہ اور اس کے ساتھی آروکی ٹاور پر تیل دے کر واپس گاؤں جا رہے تھے کہ دیوھار کے قریب دو افراد موٹر سائیکل پر کٹے میں سامان لے جاتے دکھائی دیے۔روکنے کی کوشش پر وہ رفتار تیز کرکے بھاگنے لگے۔ تعاقب کرنے پر چور ڈیڍھ سڑھ اسٹاپ کے قریب موٹر سائیکل اور سامان چھوڑ کر فرار ہوگئے۔تاحال یہ معلوم نہ ہو سکا ہے کہ چوری کیا گیا سامان کس ٹاور سے تعلق رکھتا ہے۔ کوئی تفصیل نا مل سکھی ان کے علاوہ تھر کے کئی علائقوں سے موبائل ٹاور کی وارداتیں ہو رہی ہیں لیکن کوئی ایکشن نہیں لے رہا ہے
راٹھی نندلالڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی ڈیلی بی بی سی پاک نیوزتھرپارکر کی ضلعی کونسل کا سالانہ بجٹ اجلاس مکمل ہوا، جس میں 75 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔تفصیلات : BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal
تاہم، صورتحال یہ ہے کہ تھرپارکر کی ضلعی کونسل میں منتخب نمائندے پورے سال میں صرف ایک بار اجلاس کرتے ہیں اور بغیر کسی سوال و جواب، مشاورت یا بحث کے بجٹ کی منظوری دے کر اجلاس ختم کر دیتے ہیں۔ بجٹ کے علاوہ پورے سال نہ تو کوئی اجلاس ہوتا ہے، نہ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ کروڑوں روپے کی یہ رقم کہاں اور کیسے خرچ ہو رہی ہے۔ عوام کو نہ کوئی فائدہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی انہیں اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ان کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے یہ رقم استعمال ہو بھی رہی ہے یا نہیں۔ہر سال کی طرح اس بار بھی بجٹ کو محض "ثمر پمپ" لگانے کے نام پر خرچ کرنے کا ذکر ہے، اور کسی بھی کونسل ممبر نے اس پر کوئی بات تک نہیں کی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پانی کی اسکیموں پر گزشتہ کئی برسوں میں سرکاری و غیر سرکاری ادارے اربوں روپے خرچ کر چکے ہیں، مگر زمینی سطح پر بہتری کہیں نظر نہیں آتی۔پانی یقیناً اہم ضرورت ہے، لیکن دیہی علاقوں میں دیگر بنیادی سہولیات بھی درکار ہیں جیسے تعلیم، صحت، سڑکیں، بجلی، صفائی وغیرہ۔ ان شعبوں پر بھی ضلعی کونسل کا بجٹ خرچ ہونا چاہیے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی نمائندوں کا اجلاس ہر ماہ منعقد کیا جائے اور بجٹ خرچ کرنے کی مکمل تفصیلات نہ صرف نمائندوں بلکہ عوام کے سامنے بھی پیش کی جائیں۔ کیونکہ ضلعی کونسل کا اصل مقصد یہی ہے کہ دیہات اور یونین کونسل کی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لیے جو سالانہ کروڑوں روپے کی رقم دی جاتی ہے، وہ عوامی فلاح پر خرچ ہو اور اس کے نتائج بھی واضح ہوں۔آخر میں سوال یہ ہے کہ 75 کروڑ روپے کی اس خطیر رقم کا کیا استعمال ہوگا؟ اگر آپ کسی بھی ممبر سے یہ پوچھیں کہ بجٹ کہاں خرچ ہوگا تو ان کے پاس اس کا کوئی واضح جواب نہیں ہوگا، کیونکہ نہ کوئی ماہانہ اجلاس ہوتا ہے، نہ کوئی اسکیموں کا ذکر، اور نہ ہی شفافیت کی کوئی صورت موجود ہے۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
News Headline Urdu Bbc Pakistan Digital News
*🛑 26 مارچ 2026 | بروز جمعرات | اہم خبروں کی جھلکیاں |* 🚨 (1) جنگ کا 27 واں روز؛ آبنائے ہرمز کو بند کرنے والے ایر_ان کے نیول چ...
-
عمرکوٹ: ضمنی انتخابات این اے 213 عمرکوٹ کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی امیدوار میڈم صبا یوسف تالپور 161934 ووٹ حاصل کر کے بھاری ...
-
تحریر بقلم، ، کے بی عباسی مضمون، حافظ قرآن حماد واصف ڈیلی بی بی سی نیوز پاک یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم اور بے پایاں احسا...
-
*پہلی خبر۔۔۔۔۔۔۔۔ آخری خبر* ملاحظہ فرمائیں ، آج کی شہ سرخیوں کے ساتھ ۔۔۔۔ کراچی میں اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف کریک ڈائون، تین پولیس ...